اپنی صحت جانچنے کے 7آسان طریقے !

گھر کے بڑے بوڑھوں کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ ’پرہیز علاج سے بہتر ہے‘ جبکہ صحت مند رہنے کا یہی پائیدار اصول بھی ہے، بیماریوں سے دور رہنے اور کسی بڑی مشکل میں گھرنے سے قبل اس کی تشخیص کے لیے خود پر نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ماہرین کی جانب سے چند ٹپس تجویز کی جاتی ہیں جنہیں اپنا کر ہر انسان بیماریوں میں مبتلا ہونے سے قبل ہی اس پر قابو پا سکتا ہے، ماہرین کی جانب سے سب سے زیادہ خطرناک بیماریاں موٹاپے اور معدے کی خراب کارکردگی کو قرار دیا جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دو شکایتیں صحت سے متعلق دیگر مشکلات کی وجہ بھی بنتی ہیں اور مکمل صحت کی خرابی کا آغاز بھی یہیں سے شروع ہوتا ہے لہٰذا اپنی صحت پر خود سے نظر رکھ کر بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
کپڑوں کا مناسب سائز میں رہنا : ماہرین کے مطابق زیب تن کیے جانے والے کپڑوں کا اگر 3 سے 4 ماہ بعد دوبارہ پہننے کا اتفاق ہو اور اس لباس کی فٹنگ پہلے کی طرح بالکل ٹھیک رہے تو اس کا مطلب ہے کہ صحت سے متعلق کوئی پریشانی لاحق نہیں ہے، کپڑوں کا تنگ اور کھلا ہونا دونوں صحت سے متعلق پیشگی الارم سمجھنا چاہیے۔
معدے کی کارکردگی :  ماہرین کے مطابق اگرآپ میں پہلے سے موجود قبض، اپھار اور تیزابیت کی شکایت کم ہوئی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ صحت مند غذا لے رہے ہیں اور اگر آپ میں معدے سے متعلق یہ شکایات بڑھ جائیں تو یہ وقت ہے کہ اپنی غذا سے متعلق عادات کو بدل کر قدرتی، سادہ اور گھر کی بنی غذاؤں پر اکتفا کریں، اس سے قبل کہ معدے اور غذائی نالیوں سے متعلق کوئی بری خبر سننے کو ملے۔
بے وقت کی بھوک پر قابو رکھنا :  ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی بیماری میں مبتلا ہونے سے قبل ہی مثبت غذا کی عادت کو اپنا لینا چاہیے اور اضافی کیلوریز اور بے وقت کی بھوک پر توجہ نہ دیں۔
اگر زندگی صحت مند بنانے کے لیے آپ بے وقت کی بھوک اور ’فوڈ کریونگز‘ (بے جا کی بھوک اور مرغن غذائیں کھانے کا دل چاہنا) پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آنے والی زندگی مزید صحت مند گزرنے والی ہے اور بہت سی بیماریوں کے شروعات سے قبل ہی چھٹکارہ حاصل ہو گیا ہے۔
نیند پر نظر رکھیں :  صحت مند رہنے کے لیے کم از کم 6 اور زیادہ سے زیادہ 8 گھنٹوں کی نیند ضرور پوری کریں، اگر نیند کی کمی یا زیادتی کا شکار ہیں تو معالج سے رجوع کریں کیوں کہ نیند کی کمی اور زیادتی کسی بھی بڑی بیماری کی وجہ بن سکتی ہے، صحت مند رہنے کے لیے مکمل اور پرسکون نیند کا متوازن ہونا بہت ضروری ہے۔
اپنے دوستوں سے مدد لیں:  ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند رہنے اور اچھا دکھنے کے لیے اپنے مخلص دوستوں سے بھی رائے لی جا سکتی ہے، مخلص دوست یا کوئی بھی خیر خواہ آپ میں نظر آنے والی تبدیلیوں پر توجہ دلا کر اور رائے دے کر مدد کر سکتا ہے کہ جو کہ صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
صحت مند جِلد:  جِلد آپ کی صحت کا آئینہ ہوتی ہے، خوبصورت، صاف شفاف اور بے داغ جِلد آپ کی اندرونی صحت کا پتہ دیتی ہے جبکہ داغ دھبوں، ایکنی اور کیل مہاسوں والی جِلد سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جسمانی نظام میں کچھ غلط اور مضر صحت ہو رہا ہے جس پر قابو پانا ضروری ہے۔اگر آپ خود کو متحرک محسوس کرتے ہیں تو یہ واضح ہے کہ آپ ایک صحت مند انسان ہیں اور اگر صورتحال اس کے برعکس ہے  تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ آپ کو غذائی کمی یا پھر کسی مخصوص معدنیات یا وٹامن کی کمی ہے۔درین اثناغیر متوازن بلڈ پریشر انسانی صحت کے لیے متعدد مشکلات کا سبب بنتا ہے جس میں دل کے عارضے کا لاحق ہونا سر فہرست ہے لہٰذا اسے نظر انداز کرنے کے بجائے چند مثبت عادات اپنا کر بلند فشار خون کو کافی حد تک متوازن بنایا جا سکتا ہے۔ انسان فشار خون یعنی ہائی بلڈ پریشر کا شکار کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے، ہائی بلڈ پریشر ایک خاموش بیماری ہے جس کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، بلند فشار خون پر نظر رکھنا ضروری ہے جبکہ اسے نظر انداز کرنے کے نتیجے میں دل اور مجموعی صحت سے متعلق سنگین نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔  ماہرین کے مطابق اس بیماری کے مریض اپنی عادات اور غذا میں چند تبدیلیاں لا کر اس کے نقصانات سے چھٹکارہ حاصل کر سکتے۔
ہائیر ٹینشن، ہائی بلڈ پریشر متوازن رکھنے کے لیے ماہرین کی جانب سے تجویز کی گئی چند مثبت عادات مندرجہ ذیل ہیں:
مثبت غذا :  طبی و غذائی ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر، ہائیپرٹینشن کے مریضوں کو دن کے تین کھانوں میں سے ناشتے کو سب سے زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔ایسے افراد کو  ناشتے کے لیے فائبر اور پروٹین سے بھر پور غذاؤں کا استعمال کرنا چاہیے، فائبر اور پروٹین کےاستعمال بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے۔چائے، کافی یا کوئی بھی کیفین والا مشروب بلڈ پریشر بڑھاتا ہے، کیفین والے مشروبات کی جگہ کسی ہربل چائے کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
متوازن وزن :  بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے وزن میں اضافہ بھی ایک خطرہ ثابت ہوتا ہے لہٰذا ایسے مریضوں کو مناسب وزن برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے، اضافی وزن سے چھٹکارہ حاصل کر لینا صحت مند ثابت ہو سکتا ہے۔طبی ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر اور ہائپر ٹینشن کے مریضوں کو صبح کا آغاز ورزش سے کرنا چاہیے، روزانہ کی بنیاد پر ورزش کرنے سے بلڈ پریشر متوازن رہتا ہے، روزانہ صبح آدھا گھنٹہ چہل قدمی، جاگنگ، تیراکی اور سائیکلنگ کی جا سکتی ہے۔آنے والے پورے دن میں پر سکون رہنے کے لیے دن کا آغاز یوگا سے بھی کیا جا سکتا ہے۔بلڈ پریشر کنٹرول میں رکھنے کے لیے خود متحرک اور پر سکون رکھنے کی کوشش کریں۔ ماہرین کے مطابق ہائیپرٹینشن کے مریضوں کو تمباکو نوشی سے دور رہنا چاہیے، تمباکونوشی دل کی شریانوں کو زخمی اور اِن کے سخت ہونے کے عمل کو تیز کرتی ہے، اس لیے سگریٹ نوشی فوری ترک کر دیں۔ طبی ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ بلڈ پریشر کے مریضوں کو باقاعدگی سے اپنا معائنہ کرتے رہنا چاہیے تاکہ بڑی مشکل سے بچا جا سکے، روزانہ کی بنیاد پر بلڈ پریشر کی ریڈنگ لیں اور اپنے معالج سے رابطہ رکھیں۔