آہ! ڈاکٹر ترنم ریاضؔ:چند یادیں،چند باتیں

بقول خلیل جبران:’’ وہ شخض بہت قابل ہے جس کی خواہش اس کے خیالات کی طرح تیزا ہو۔ایسا شخص زمین پر چلتا ہے تو اس کا دماغ  آسمانوں پر رہتا ہے  اور موت سے پہلے ہی آزاد  ہو جاتا ہے۔ایسے لوگوں بہت کم ہوتے ہیں۔ڈاکٹر ترنم ریاضؔ پر یہ جملے صادق آتے ہیں چناچہ ان کی تخلیقات فکری اعتبار سے نہایت ہی بلند ہیں۔20 مئی2021 کی دوپہر کو کھانا کھانے کے بعد کپڑوں کی استری کرنے میں مصروف تھاکہ استاذی اشرف عادل کا فون آیا اور کہا کہ ’’ترنم ریاضؔ کا انتقال ہوگیا ہے‘‘۔ میں نے یہاں سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں ان کے شوہر پروفیسر ریاض پنجابی  بھی اس  دارالفانی سے کوچ کر گئے نیر کل یعنی 19 مئی کو پروفیسر ریاض پنجابی پر ایم ایس رحمن شمس ؔکا مضمون ان پر خراج عقیدت  کے تئیںشائع ہوا تھا اور میں نے وہ مضمون ترنم میم کے واٹس ایپ نمبر پر ارسال کیا لیکن وہاں سے جواب ندارد۔میں نے نا لللہ ونا الیہ راجعون پڑھ کر فون رکھ دیا اور مزید اس خبر کی تصدیق حاصل کرنے کی کوشش کی۔ خیر یہ منحوس خبر سچ ہی ثابت ہوئی۔ موت کا جام دے کر ہر ایک فر د سے اسی کی عارضی زندگی چھین لی جائے گی اور یہی اصل حقیقت  ہے جس کا اعتراف خود مرحومہ ترنم ریاضؔ نے اپنے شعری مجموعہ ’’زیرِ سبزہ محو خواب ‘‘میں کیا ۔بقول ترنم ریاضؔ   ؎
یہ کیسا گھر   ہے کہ جانے  کو جی نہیں کرنا
یہ رسمیات  نبھانے کو جی نہیں کرتا
عزیر ہیں مجھے تنہائیاں عزیزوں  سے
فریب  جان   کے کھانے کو جی نہیں کرتا
تمہارے جانے کی پراوہ کچھ نہ تھی لیکن
اکیلے زیست اٹھانے کو جی نہیں کرتا
ترنم ریاضؔ کا اصلی نام ترنم فریدہ ہے۔ترنم ریاضؔ ۹اگست ۱۹۶۳بمقام سرینگر کے مشہور علاقے کرنگرمیں تولد ہوئی۔ترنم ریاضؔ کے آباو اجداد کا تعلق سیالکوٹ پاکستان ہے ۔ان کے داد خدا بخش خان ملازمت اور زورگارحاصل کرنے کی غرض سے کشمیر آئے اور ان کا خاندان یہیں آباد ہوگیا۔شعر وسخن کا مذاق بچپن میں ہی پیدا ہوا تھا۔بقول ترنم ریاضؔ:’’میں 6th یا7th میں ششماہی امتحان میں میتھ(ریاضی)میں فیل ہوگئی تھی۔مجھے میتھ نہیں آتی تھی میں رو رہی تھی ۔اسی دوران ایک بڑا دردناک سا شعر خود ہی ہوگیا تھا۔اس میں بڑی غلطیاں ہوگی،یہ بچپن کی بات ہے۔    ؎
بھول جا انجام شب کی تلخیاں
ہر سویر ا  ایک  نیا آغاز  ہیں
یہ شعر خود ہی کیسے ہوگیا مجھے نہیں معلوم ۔کسی طرح ابا جی تک یہ بات پہنچی ۔میری بڑی بہن بڑی ظالم قسم کی بہن تھیں۔مجھ سے چھ سات سال بڑی تھیں۔انھوں نے شکایت پہنچائی کہ دیکھ لیجئے ،فیل نہ ہوگی تو کیا ہوگی ،یہ دیکھئے شاعری‘‘۔( ترنم ریاض ۔فن اور شخصیت ۔شبنم افروز۔ص۔ 12)انہوں نے اپنا تعلیم سفرجاری رکھتے ہوئے ایم اے(اردو)،ایم اے(ایجوکیشن)کا امتحان پاس کیاہے نیز ایجوکیشن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرکے درس وتدریس تحقیق اور برقی میڈیا سے منسلک ہوگئی۔ترنم ریاضؔ کوبین الاقومی ادیبائیںکے اس زمرے میں شمار کیا جاتا ہیں جنہوں نے اردو زبان کے ساتھ ساتھ دیگر زبانوں کو بھی اپنے تخلیقی اظہار کا وسیلہ بنایا۔ترنم ریاض ؔ کی شاعری میں جنت بے نظیر کی خوشبو اور یہاں کی تہذیبی  زندگی کے منتوع پہلوئوڈ کی جھلکیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ترنم ریاضؔ کشمیر کی ایک ایسی ادیبہ ہیںجو اردو،انگریزی،ہندی اور کشمیری زبانوں کے لسانی نظام سے بخوبی واقف ہیں۔اردو ادب میں ترنم ریاضؔایک شاعرہ،ناول نگار،افسانہ نگار،تبصرہ نگار،محقق ونقاد کی حیثیت سے اپنی لیاقت و قابلیت کا لوہا منواچکی ہیں۔ان کی تصانیف اعلی ادبی معیار کی حامل ہیں۔ترنم ریاضؔ کی تصانیف تا حال جو منصہ شہودپر آچکی ہیں ان کے نام اس طرح ہیں:  افسانے مجموعے :یہ تنگ زمین(1998 )،ابا بیلیں لوٹ آئیں گی(2000)،یمبرزل (2004 )،میرا رخت سفر(2008 )،ناول:مورتی(2004)،برف آشنا پرندے(2009)، نرگس کے پھول ،صحرا ہماری آنکھوں میں ،شاعری مجموعے:پرانی کتابوں کی خوشبو،بھادوں کے چاندتلے،زیرسبزہ محو خواب(2015)،چاند لڑکی ادبی دنیا میں خاصی پذیرائی حاصل کرچکی ہے۔
داکٹر ترنم ریاض ؔ نے ملکی و بین الاقومی کے کئی مشاعروں،سمیناروں، ورکشاپوں  اور ادبی مذاکروں میں بھی شرکت کی ہے۔  23مارچ 2016کو    نظامت فاصلاتی تعلیم کشمیر یونیورسٹی نے جموں اینڈ کشمیر فکشن رائٹرس گلڈکے اشتراک سے دو  روز ہ قومی سمینار بعنوان’’اردو افسانہ مزاج و منہاج‘‘ کا اہتمام کیا تھا جس میں ریاست کے فکشن نگاروں کے ساتھ ساتھ بیرون  ریاست کے معزز اور سیئنرفکشن نگاروں کو بھی مدعو کیا گیا تھا جن میں ڈاکٹر ترنم ریاضؔ بھی  شامل تھی۔فکشن کے حوالے سے شایداس کے بعد ایسا کوئی سمینار کشمیر یونیورسٹی میں نہیں ہوا۔ سمینار کے پہلے دن افتتاجی نشست کی صدارت وادی کے ماہر اقبالیات پروفیسر بشیر احمد نحوی نے کی جبکہ ایوان صدارت میں ترنم ریاضؔ بحثیت مہمان ذی وقار موجود رتھی ۔اسی سمینار میں ،میں نے پہلی بار ڈاکٹر ترنم ریاضؔ کو دیکھا بھی اور سنا بھی۔ کسی بھی زوایے سے یہ ظاہر نہیں ہو رہا تھاکہ آپ ارود ادب کی ایک قد آور ہستی ہیں۔سادگی کا لبادہ اوڑھ کر اور نرمی و حلیمی کا حسین پیکرتھا۔  سمینار کی دوسری نشست میں راجہ یوسف  نے اپنا افسانہ(نفش فریادی )،مشتاق مہدی نے(رات کا فسانہ) اور ڈاکٹر ریاض توحیدی نے (سفید کبوتر)قارئین کی سماعتوں کی ندز کیں نیر جن پر تجزیہ نگاروں نے اپنے اپنے تجزیا تی مقالے پیش کیے۔اسی نشست  میں جب استاد محتر م ڈاکٹر مشتاق حیدر ؔنے مشتاق مہدی کے افسانے پر اپنے مخصوص ڈکشن اور بے باک انداز میں تجزیاتی مقالہ پیش کیا تو افسانہ نگار شاید حوصلہ شکنی میں گرفتار ہوگیا لیکن جب ڈاکٹر ترنم ریاضؔ کی باری آگئی اس افسانے پر بات کرنے کی تو انھوں نے مشتاق مہدی کو اپنے پاس بلا کر اسی افسانے کے آخر پر تین بار (واہ،واہ،واہ)  از ترنم ریاضؔ لکھ کر  اسی نشست کو ایک تاریخی نشست کا روپ دے کر مشتاق مہدی کی بھر پور حوصلہ افزائی کی جس سے صاف ظاہر ہوا کہ انھیں فن پارہ پرکھنے کا اپنے ایک منفر د اسلوب تھا۔
سمینار کے دوسریے دن یعنی 24 مارچ2016  کو بھی دو نشستوں کو اہتمام کیا گیا تھا ۔سمینا رکے آخری نشست کی صدرات پروفسیر نذیر احمد ملک نے کی ۔اس نشست  میں ڈاکٹر ترنم ریاضؔ نے  اپنا افسانہ (مجسمہ )، غلام نبی شاہد نے(سلام الدین اداس کیوں ہے)، عضنفر علی نے  (  حکمت)،بشیر ملیرکوٹلوی نے(اہل کتاب)  اور رافعہ والی نے کھیت پڑھا ۔ان تمام افسانوں پر بھی تحزیہ نگاروں  نے تجزیاتی مقالے سامعین کے سامنے رکھیں۔ اس نشست میں ہر ایک فر د اسی انتظار میں تھا کہ ڈاکٹر ترنم ریاضؔ اپنے افسانے کی قرأت کب شروع کرے کیونکہ ان کا تلفظ نہایت ہی پر کشش تھا ۔جب انھوں نے اپنے افسانے کی قرأت شروع کر دی واقعی ایسے محسوس ہوا کہ ان کی آواز میں جادو ہیں ۔ن کے لہجے کی متانت ،اسلوب کی شگفتگی،زبان کی سادگی  اور ان کے متن میں ایک خاصی تہذیبی فکر نے وہاں سبھی حاضرین نشست کو متاثر کیا۔ان کا یہ افسانہ ’’مجسمہ ‘‘  یمبرزل  افسانوی  مجموعے میں شامل ہے۔اس افسانے کا تہذیبی رنگ دیکھنا ہو تو افسانے کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:’’یہاں کئی مجسمے  چچا کے ہاتھوں  بنے تھے۔اونی پھرن  اور ٹوپی پہنے حُقہ پیتا ہوا آدمی ۔سماوار سے پیالی میں چائے انڈیل رہی تلے کی کڑھائی والے گریباں کا پھرن پہنے خاتون۔ہل چلتا ہوا کسان ۔دودھ بلوتی ہوئی گر ہستن وغیرہ ،کانچ لگی الماریوں میں محفوظ تھے  اور اب بھی ان کی چمک جوں کی تو قائم تھی ۔ویسی ہی جیسے عظمی نے اپنے بچپن میں دیکھی تھی۔‘‘(یمبرزل۔ص۔94)
اسی سمینار کے توسط سے مجھے ان کے ساتھ رابطے میں رہنے کی سعادت موصول ہوئی۔ ۔پھر جس جس رسالہ یا اخبار میں ان کی تحریں شائع ہوتی تھی میں انھیں پڑھتا بھی تھا او اطلاع بھی  دیتا تھا۔ 2019میں خاکسار نے جموں وکشمیر کی خواتین افسانہ نگاروں پر ایک کتاب تر تیب دی  جس کے لئے مجھے خو اتین افسانہ گاروں کے افسانے درکار تھے جب میں نے ڈاکٹر ترنم ریاضؔ سے رابطہ کیا اور  ان سے اجازت طلب کی اور کہا کہ میں آپ کا مشہور افسانہ ’’شہر ‘‘  اپنی  ترتیب شدہ کتاب میں استعمال کرنا چاہتا ہوں تو انھیں مجھے اپنا یہی افسانہ میل کیا اور اجازت بھی دی۔اس کے بعد میرا ایک تحقیقی مقالہ بہ عنوان’’جموں و کشمیر کی خو اتین معاصر خواتین افسانہ نگار ۔۔ایک جائرہ ‘‘ماہنامہ آج کل مئی 2020 میں شائع ہوا تو انھوں نے میری حوصلہ افزائی اس طریقے سے کی کہ اپنی پانچ کتابیں مجھے بہ ذریعے ڈاک بھیج دی ۔ ڈاکٹر ترنم ریاض ؔکی اس محبت ،شفقت اور خلوص کا  میںہمیشہ قرض دار رہوں گا اورایسی مخلصانہ مراج کے لوگ آج کل کے دور میں نایاب ہیں۔ ادب کے تئیں ان کا ایک مخصوص نظریہ تھا ،وہ ہر درد کا علاج مشرقی اقدار میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ہے۔جب آپ ان کی کوئی بھی کتاب پھر چاہیے وہ شعری ہو یافکشن ہاتھ میں لے گے تو کتاب کے  پہلی ہی ورق پر آپ کو قرآن کی آیت ،لل دید ،شیخ نوارالدین  یا بابا بھلے شاہ کے اشعار دیکھنے کو ملے گے جس سے صاف طاہر ہوتا  ہے کہ ان کے مزاج  میں صوفیانہ چاشنی بھی شامل تھی۔
الغرض وادی بے نظیر کی یہ عظیم اور قد آور اادیبہ20 مئی 2021کو دن کے بارہ بجے کووڈ19 سے زندگی کا جنگ لڑتے لڑتے ہار گئی جس نے اپنے وطن کی خوشبو، یہاں کے دردو غم،یہاں کے فطری حسن  اور یہاں کی تہذیب و ثقافت کو نثری و شعری جامہ پہنا کراجاگر کرنے کی حتی لامکان کوشش کی اور اردوکی ادبی  تاریخ میں اپنا نام رقم کیا جس کا اعتراف آنے والی نسلیں ضرور کر گی اس یقین کے ساتھ کہ  ؎  
گم  نہ ہو جانا  سرابوں   کی طرح
تم  کو مانگا  ہے دعائوں کی طرح
بے مروت تیری  چاہت  کا کبھی
ذکر کرتے تھے  مثالوں  کی طرح
رعناواری سرینگر۔8899037492 
������