عظمیٰ نیوز سروس
رورکی //اتراکھنڈ کے رورکی سے تعلق رکھنے والے بھارتی آبی جہاز کے کیپٹن آشیش شرما، 65 دن تک آبنائے ہرمز میں جنگی حالات کے درمیان پھنسے رہنے کے بعد بحفاظت اپنے گھر پہنچ گئے، جہاں اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ کیپٹن نے واپسی پر ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران سمندر میں گزرے خوفناک لمحات بیان کیے۔کیپٹن آشیش شرما ایک بڑے روسی آئل ٹینکر پر تعینات تھے، جو جنگی صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز میں دیگر ہزاروں بحری جہازوں کے ساتھ محصور ہوگیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی آبنائے ہرمز کی بندش کا حکم ملا، تمام جہاز وہیں رک گئے اور عملہ مسلسل خوف و ہراس میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوگیا۔ کیپٹن کے مطابق رات کے وقت آسمان پر میزائلوں اور ڈرون حملوں کی روشنیاں صاف دیکھی جا سکتی تھیں۔ ایران کی جانب سے داغے گئے کئی ڈرون اور میزائل سمندر میں گر رہے تھے جبکہ کچھ جہازوں سے ٹکرا کر آگ لگا رہے تھے۔ ان مناظر نے عملے کے ہر فرد کو شدید خوفزدہ کر رکھا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ان کے جہاز پر کل 24 افراد موجود تھے، جن میں سے 12 کو پہلے ہی محفوظ طریقے سے واپس بھیج دیا گیا تھا، لیکن باقی عملے کے ساتھ وہ خود جہاز پر موجود رہے تاکہ حالات کو سنبھالا جا سکے۔
بعد میں وہ تین دیگر ساتھیوں کے ساتھ دبئی کے راستے دہلی پہنچے اور پیر کی رات اپنے گھر واپس آئے۔ کیپٹن آشیش شرما نے کہا کہ ابتدا میں وہ اپنے اہل خانہ سے رابطے میں تھے، مگر بعد میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سگنل جیمرز نصب کیے گئے جس سے رابطہ تقریباً منقطع ہوگیا۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی مدد کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ جہاز پر موجود ہر شخص کو ہر لمحہ موت کا خوف لاحق تھا، مگر بطور کپتان انہوں نے کبھی اپنا خوف عملے پر ظاہر نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے عملے کا حوصلہ برقرار رکھا اور مسلسل انہیں اعتماد دلاتے رہے۔ کیپٹن کے مطابق اس وقت بھی آبنائے ہرمز میں صورتحال کشیدہ ہے اور بحری آمدورفت تقریباً معطل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چند بھارتی جہاز ضرور وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں، لیکن مجموعی طور پر راستہ اب بھی بند ہے۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ ایران کی جانب سے ناکہ بندی کے بعد ہزاروں جہاز اور بیس ہزار سے زائد ملاح مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔ امریکی افواج نے “پروجیکٹ فریڈم” کے نام سے ایک آپریشن بھی شروع کیا ہے تاکہ محصور جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے، تاہم ایران نے اس اقدام کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔