آتا ہے ابھی دیکھئے کیا کیا مرے آگے

ٹی وی کیا اخبار کیا ،گلی کیا بازار کیا،امیر کیا نادار کیا،شور تو بہت ہے بیٹی بچائو  بیٹی پڑھائو۔پر یہاں تو چونکہ باوا آدم نرالا ہے اسلئے نعرے میں ذرا تبدیلی ہے۔اپنے یہاں تو بیٹی پِٹائو بیٹی کٹائو  بیٹی سلائو البتہ بیٹی کے مجرم کو کسی بھی قیمت پر بچائو جاری و ساری ہے ۔اور اگر بیٹی نر بھے نہ ہو آصفہ ہو تو مجرم بچائو مہم میں ایکتا سے کام لو، گنگا کی امداد حاصل کرو ،ماحول ہی لال کردو ۔ وردی والوں سے مدد لے کر اہم شواہد مٹائو، کپڑے دُھل کر فارنسک لیب بھیجو تاکہ کوئی نشان باقی نہ رہے۔اس پر طرہ یہ کہ کیس کی تحقیقات اپنی پولیس سے نہیں مرکزی سرشتے سے کرائو۔جانے سیدھے الفاظ میں کیوں نہیں کہتے کہ کنول بردار وں کو جو من بھایا تو کیس ہی کاٹ کر کھایا۔
ہم نے تواس بات پر بہت افسوس کیا کہ چلہ خاندان بھلے ہی اس سال وارد کشمیر تو ہوا لیکن خشک خشک ایسے گزرا مانو رگوں میں خون نہیں ،منہ میں دانت نہیں پیٹ میں آنت نہیں، کسمپرسی کی حالت میں آیا ناداری کی صورت میں چلا گیا۔کسی نے نام نہ لیا، کسی نے خیر خبر نہ پوچھی۔چوری چھپے آیا اور دُم دبائے بھاگ گیا کوئی نام لیوا بھی نہ دیکھا ۔بھلا ہوتا بھی کیسے کوئی سفید چادر تک نہ پھیلا پایا ، کہیں کیچڑ جمانے کے لئے دو بوند پانی نہ برسایا ۔اپنے یہاں تو دوبوند زندگی کی پلاتے ہیں  اور اس کا چرچا اس قدر کرتے ہیں کہ پانچ سال کے بچے کیا پینسٹھ سال کے بزرگ بھی یہ بوند پینے کے متمنی ہوتے ہیں کہ جیسے بھی گزرے لیکن زندگی تو ہے۔ پھر ہم نے سوچا تھا بلکہ چاہا تھا کہ چلہ خاندان کی مائگریشن کے ساتھ ہی اپنے ملک کشمیر میں نئی صبح کا آغاز ہوگا ۔دھوپ پھیلی گی ، پھول کھلیں گے، سکول کھلیں گے، تعلیم کا نور پھیلے گا، چہل پہل سجے گی، پرندوں کی اڑان ہوگی مگر ہمیں کیا معلوم کہ اِدھر ہندوستان ہے، اُدھر پاکستان ہے اور لوگ تو کہتے ہیں اپنا ملک کشمیر جنت نشان ہے۔گلوں بھرا گلستان ہے۔یہاں آبشار ہیں، بیابان ہیںمگر دیکھنے کو تو یہاں لہو ارزان ہے۔شہر شہر، گائوں گائوں، قریہ قریہ آہ وفغان ہے۔بستی بستی انگشت بدنداں ہے۔خوف و دہشت کا سماںہے۔اس پر طرہ یہ کہ اپنا ملک کشمیر اب پروبستان ہے کہ ہر واقعے المیے کی تحقیقات کرانے کا اعلان ہے یعنی دانت بھی ہے اور درد دندان بھی،کیونکہ ہر قطرہ خون کا حساب لینے کا فرمان ہے۔ابھی ایک معرکے کے تانے بانے جڑے نہیں کہ دوسری خبر موصول ہوتی ہے ۔پھر ہر بستی شوپیان بن جاتی ہے کہ مر بھی جائو لیکن کسی وردی پوش سے استفسار نہ کرو  اور اگر کہیں صاحبان اقتدار نے جرات کا مظاہرہ کرکے رپورٹ درج بھی کروائی تو مالکان سیاست میدان میں کودیں گے ،ایف آئی آر پر سوال اٹھائیں گے ، صحافتی مچھلی بازار میں شور و غوغا ہوگا،کچھ باقی بچا تو عدالتی نظام میں جوابدہی ہوگی ۔ابتدائی رپورٹ پر قدغن لگے گی۔پروب کی اینٹ سے اینٹ بجے گی، تحقیقات کا پرزہ پرزہ اُڑے گا، انصاف کے ترازو کی ڈنڈی بھونچال سے لرزے گی، انصاف کی دیوی کی آنکھوں پر پٹی پڑی رہے گی مانو اِدھر قوت گویائی پر قدغن ہے ادھر شنیدن و دیدن پر پہرے ہیں۔  خون بہتا رہے گا  اور کسی سے پرخاش نہیں کہ وہ تو صاحبان اختیار ہیں ۔ان کے جسم پر مخصوص وردی ، کندھے سے لٹکے مہلک ہتھیار ہیں ، افسپا کا انصاف پروف جیکٹ زیب تن ہے ۔اس سے زیادہ اور کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ ابھی ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن نہ ہوئے کہ تین کے بعد پانچ مارے اور جو لیبل چپکانا چاہا وہ نام دے دیا ۔کبھی سنگ باز کے نام پر، کہیں آتنک واد کی دہائی دیکر اور اب بالائی ورکر کی فہرست تیار کر کے فہرست  لمبی کرائی جارہی ہے۔  ایسے میں کسمپرسی کی حالت میں جمہوری تماشے سے چنے گئے لوگ بس مذمتی بیان دینے پر اکتفا کر گئے۔خون بہا کے نام پر چند سکے منظور کئے ۔ مانا کہ صحافت کا ایک مچھلی بازار ہے لیکن حاشیے پر ہی سہی کچھ تو ضمیر کے قیدی بھی ہیں کہ آواز اٹھاتے ہیں قلم کو جنبش دیتے ہیں اور اسی سے تلوار کا کام لیتے ہیں۔حق تو یہ کہ ایسا کرنا دو دھاری تلوار کے مترادف ہے۔یقین نہ آئے تو وہ نصیحت یاد کر و جو محترم المقام اے این آئی نے دے ڈالی کہ اچھے صحافی کا کام ہے وہ سرکار کے تعمیراتی ایجنڈے کی پذیرائی کرے ، آگے بڑھائے، اسی کی جے جے کار کرے ۔ یعنی بھلے ہی طول و عرض میں ہاہا کار ہو لیکن کوئی سوال نہ اٹھائے بلکہ سرکار کی بیان بازی کو حرف آخر تصور کرے اس پر یقین لائے ، اسی کے حق میں بینڈ باجا بجائے بلکہ بارات بھی لیکر جائے ، پھولوں کے ہار پہنائے،اور اگر کوئی مخالفت کرے اسے دیش دروہی کہلائے  ۔نہیں تو شوپیان ہوگا ، یوسف کامران ہوگا ، داروغہ زندان ہوگا    ؎
قاتل کی یہ دلیل منصف نے مان لی 
 مقتول خود گرا تھا خنجر کی نوک پر
مگر یہ کون ہے جو وردی پوشوں کے بارے میں کچھ غلط ملط باتیں سنا رہا ہے کہ ان کی بندوقیں آئیں بائیں شائیں چلتی ہیں کہ اھر ہولی کا موسم ہے تو سرخ رنگ  بکھیر دے اور اگر دیوالی ہو تو پٹاخے پھوٹے ۔بھلے ہی دیر ہوجائے لیکن کمانڈر صاحب کو تو تین دن بعد احساس ہو ہی جاتا ہے کہ عام سویلین تھے ۔بندوق کے ساتھ کوئی واسط نہیں تھا، یعنی  زمین دوز تھے نہ ہی بالائی کارکن۔بس افسپا کی دہشت کا شکار ہوئے ۔وردی پوشوں کے غرور کی بھینٹ چڑھے ۔اقلیت دشمن سیاستدانوں کی چاپلوسی تلے روندے گئے ۔ہم تو نوحہ بھی نہیں لکھ سکتے کہ دیش دروہی کی تلوار سر پر لٹکتی ہے ۔شاعر مشرق ؒ سے معذرت کے ساتھ    ؎
کیوں امید و روزگارمیںحائل رہے پردے 
پیران سلیکشن بورڈ کو بورڈوں سے ہٹا دو
جانے پیران سیلکشن بورڈ کس مٹی کے مادھو ہیں کہ ہر سرکار میں اپنی جگہ بناتے ہیں، اپنا سکہ جماتے ہیں، اپنی دھاک بٹھاتے ہیں ، اور پھر جسے چاہیں اسے پروانہ ہاتھ میں تھماتے ہیں کہ چل جا بیٹا عیش کر ، عیش ہی کیا یہی پروانہ کیش کر۔ہم تو سوچتے ہیں کہ مشتاق پیر سے لے کر منصور پیر تک ان کے کیاسرخاب کے پر لگے ہیں کہ جو سیدھے منہ پاس نہیں ہوتے وہ ٹاپ کیسے کرتے ہیں ۔پھر کہیں ڈاکٹر بنتے ہیں کہیں افسر ی کی پہلی سیڑھی پار کرتے ہیں کہ آگے کوئی کھائی کوئی پہاڑ پار کرنا نہیں پڑتا جبھی تو کہیں ہوٹل میں بیٹھ کر مزے سے امتحان دیتے ہیں کہ لکھتے لکھتے تھک گئے تو چائے کباب کا آرڈر دیدیا ۔چٹنی کے ساتھ نوش کیا پھر کہیں کوئی نوٹ لکھا اور جب سرکاری نوکری کی بات بنی تو کچن کیبنٹ سے لیکر کچن انتظامیہ ہی کیوں بنتی ہے ۔ایسا نہیں کہ جو امید باندھے تھے وہ بے یارو مدد گار ہیں کیونکہ ان کی طرف سے جو آواز اٹھی تو پروانہ ہوا میں اچھال کر بولا گیا کہ اتنا شور کس لئے ، یہ لو اس کا تعویذ بنا کر گلے میں ڈال دو بھلا ہمیں اس کی کیا ضرورت ۔ ہم تو فتو یٰ دینے والے لوگ ہیں۔ جب پارٹی اپنی، سرکار اپنی ، پھر یہ معمولی آرڈر کیا معنی رکھے ۔ایسے میں بانوئے کشمیر نے ایک اور تحقیقات کا حکم دیا ۔ہو نہ ہو انہیں اب خواب میں بھی تحقیقات کے آرڈر دکھائی پڑتے ہوں کیونکہ آخر خواب تو خواب ہے جس نے دیکھا بھلا اسے کون روکے۔کسی نے نیا کشمیر کا خواب دیکھا تھا کسی نے سیلف رول کا ، کسی نے رائے شماری کا اور کسی نے آزادی کا ۔نیا کشمیر تو نیا کشمیر ہریسے کی دوکان بنا اور بائیس سالہ آوارہ گردی پر منتج ہوا۔سیلف رول والے خواب کی تعبیر مخلوط سرکار اور قطبین کے ملاپ کی نذر ہوا ۔رائے شماری اور آزادی کی تعبیر آئے دن کی ہڑتال کال میں سمائی جارہی ہے ۔ 
وہ تو بڑے بڑے دعوے کرتے تھے کہ ملک کشمیر کا سیاسی حل نکالیں گے۔مملکت خداداد سے بات چیت کی بحالی کروائیں گے۔پھر بر صغیر میں امن ہوگا ۔سرحدیں نہیں رہیں گی، کوئی خون نہیں بہے گا، کسی ماں کی گود نہیں اجڑے گی، کوئی بچہ باپ کے سائے سے محروم نہ ہوگا کسی دلہن کا سہاگ نہ اجڑے گا ، کسی کی عصمت نہ لٹے گی ۔پر وہ جو کنول والا مادھو گرجا کہ مملکت خداداد سے بات چیت دلی دربار کے اختیار میں ہے تو کہیں سے قلم دوات والوں کی روشنائی کیا پھوٹتی لب بھی نہ ہلے ،مانو کنول والا سانپ سونگھ گیا ہو۔ ہل والا ٹویٹر ٹائگر تو ہر بات پر ٹویٹر چڑیا اڑاتا ہے لیکن اس کا کیا وہ تو حزب اختلاف میں بیٹھا ہے ۔ اب کی بار سنا ہے کہ بانوئے کشمیر کو وہ طوق یاد دلایا گیا جسے قطبین کا ملاپ، مرد مومن کا خواب کہئے، انقلابی قدم کہئے ۔ مانا کہ یہ سب باتیں وزارت کی کرسی کی شکل میں سامنے ہیں کہ اس پر بیٹھا جائے نہ اسے چھوڑا جائے۔چھوڑنے کی سوچ نہیں سکتے کہ بیروزگار اہل خانہ جائیں گے کہاں اور چِپکے رہیں تو دلی دربار میں کبھی کھانسی آئی تو بجبہاڑا میں چھاتی میں درد محسوس ہوتا ہے۔ناگپور میں کہیں زکام ہوا تو گپکار میں ناک سے رینٹ بہتی ہے۔جبھی تو سنا ہے کہ ٹویٹر کی چڑیا اڑانے پر بھی پابندی لگی ہے۔یہ چڑیا کتنے پر پھیلائے اس کی اجازت دلی دربار سے لینی ضروری بن گئی ہے کہ کہیں پر زیادہ پھیلے توکنول بردار جموں میں اس کے سبب اٹھنے والی دھول ناک ، کان ، آنکھ میں پاتے ہیں ۔ایف آئی آر پر عدلیہ کی پابندی، ٹویٹر پر کنول برداروں کی ہتھکڑیاں، سیاسی بیان بازی پر اپنوں کی بیڑیاں، جائیں تو کہاں جائیں۔ جانے ہمیں اپنے اسکول کے دن کیوں یاد آنے لگے۔وہ جو ہاتھ اٹھا کر ماسٹر جی سے پاس کی اجازت طلب کرتے تھے ، ماحول کچھ ایسا ہی بناہے ۔ہم تو حیران ہیں کہ مرد مومن نے خوب دیکھا تھا تو کیا دیکھا؟ 
خیر یہ تو بڑے لوگوں کی بڑی باتیں ہیں۔کوئی کس کو بولنے دے ، تولنے دے، کہنے دے، سہنے دے ۔یہ تو ان کا معاملہ ہے  کیونکہ وہ تو راجہ ہیں ہم تو رنک ہیں۔کہاں راجہ بوج اور کہاں گنگو تیلی۔لیکن ہمیں تو پہلے بتایا گیا کہ بنک اکاونٹ کھول دو تو فائدہ ہوگا۔ہم خوشی سے پھولے نہ سمائے کہ شاید وہ پندرہ لاکھ جمع ہونے والے ہیں جن کا وعدہ مودی مہاراج نے الیکشن کے دوران کیا تھا ۔پر ہم تو پتے کی بات کہاں سمجھے تھے کہ اصل میں کسی اور مودی کو فائدہ ہونے والا ہے جو بڑے مودی کے ساتھ تصاویر کھنچواتا ہے۔بنکوں سے بارہ ہزار کروڑ نکال کر انہیں انگوٹھا دکھاتا ہے کہ میرا نام بدنام کردیا اب میں کوئی پیسہ واپس نہ دوں گا اور اگر دوں بھی تو فقط پانچ ہزار کروڑ ۔
یعنی کھانے والے کھا کر چلے گئے اور ملک کا چوکیدار تھک ہار کر سو گیا، یہی سپنا دیکھتے دیکھتے کہ نہ کھائوں گا نہ کھانے دوں گا ، البتہ کھانے والوں کو اپنے فوٹو میں رکھوائوں گا تاکہ وہ ہر کسی کی پہچان میں آسکیں۔
رابط[email protected]/9419009169