جموں //ریاست جموں وکشمیر میں ادھادر کارڈ بنانے کیلئے تعینات کئے گئے نوجوانوں کو جلداز جلد مستقل کرنے کی مانگ کرتے ہوئے جموں و کشمیر آدھار ایسوسی ایشن نے ریاستی انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ان نوجوانوں کے مستقبل کیساتھ کھلواڑ کی جارہی ہے ۔ آدھار کارڈ ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ ایک پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل سٹو ڈنٹ یونین آف انڈیا کے ریاستی صدر رقیق احمد خان نے ریاستی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ انتظامیہ نے حال ہی میں ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے سرکاری محکموں بالخصوص ایجوکیشن محکمہ کو مذکورہ عمل کیلئے تعینات کرتے ہوئے پہلے سے کام کررہے نوجوانوں کیساتھ کھلواڑ کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ریاست میں 1200سے زائد نوجوانوںعوام کے ادھار کارڈ بنانے کیلئے سات برسوں سے کا م کر رہے ہیں اور ان نوجوانوں نے دیہی و دور دراز علا قوں میں جا کر عوام کو سہولیات فراہم کی ہیں لیکن ریاستی انتظامیہ نے ان نوجوانوں کی خدمات کو یکسر نظر انداز کر تے ہوئے دیگر محکموں کے ملازمین کو اس شعبہ میں کام کرنے کیلئے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے ۔موصوف نے کہاکہ اس وقت ریاست میں تدریسی عملے کی شدید قلت کی وجہ سے طلباء کو مسائل کا سامنا کرنا پررہاہے لیکن اس کے باوجود بھی ریاستی انتظامیہ ٹیچروں کو ادھار کارڈ بنانے کیلئے تعینات کر رہی ہے ۔انہوں نے ریاستی انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ اس حکم نامے کو واپس لیتے ہوئے مذکورہ عمل کیلئے تعینات شدہ نوجوانوں کو مستقل کر ئے ۔اپنے خطاب میں جموں وکشمیر آدھار ایسوسی ایشن کے صدر وسیم اکرم نے کہاکہ اس کام کیلئے تعینات نوجوانوں نے صوبہ جموں ،کشمیراورلداخ کے دیہی علا قوں میںمشکل حالات میں جا کر عوام کے ادھار کارڈ بنائے ہیں لیکن اس محنت کے باوجود بھی حکومت نے 1200سے زائد نوجوانوں کے مستقبل کیساتھ کھلواڑ کرنا شروع کر دی ۔انہوں نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ اس معاملہ میں ذاتی مداخلت کر کے نوجوانوں کو انصاف فراہم کرئیں ۔اس موقعہ پر شاہد حسین ،نعیم الحق ،نثار احمد تانترے ،وقار منہاس ،اکشے شرما ،وقار احمد ،شوکت چوہدری ودیگران بھی موجود تھے ۔