سید مصطفیٰ احمد
ازل سے یہ حقیقت تسلیم کی جاتی رہی ہے کہ جو چیزیں ہمیں بظاہر دکھائی دیتی ہیں، ضروری نہیں کہ حقیقت بھی وہی ہو۔ اکثر اوقات ظاہری چمک دمک کے پیچھے کئی پوشیدہ حقیقتیں چھپی ہوتی ہیں۔ ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی۔ کسی دریا کی سطح شفاف اور دلکش نظر آ سکتی ہے، مگر اس کی تہہ میں گندگی بھی موجود ہو سکتی ہے۔ جھیل کا صاف اور چمکتا ہوا پانی بھی انسان کو دھوکا دے سکتا ہے، کیونکہ اس کی گہرائی میں ایسی چیزیں چھپی ہو سکتی ہیں جو خوشگوار نہ ہوں۔
اسی طرح ایک خوش شکل اور خوش گفتار انسان کے دل میں درندگی بھی ہو سکتی ہے، جبکہ ایک سخت لہجے والا شخص نہایت نرم دل، مخلص اور خیر خواہ ہو سکتا ہے۔ ایک خوبصورت باغ میں زہریلی جھاڑیاں بھی اگ سکتی ہیں اور ایک ویران زمین میں رنگ برنگے خوبصورت پھول بھی کھل سکتے ہیں۔ اس لیے صرف ظاہری صورت پر اعتماد کرنا دانش مندی نہیں، بلکہ حقیقت تک پہنچنے کی کوشش ہی انسان کو صحیح فیصلہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔
اگر حقیقت یہی ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم چیزوں کو پرکھیں کیسے؟ وہ کون سے اصول اور پیمانے ہیں جن کی بنیاد پر ہم ظاہری صورت اور اصل حقیقت میں فرق کر سکیں؟ اگر ہم ہر معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کریں تو یقیناً بہت سی حقیقتیں ہمارے سامنے آشکار ہو سکتی ہیں۔ آئیے ان میں سے چند بنیادی اصولوں پر غور کریں۔
سب سے پہلے انسان کو اپنی منزل کا تعین کرنا چاہیے۔ اگر اس کی اصل منزل آخرت ہے تو وہ ہر چیز کو اسی زاویے سے دیکھے گا۔ وہ ہر شخص، ہر تعلق اور ہر شے کو اس معیار پر پرکھے گا کہ آیا یہ اسے اپنی اصل منزل کے قریب لے جا رہی ہے یا نہیں۔ کسی کی شیریں گفتگو یا دلکش انداز اسے متاثر نہیں کرے گا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ محض خوش کن الفاظ اس کی حقیقی کامیابی کی ضمانت نہیں۔ اگر کسی کا مقصد صرف دنیاوی مفاد ہے تو وہ اس کے لیے کشش کا باعث نہیں بنے گا، کیونکہ مومن دنیا سے فائدہ ضرور اٹھاتا ہے، مگر دنیا کو اپنا آخری مقصد نہیں بناتا۔ مادیت اس کی ضرورت ہو سکتی ہے، مگر اس کی منزل نہیں۔
سورج، چاند، پہاڑ، سرسبز وادیاں اور قدرت کے حسین مناظر اسی وقت اہم ہیں جب وہ انسان کو اپنے خالق کی یاد دلائیں اور اسے اس کی اصل منزل کی طرف متوجہ کریں۔ اگر وہ اس مقصد میں معاون نہ ہوں تو ان کی ظاہری خوبصورتی بھی بے معنی رہ جاتی ہے۔ بسا اوقات اندھیرا بھی روشنی سے زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے، اگر وہ انسان کو حق کی طرف لے جائے۔ اس لیے کسی چیز کی قدر و قیمت اس کے ظاہری حسن سے نہیں بلکہ اس مقصد سے متعین ہوتی ہے جس کی طرف وہ ہماری رہنمائی کرتی ہے۔
دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ زندگی کا اصل مقصد کیا ہے؟ کیا زندگی صرف بے فکری کے ساتھ لطف اندوز ہونے کا نام ہے، یا پھر اپنی تخلیق کے مقصد پر غور و فکر کرنے کا؟ جب انسان اس سوال پر سنجیدگی سے سوچتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ کے منصوبۂ تخلیق کے بہت سے راز کھلنے لگتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز کو انتہائی باریکی، توازن اور حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے تو ہمیں بھی ہر چیز کو گہری نظر سے دیکھنا چاہیے۔ مختلف قوموں کے اندازِ زندگی، ان کے نظریات، ان کی ترقی اور زوال پر غور کرنا انسان میں بصیرت پیدا کرتا ہے۔ جب زندگی کا مقصد محض تفریح نہیں بلکہ تدبر اور خود احتسابی بن جائے تو دنیا کی ظاہری چمک اپنی کشش کھونے لگتی ہے۔
تیسرا اصول یہ ہے کہ ہم چیزوں کی اصل حقیقت کو سمجھیں۔ اگر دنیا کی ہر چیز عارضی ہے تو اس سے دائمی محبت کیوں کی جائے؟ سورج، چاند، زمین اور کائنات کی ہر نعمت ایک مقررہ مدت کے لیے ہمیں عطا کی گئی ہے۔ ایک دن ایسا آئے گا جب یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ اس لیے عارضی چیزوں کو دائمی اہمیت دینا دانش مندی نہیں۔ جو چیز ہمیشہ رہنے والی ہے، اصل توجہ اور محبت اسی کی مستحق ہے۔ جب دنیا خود فانی ہے تو حق اور باطل، حقیقت اور فریب، اور دائمی و عارضی چیزوں کے درمیان فرق مٹانا کسی بھی عقل مند انسان کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔
آج کا انسان ظاہری چمک دمک، شہرت، دولت، سوشل میڈیا کی مقبولیت اور وقتی کامیابیوں سے اس قدر متاثر ہو چکا ہے کہ حقیقت تک پہنچنے کی زحمت ہی نہیں کرتا۔ نتیجتاً وہ اکثر دھوکے کو حقیقت، اور حقیقت کو دھوکہ سمجھ بیٹھتا ہے۔ یہی فکری غفلت فرد کی شخصیت کو کمزور اور معاشرے کو انتشار کا شکار بنا دیتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی عقل، شعور اور بصیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر شخص، ہر نظریے، ہر خبر اور ہر واقعے کو تحقیق اور تدبر کی کسوٹی پر پرکھیں۔ محض ظاہری دلکشی یا مقبولیت کسی چیز کے درست ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی۔ حق ہمیشہ دلیل، کردار اور نتائج کی روشنی میں پہچانا جاتا ہے، نہ کہ نعروں، شہرت یا ظاہری چمک سے۔
قرآنِ مجید بھی بار بار انسان کو غور و فکر، تدبر اور تعقل کی دعوت دیتا ہے تاکہ وہ ظاہر کے پردے سے آگے بڑھ کر حقیقت کو پہچان سکے۔ جو قومیں صرف ظاہری اسباب پر بھروسا کرتی ہیں، وہ اکثر دھوکے کا شکار ہو جاتی ہیں، جبکہ جو لوگ حقیقت کی تلاش میں سنجیدگی، دیانت اور بصیرت سے کام لیتے ہیں، وہی صحیح فیصلے کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی میں یہ اصول اپنا لیں کہ ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی، ہر خوشنما راستہ منزل تک نہیں پہنچاتا، اور ہر مقبول آواز حق کی آواز نہیں ہوتی۔ ہمیں ہر معاملے میں ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن، الفاظ کے ساتھ کردار، اور دعووں کے ساتھ عملی نتائج کو بھی دیکھنا چاہیے۔
فیصلہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اگر ہم حقیقت کو تلاش کرنے کی عادت ڈال لیں، اپنی سوچ کو تعصب اور ظاہری فریب سے آزاد کر لیں اور ہر معاملے میں حق کی روشنی میں فیصلہ کریں، تو نہ صرف ہماری اپنی زندگی بہتر ہوگی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی سچائی، انصاف اور شعور کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہوگا۔ بلاشبہ، بظاہر واضح نظر آنے والی ہر چیز حقیقتاً واضح نہیں ہوتی اور جو انسان اس فرق کو سمجھ لیتا ہے، وہی زندگی کے صحیح راستے کا انتخاب کر پاتا ہے۔