بیجنگ //چین نے ایران نیوکلیائی معاہدے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے اور اس سے جڑی مشترکہ جامع ایکشن پلان (جے سی پی او اے ) کا پورے عزم کے ساتھ حمایت کرتا ہے ۔چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چونینگ نے منگل کو نیوکلیائی معاہدے کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر ایک بیان جاری کرکے یہ اطلاع دی۔بیان کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے 7 جون کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو خط لکھ کر ایران نیوکلیائی معاہدے کے سلسلے میں چین کے رخ اور نظریہ سے باخبر کرایا۔ترجمان نے کہا کہ پانچ سال پہلے چین،روس، فرانس، جرمنی، برطانیہ اور امریکہ نے یوروپی یونین کے ساتھ مل کر ایران کے ساتھ ویانا میں ایک تاریخی نیوکلیائی معاہدے کیا تھا۔ اسے سلامی کونسل کی تجویز2231 کی حیثیت سے تسلیم بھی کیا گیا تھا۔ جے سی پی او اے بین الاقوامی جوہری عدم پھیلاؤ نظام کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے ۔ یہ علاقائی اور عالمی امن اور استحکام قائم رکھنے میں کافی اہم کردار نبھا سکتا ہے ۔ اس سے کثیر جہتی تنازعات کو حل کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے ۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ ’’بدقسمتی سے امریکہ نے حالیہ برسوں میں اپنے مفادات کو ترجیح دینے کا کام کیا ہے اور وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پروا کئے بغیر مختلف معاہدوں اور تنظیموں سے الگ ہورہا ہے‘‘۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مئی 2018 میں امریکہ کے ایران نیوکلیائی معاہدے سے نکلنے کا اعلان کیا تھا۔ترجمان کے مطابق چین کا مانناہے کہ ایران نیوکلیائی مسئلہ کوحل کرنے کے لئے جے سی پی او اے کی حفاظت کرکے اسے نافذ کرنا ضروری ہے ۔ امریکہ کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں اور دباؤ کی وجہ سے ایران مجبورہوکر اس کے قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے ۔چینی ترجمان نے کہا کہ نیوکلیائی معاہدے سے جڑے دیگر ممالک کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی(آئی اے ای اے ) ور ایران کے درمیان بات چیت شروع ہو تاکہ جلد سے جلد نیوکلیائی معاہدے کو نافذ کیاجاسکے ۔ مہوا نے کہا کہ امریکہ سلامتی کونسل پر دباؤ ڈال کر ایران پرنئی پابندیوں کا نفاذ کروانا چاہتا ہے ۔ چین بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ایسا نہیں ہونے دیں۔