ایوانان بالا و زیریں میں گورنر کے خطبے پر شکریہ کی تحریک زیربحث
جموں//قانون ساز اسمبلی میں خطبے سے متعلق شکریہ کی تحریک پر بحث اسمبلی کے دونوں ایوانوں میںدوسرے دِن بھی جاری رہی ۔ اس سے پہلے اسمبلی 3جنوری 2018ءکو شکریہ کی تحریک پر بحث ہوئی تھی جس میں ایوان کے سات ارکان نے حصہ لیا تھا۔ بحث کی شروعات کر تے ہوئے ایم ایل اے راجیوجسروٹیہ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے سڑکوں ، شاہراہوں ، ایمز ، آئی آئی ایم ایس، کلسٹر یونیورسٹیوں اور نئے انجینئرنگ کالجوں کے قیام کےلئے کئی اہم اقدامات کئے ۔ انہوں نے ریاست کے دو ر دراز علاقے کے لوگوں کی دہلیز تک جا کر ان کے مسائل کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کےلئے وزیر اعلیٰ کی تعریف کی۔ گورنر کے خطبے سے متعلق شکریہ کی تحریک پر ہوئی بحث میں حصہ لیتے ہوئے جزب اختلاف کے لیڈر عمر عبداللہ سابق وزراءاعلیٰ مفتی محمد سعید اور غلام نبی آزادکی کئی تواریخی فیصلے لینے کے لئے تعریف کی۔جن میں سرینگر ۔ مظفر آباد سڑک اور مغل روڑ کھولنا یونیورسٹیوں کے قیام اور سیٹلائٹ کیمپس وجود میں لانا ، ٹیولپ گارڈن قائم کرنا ، حج ہاوس تعمیر کرنا اور نئے ضلع وجود میں لانا شامل ہے۔انہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ ریاست میں ٹریفک نظامت کے لئے اضافی اقدامات کریں۔ انہوں نے شہر میں ٹریفک کی گنجانیت کو کم کرنے کے لئے جہلم پر گاڑیوں کے لئے ایک اور پل تعمیر کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔انہوں نے کہاکہ جموں میں نصب کی گئی ٹریفک لائیٹس کو چالو کرنے کا بھی مطالبہ کیاتاکہ ٹریفک کو ایک موثر انداز سے چلایا جاسکے ۔عمر عبداللہ نے عوامی بہبود کی طرف سے پچھلے تین برسوں کے دوران کئے جارہے اقدامات کے بارے میں بھی جانکاری طلب کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ریاست میں آنے والے پنچایتی انتخابات کامیابی کے ساتھ منعقد کئے جائیں گے۔ادھرقانون سازکونسل میں گورنر سے خطبے سے متعلق شکریہ تحریک پر ہوئی بحث میں کئی ارکان نے حصہ لیا۔ بحث کی شروعات کرتے ہوئے رومیشن اروڑہ نے گورنر کے خطبے کی تعریف کی اور کہا کہ حکومت نے ریاست میں امن اور معمول کے حالات بحال کرنے کی طرف توجہ مرکوز کی جو کہ والہانہ قدم ہے ۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی عمل کو دوام بخشنے کے لئے امن کا ہونا لازمی ہے او رمخلوط سرکار کی طرف سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کے مسائل فراخدلی سے حل کریں تاکہ انہیں تشدد سے دور رکھا جاسکے ۔انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو ریاست کے ترقیاتی اور امن عمل میں شامل کیا جانا چاہیئے۔انہوں نے ریاست کے دور دراز علاقوں تک چاپر خدمات شروع کرنا کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ ا س قدم سے ان علاقوں کے لوگوں کے مسائل کافی حد تک کم ہوں گے۔قیصر جمشید لون نے ریاستی اور مرکزی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ لوگوں کے مسائل حل کرتے وقت ریاست کے زمینی حقائق کو ملحوظ نظر رکھے ۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں تک پہنچ کر بے روزگار ی سمیت ان کے دیگر معاملات کو بھی حل کریں۔لولاب سے تعلق رکھنے والے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک سکالر کی طرف سے ملی ٹنٹ صفوں میں شامل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ اس خطرناک رجحان پر غور وفکر کرنا چاہیےے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس طرح کے نوجوانوں کو قومی دائرے میں لانے اور ان کی ناراضگی دور کرنے کے لئے ایک فعال پالیسی تیار کرنی چاہیئے۔
بجلی کی ابتر صورتحال پر اراکین کا شور شرابہ
وزیر کے جواب سے مطمئن نہ ہوکر واک آوٹ
اشفاق سعید
جموں //بجلی کے ابتر نظام کو لیکر قانون ساز اسمبلی میں حزب اختلاف اراکین نے ہنگامہ کیا اوروزیر موصوف کے جواب سے مطمئن نہ ہو کر ایوان سے واک آﺅٹ کیا۔حکیم محمد یاسین نے کہا کہ لوگوں کو شیڈول کے مطابق بجلی فراہم نہیں کی جا رہی ہے اور نہ ہی بجلی کی بوسیدہ اور ترسیلی نظام میں کوئی سدھار آرہا ہے ۔اس دوران قانون ممبر اسمبلی نگروٹہ بھی اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور بجلی کے وزیر سے مخاطب ہو کر کہا کہ دین دیال سکیم کا کیا ہوااس کا جواب سرکار دے ۔رانا نے کہا کہ آپ کی سرکار تین سال سے ہے اور آپ نے کو اس کا حساب عوام کو دینا ہے ۔انہوں نے کہا کہ گورنر نے بھی آپ کی سرکار کے متعلق کہہ دیا ہے کہ آپ کی سرکار فیل ہو گئی ہے۔اس دوران ممبر اسمبلی اندروال جی ایم سروڑی اور وقار رسول نے بھی بجلی کی ابتر صورتحال اور دین دیال سکیم کے تحت کام نہ ہونے پر سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا جبکہ کانگریس کے لیڈر نوان ریگزن جورا نے کہا کہ لداخ میں بجلی کی صورتحال بھی بد سے بتر ہے اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔اپوزیشن کے ساتھ حکمران پیپلزڈ یموکریٹک پارٹی سے و ابستہ ایم ایل اے رفیع آباد یاور دلاور میر نے کہا کہ ریاستی سرکار اچھا کام کر رہی ہے لیکن سرکار کو مرکزی سکیموں پر بھی توجہ دینی چاہئے کیونکہ ریاست میں بجلی کا نظام ہر گزرتے وقت کے ساتھ بدسے بدترہوتا جا رہا ہے ۔این سی اور کانگریس کے کئی ممبران سوال پوچھتے پوچھتے ایوان کے بیچوں بیچ اسپیکر کی میز کے سامنے آئے اور غصے میں آکر ایوان کی کارروائی سے متعلق سوالنامے پھاڑ کر پھینک دئے۔اسمبلی کے اسپیکر کویندر گپتا نے احتجاجی ممبران سے یہ کہتے ہوئے ڈاکٹر نرمل سنگھ دفاع کرنے لگے کہ ایک سوال کے بارے میں صرف تین ضمنی سوالات پوچھنے کی اجازت ہے۔کویندر گپتا کی طرف سے اپوزیشن ممبران کو خاموش کرانے کی کئی کوششیں ناکام ہوگئیں۔پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر کو جواب دینے کا موقعہ دیا جس کے بعد ڈاکٹر نرمل سنگھ نے کہا کہ بجلی کی قلت 70سال پرانی نا قص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ سرکار ا ن خامیوں کو دور کرنے کی کوششیں کررہی ہے۔وزیر موصوف کے ان ریمارکس سے ایوان میں کانگریس کے لیڈر نوانگ رگزن جورا، سابق وزیر جی ایم سروری اور نیشنل کانفرنس کے دیویندر سنگھ رانانے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ مطابق جی ایم سروری نے نائب وزیر اعلیٰ سے مخاطب ہوکر کہا”نائب وزیر اعلیٰ پچھلے تین سال سے محکمہ بجلی کے سربراہ ہیں اور انہوں نے زمینی سطح پر کچھ نہیں کیا ہے“۔بعد میںوقار رسول، الطاف کلو ،شیخ اشفاق جباراورعبدالمجید لارمی نے ایوان سے واک آﺅٹ کیا ۔