پانچواں قومی نصاب کا فریم ورک) National Curriculum Framework (این سی ای آرٹی نئی دہلی کے ذریعہ تیار کیا جارہا ہے۔ پہلی بار تواریخی قدم اٹھاتے ہوئے ملک کی تمام ریاستوں اور UTs کو اسکولی نصاب کے فریم ورک کو پہلے بنانے کا موقع دیا گیا ہے، تاکہ نیشنل کریکیولم فریم ورک NCF کو ریاستوں کی خواہشات کے مطابق بنایا جا سکے۔ NCF ہندوستان میں اسکولوں کے نصاب، نصابی کتب اور تدریسی مشق کے لیے رہنما اصول کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس سلسلے میں میں زمینی سطح کے مشاہدات سے اپنے نقطہ نظر کو پیش کرنا چاہوں گا۔
ا۔ بچوں کی نظر میں اساتذہ خاص افراد ہوتے ہیں۔ خاص کا مطلب ہے کہ وہ زیرک، مہربان، ہمدرد اور فیاض ہوتے ہیں۔ جب ہم اسے زمینی سطح پر دیکھتے ہیں تو ایسا دیکھنے کونہیں ملتا ہے۔ اساتذہ بارعب شخصیت کی طرح کام کرتے ہیں یا متکبرانہ انداز میں پڑھاتے ہیں۔ اساتذہ کے اس منفی طرز عمل کو بچوں کے ماہر نفسیات کے ذریعہ بہتر بنانے کی ضرورت ہے، وہ بھی براہ راست۔ یعنی بچوں کا ماہر نفسیات ڈاکٹر براہ راست اساتذہ سے بات کرے،اُنہیں بچوں کے ساتھ پیش آنے کے موثر طریقے سمجھائے۔ لہٰذا مختلف وقفوں پر اساتذہ کی تربیت کے لیے ماہرین نفسیات کی خدمات حاصل کی جائیں۔ ایک اُستاد کو بچوں کے ساتھ کھیلنے اور چیزوں کو ان کی نظریہ سے دیکھنے کے قابل ہونا چاہیے، نہ کہ ایک بالغ فرد کے طور پر۔ ایک اُستاد کو پڑھانے اور سیکھنے کے عمل کے دوران والدین کے طرز عمل کا اطلاق کرنا چاہیے۔ ایس سی ایف کے ذریعے اس بات پر زور دیا جانا چاہیے۔
۲۔ تعلیمی ضروریات مختلف سطحوں پر مختلف ہوتی ہیں۔ اس لیے سطح اور مرحلے کے لحاظ سے مخصوص تربیت دی جانی چاہیے، مثلاً پرائمری اسکول کے اساتذہ کو صرف پرائمری کلاس مینجمنٹ کے بارے میں تربیت دی جانی چاہیے۔ اسی طرح مڈل سکول ٹیچرز اور سیکنڈری سکول ٹیچرز کو الگ الگ تربیت دی جانی چاہیے۔ تمام مراحل کو آپس میں ملانا تربیت کو غیر موثر بناتا ہے۔
۳۔ تربیت صرف اس وقت کارآمد ہو سکتی ہے، جب اس کے اثرات کو فول پروف میکانزم کے ذریعے مانیٹر کیا جائے ،ورنہ یہ ایک فضول ورزش ہے۔ اس لیے نگرانی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ تربیت۔
۴۔ پرائمری اسکول کے لیے دو اساتذہ اور مڈل اسکول کے لیے پانچ اساتذہ کی پرانی روایت کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس قسم کے نقطہ نظر نے تدریسی عمل کی فراہمی کو معاشرے کی توقعات کےعین مطابق دینا مشکل بنا دیا ہے۔ دو اساتذہ انتہائی مخلص اور زہین ہونے کے باوجود پانچ کلاسوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک پرائمری اسکول میں کم از کم پانچ اساتذہ اور ایک مڈل اسکول میں کم از کم آٹھ اساتذہ کے ساتھ ساتھ ایک ہیڈ ٹیچر اور ایک کلرک ہونا چاہیے۔ عام لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں میں ہر کتاب کا اپنا ماہر اُستاد ہوتا ہے جو کہ سچ بھی ہے ۔
۵۔ انفراسٹرکچر پیٹرن: پرائمری اسکول کے لیے تین اور مڈل اسکول کے لیے چھ کلاس روم کبھی بھی صحت مند رُجحان نہیں ہوسکتا ۔اس نقطہ نظر کو فوراً بدلنے کی ضرورت ہے۔ ایک پرائمری اسکول کے لیے چھ کلاس رومز اور ایک مڈل اسکول کے لیے کم سے کم دس کلاس رومز کی ضرورت ہے ۔
۶۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب: ورک کلچر کو مزید موثر اور فعال بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پڑھائی اور سیکھنے کے عمل کو ایک فل پروف طریقہ کار کے ذریعے مانیٹر کیا جائے، جو ہر کلاس روم اور اسکول کے احاطے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
یہ دیکھا گیا ہے کہ بہت سے طلباء اسکولوں سے خوفزدہ ہیں کیونکہ اساتذہ ان پر زبردستی اپنی مرضی مسلط کرتے ہیں۔ اساتذہ کے اپنے طلباء کے ساتھ اس جارحانہ رویے کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے ۔ اس معاملے میں سی سی ٹی وی کیمرے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ سی سی ٹی وی کیمرے اساتذہ کے لیکچرز، مشاہدات یا سرگرمیوں کو ریکارڈ کر سکتے ہیں اور مناسب تجزیہ کے بعد ہر سبق یا لیکچر کو نمبرات دیے جا سکتے ہیں ۔ یہ اساتذہ کو طالب علم پر مبنی طریقہ کار کو لاگو کرنے پر مجبور کرے گا۔ اس کے علاوہ یہ جانبداری یا بدعنوانی کا بھی خاتمہ کرے گا ۔
۷۔زبان کی رکاوٹیں : یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ گوجر طبقہ کے بچوں کو کمیونیکیشن گیپ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ مقررہ اہداف کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پاتے ہیں۔ گوجر بستیوں میں متعدد اسکول ایسے ہیں، جہاں کشمیری یا ہندی بولنے والے اساتذہ کی تقرری کی گئی ہے۔ یہ اساتذہ گوجری زبان کی ا ب پ نہیں جانتے ہیں، جس کے نتیجے میں ST طلباء اس سے مستفید نہیں ہوپاتے ہیں یا تعلیم کی بہترین سطح حاصل نہیں کر پاتے ہیں۔ لہٰذا ایسے اساتذہ کو تربیت کے ذریعے گوجری زبان کی بنیادی باتیں سکھانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
۸۔ موبائل سکولوں کا قیام: بہت سارے ST طلباء ایسےہیں، جن کے خاندان موسم بہار کے آتے ہی اونچائی پر یا گھاس کے میدانوں اور چراگاہوں میں بھیڑ بکریوں کو پالنے کے لیے ہجرت کرتے ہیں۔ اس موسمی ہجرت کی وجہ سے بہت سے سکول یا تو خالی ہو جاتے ہیں یا بہت کم طلباء سکولوں میں حاضر ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں سیزنل مراکز کے قیام کے بجائے سکولوں کو عملے کے ہمراہ چراگاہوں کی طرف ہجرت کرانی چاہیے۔ اس ضمن میں انتظامیہ اساتذہ کے لیے ضروری انتظامات کرے اور ایسے اساتذہ کو اضافی مراعات بھی دی جائیں۔
۹۔ جموں و کشمیر میں اساتذہ کے نام مختلف ہیں۔ کچھ کو GT/Genral Line Teachers کہا جاتا ہے، کچھ کو ReT کہا جاتا ہے، کچھ کو TG2 یا 3 وغیرہ کہا جاتا ہے۔ناموں کے اس فرق نے اساتذہ کے درمیان دشمنی کا سلسلہ شروع کیا ہے جو کہ اساتذہ کی تعلیم کے اصولوں کے خلاف ہے۔ حقیقی خدمت کا جذبہ اس سے متاثر ہورہا ہے ۔ اس لیے نام کی اصلاح کی جائے اور تمام اساتذہ کے لیے ایک ہی اصطلاح استعمال کی جائے۔جب کام ایک ہے تو نام الگ الگ کیوں ؟
۱۰۔ محکمہ تعلیم میں شاید ہی کوئی پروموشن ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے ماسٹر گریڈ کی بہت سی اسامیاں ، لیکچرار اور ہیڈ ماسٹر کی آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ ان اسامیوں کے خالی ہونے کی وجہ سے سکولوں میں لیڈرز کی کمی ہو گئی ہے۔ اس سے اساتذہ بھی ناراض اور مایوس ہیں۔ بغیر کسی پروموشن کے برسوں تک کام کرنا نفسیاتی طور پر ناانصافی ہے۔جبکہ پروموشن کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔
۱۱۔ ذہین اور خواہشمند اساتذہ کو شعبہ جاتی امتحان کے ذریعے لیکچرار بننے کا موقع دیا جائے۔یعنی شعبہ جاتی امتحان کو شروع کیا جائے۔
۱۲۔ اُمیدواروں کو شعبہ تعلیم میں داخلے سے پہلے شخصیت کے ٹیسٹ کا سامنا کرنا چاہیے۔ جن کی شخصیت تدریسی پیشے سے میل کھاتی ہو، اُنہیں استاد مقرر کیا جائے۔کیونکہ ہر قابل شخص اچھا استاد نہیں ہو سکتا۔
۱۳۔ انتظامیہ اساتذہ پر بازکی نظر رکھے تاکہ غیر ضروری رخصتی لینے پر روک لگائی جا سکے۔ کم رخصتی لینے والے اساتذہ کو انعام دیا جائے اور مقررہ سے زیادہ رخصتی لینے والوں کو جرمانہ کیا جائے۔
۱۴۔ اساتذہ کے تبادلے قصبوں سے دیہاتوں اور بالائی علاقوں سے قصبوں میں ہونی چاہئے تاکہ آپسی میل جول کا تجربہ ہو۔ یہ خیالات اور افہام و تفہیم کے تبادلے کو آسان بنائے گا۔ اس کے علاوہ زبانوں کے لہجے میں بھی تبدیلی آئے گی۔ بالائی علاقوں اور بستیوں کے درمیان اصطلاحات کی بولی میں بڑا فرق ہے جو بعد میں رُسوائی کا سبب بنتا ہے اور بچوں کو معیاری زبان بولنے سے دور رکھتی ہے۔
۱۵۔ روایتی نصاب اور تدریسی طریقوں کو جدید نصاب اور طریقہ کار سے تبدیل کیا جائے۔
۱۶۔ سرکاری سکولوں میں درسی کتب میں پرکشش اور دلکش اسباق اور نظموں کی کمی ہے۔ کتابیں بچوں کی تعلیم میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کاغذ کا خراب معیار بھی تشویش کا باعث ہے۔ جموں و کشمیر بورڈ کی طرف سے فراہم کی جانے والی کتابوں کو زمینی سطح پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا نصابی کتابیں پرائیویٹ اسکولوں کی کتابوں کی طرح پرکشش اور معلوماتی ہونی چاہئیں۔
۱۷۔ سائنس اور سوشل سائنسز کو پرائمری کلاسز سے ہی نصاب میں شامل کیا جائے جیسا کہ پرائیویٹ اسکولوں میں رائج ہے۔ سکولوں میں غیر نصابی سرگرمیوں پر پوری توجہ دی جانی چاہیے اور اسکول کے نصاب میں کھیل کود کوجگہ دی جانی چاہیے۔ ہمارے اسکولوں میں غیر منصوبہ بند اور ناکافی غیر نصابی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔
۱۸۔ اساتذہ کی اضافی اسائنمنٹس جیسے محکمہ کی طرف سے اکثر پوچھے جانے والے مختلف سٹیٹ منٹ، MDM خدمات اور غیر تدریسی اسائنمنٹس جیسے سروے اور census وغیرہ دوسرے محکموں یا مخصوص افراد کو دیے جائیں، جن کوتدریس کی کوئی ذمہ داری نہ ہو۔
۱۹۔ اساتذہ کی تعلیم کے ادارے یعنی یرائیویٹ بی ایڈ کالجوں کی نگرانی کی جانی چاہیے ۔وہاں قابل اساتذہ کی تقرری کی جانی چاہیے اور باقائدہ کلاسز کا انعقاد کیا جائے تاکہ قابل اسکالرز پیدا ہو سکیں۔ عام طور پر یہ کالج کم تنخواہ پر نااہل سٹاف کی خدمات حاصل کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں معیار گرتا جارہا ہے۔ ایسے بھی کالجز موجود ہیں، جو اسکالرز کو باقاعدہ کلاسز میں شرکت کے بغیر امتحان میں شرکت کرنے کی اجازت دیتے ہیں ۔
۲۰۔سرکاری اسکولوں کو پرائیویٹ اسکولوں کی طرح بنا کر اساتذہ کی کارکردگی کو ناپا جائے ۔پرائیویٹ اسکولوں کی رجسٹریشن کو روک دیا جائے ۔کیوںکہ ہر گورنمنٹ اسکول کے آنگن میں پرائیویٹ اسکول کھول دیا گیا ہے، حالانکہ گاؤں میں ان کا سٹنڈارڈ بہتر نہیں ہے لیکن feasibility کو مدنظر نہیں رکھا جاتا ہے۔ جہاں گورنمنٹ اسکول چل رہا ہو ،وہاں پرائیویٹ اسکول کو کھولنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
سرکاری اسکول حیرت انگیز کام کر سکتے ہیں بشرطیکہ NEP2020 نئی تعلیمی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے۔اس پالیسی کو نہ صرف گورنمنٹ اسکول میں من و عن رائج کیا جائے بلکہ پرائیویٹ اسکولوں میں بھی اس کا implementation ضروری ہے۔
Malik …9906598163
(قصبہ کھُل کولگام )