عظمٰٰی نیوز سروس
نئی دہلی// ہندوستانی حکومت نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان افواہوں کی مکمل تردید کی ہے جس میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ E20 پیٹرول استعمال کرنے سے گاڑیوں کی انشورنس منسوخ ہو جائے گی۔ پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے ایک سرکاری بیان جاری کیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ہندوستان کا ایتھنول ملاوٹ کا پروگرام مکمل طور پر محفوظ، صارف دوست اور اقتصادی طور پر فائدہ مند ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کی تردید کے ساتھ ساتھ حکومت نے واضح کیا کہ E20 پیٹرول مکمل طور پر محفوظ ہے اور اس کے استعمال سے گاڑیوں کے انشورنس کے دعوے کبھی باطل نہیں ہوں گے۔وزارت نے واضح کیا ہے کہ اس سلسلے میں تمام اہم اسٹیک ہولڈرز اور انشورنس کمپنیوں کے ساتھ بات چیت کی گئی ہے۔
کمپنیوں نے تصدیق کی ہے کہ گاڑیوں کے بیمہ کے دعوے پالیسی کی عمومی شرائط و ضوابط (جیسے حادثہ، چوری، یا آگ) کی بنیاد پر طے کیے جاتے ہیں۔ صرف E20 ایندھن کے استعمال کی وجہ سے کوئی درست دعوی مسترد نہیں کیا جا سکتا۔حکومت نے کہا کہ پیٹرول کے ساتھ ایتھنول کی ملاوٹ عالمی سطح پر ایک قبول شدہ عمل ہے۔ امریکہ، جاپان اور برازیل جیسے ممالک میں اسے برسوں سے کامیابی کے ساتھ نافذ کرکے استعمال کیا جا رہا ہے۔ برازیل کی مثال دیتے ہوئے، وزارت نے وضاحت کی کہ وہاں ایک طویل عرصے سے اعلی ملاوٹ کی سطح موجود ہے اور فی الحال، ‘E27’ (27 فیصد ایتھنول مرکب) وہاں کا معیاری پیٹرول ہے۔اس پروگرام کے معاشی فوائد کو اجاگر کرتے ہوئے، حکومت نے کہا کہ ایتھنول ملاوٹ کی پالیسی نے ملک کو خام تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی لانے میں مدد کی ہے۔ اس کے نتیجے میں اب تک 1.4 لاکھ کروڑ سے زیادہ کی غیر ملکی کرنسی کی بچت ہوئی ہے۔ مزید برآں، ایتھنول کی پیداوار کے لیے زرعی خام مال (جیسے گنے اور اناج) کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس نے ہندوستانی کسانوں کی آمدنی کو براہ راست تحفظ فراہم کیا ہے اور دیہی معیشت کو مضبوط کیا ہے۔