برڈفلواگر ہے تو کھلے عا م بِکری کیوں؟

گول//پورے ملک کے ساتھ ساتھ ریاست جموں و کشمیر میں بھی بارڈ فلو نے دستک دی اور گزشتہ روز ایک فارم میں ہزاروں مرغ ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور سرکاری سطح پر لور منڈہ کشمیر اور ٹول پوسٹ لکھن پورہ میں ٹیسٹ کیمپ بھی لگائے گئے ، اب جب کہ جموں کے اندرونی علاقوں میں اس وائرس نے دستک دے ہی دیا ہے ۔لیکن صوبہ جموں کے دوردراز علاقوں میں جموںو دیگر علاقوں سے بلا روک ٹوک مرغوں کی خرید و فروخت بڑے پیمانے پر جاری ہے اور ان کی قیمتیںبھی آسمان چھو رہی ہیں ۔ گول میں کونٹلوں کے حساب سے آج کل مرغوں کی آمد جاری ہے اور یہ لوگ بلا کسی چالان کے مرغوں کو فروخت کرتے ہیں اور منہ مانگے ریٹ 118روپے تھوک کے حسا ب سے دیا جا رہا ہے ۔ بارڈ فلو کے وائرس کی دستک کے با وجود گول میں مرغوں کی فروخت بلا روک ٹوک جاری ہے اور ابھی تک انتظامیہ نے ان سے اس وائرس بارے کوئی دریافت نہیں کیا ہے کہ آیا کہیں یہ وائرس یہاں پر نہ آ جائے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر ریاستی سطح پر بارڈ فلو کی تصدیق کی گئی ہے تو انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ مرغوں کی برآمدگی پر روک لگائیں اور گول میں من مانے قیمتوں پر روک لگا کر ان مرغ فروخت کرنے والوں سے ضابطہ کے تحت چالان لیں اور ریٹ لسٹ بھی آویزان رکھی جائے اور من مانے قیمتوں پر روک لگائی جائے ۔