پونچھ//نیشنل ہیلتھ مشن(این ایچ ایم) کے تحت لگائے گئے ملازموں کی لگاتارکام چھوڑ ہڑتال کی وجہ سے پوری ریاست کی طرح پونچھ ضلع میں بھی طبی نظام متاثر ہو رہا ہے ۔خصوصی طور پران علاقوں پر برااثر پڑرہاہے جہاں این ایچ ایم کے ڈاکٹر اور دیگر عملہ تعینات ہے۔ ان علاقوں میں اکتیسویں روز بھی مریضوں کو کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔تحصیل منڈی کے گائوں ساوجیاں کی پچیس سے تیس ہزار عوام کے لئے وہاں قائم کئے گئے پرائمری ہیلتھ سنٹر ساوجیاں، ایم اے سی اوڑی پورا، سب سینٹر چاپڑیاں اور سب سینٹر بلنائی پچھلے اکتیس دنوں سے بالکل مقفل ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق ساوجیاں کے پرائمری طبی مرکز میں ایک ڈاکٹر تعینات کیا گیا ہے جو این ایچ ایم کے تحت کام کر رہاہے ، جب سے ملازموں نے کام چھوڑ ہڑتال شروع کر رکھی ہے ، مریضوں کو علاج کیلئے منڈی یا پھر پونچھ جانا پڑتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ساوجیاں حدِ متارکہ کے بالکل قریب واقع ہے جہاں ہر وقت گولہ باری اور فائرنگ کا اندیشہ بھی رہتا ہے جہاں طبی خدمات کی دستیابی نہ ہوناباعث تشویش ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ بارہا اپیل کرچکے ہیںکہ ساوجیاں میں مزید ڈاکٹر تعینات جائیں لیکن سرکار ٹس سے مس نہیں ہورہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ شب ایک خاتون نذیرہ بی زوجہ بشیر احمد زچگی کے درد میں مبتلا تھی جسے اوڑی پورہ سے پیدل ساوجیاںزچگی کے لئے لایاگیا لیکن ہسپتال مقفل تھا جس کے بعد خاتون کو مجبوراً ضلع ہسپتال پونچھ پہنچانا پڑا۔انہوں نے کہا کہ یہ ساٹھ کلو میٹر کا سفر اس خاتون کی جان بھی لے سکتا تھا لیکن خدا کا شکر کہ وہ بچ گئی۔انہوں نے کہا کہ سرکار دعویٰ کرتی ہے کہ وہ خواتین کو زچگی کے دوران ہر طرح کی سہولت دینے کے لئے تیار رہتی ہے لیکن زمینی سطح پر انہیں کچھ نہیں ملتا۔ان لوگوں نے مطالبہ کیا کہ ساوجیاں پرائمری طبی مرکز اور دیگر تین طبی مراکز میں تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں ۔رابطہ کرنے پر بلاک میڈیکل افسر منڈی سید مشتاق حسین جعفری نے بتایا کہ طبی مراکز میں تمام سہولیات فراہم رکھی گئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ این ایچ ایم ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے کچھ پریشانیاں آ رہی ہیں جنہیں جلد حل کرلیاجائے گا۔