فاضل شفیع بٹ
“مبارک ہو سلیم الٰہی!۔۔۔۔ اللہ نے آپ کو بیٹی جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے۔ ۔۔۔۔۔جی ہاں……..! آپ باپ بن گئے ہیں اور دونوں ماں بیٹی صحیح سلامت ہیں”
یہ الفاظ سن کر سلیم کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو نمودار ہوئے۔ اس نے اپنے رب کا شکر ادا کیا۔ سلیم الٰہی پیشے سے ایک مزدور تھا جو اپنا خون پسینہ ایک کر کے اپنی ماں اور بیگم کا بہت اچھے سے خیال رکھتا تھا۔ محنتی ہونے کے ساتھ ساتھ سلیم بہت ہی نیک سیرت اور ایک دیندار انسان تھا۔ بیٹی کی پیدائش سے اب ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھ گیا اور سلیم الٰہی نے دل میں قصد کیا کہ وہ دن رات محنت و مشقت سے اپنی بیٹی نرگس کی تعلیم و تربیت کی طرف خاصا دھیان دے گا۔ دن بھر مزدوری کے بعد جب سلیم گھر لوٹتا، تو نرگس کی ننھی مسکراہٹ سے اس کی دن بھر کی تھکان غائب ہوجاتی۔ نرگس کی امی نیلوفر نے اپنی بیٹی کی ابتدائی پرورش میں اچھا خاصا کردارادا کیا۔ اس نے نرگس کو بولنے کا ہنر، اپنے بڑوں کا ادب و احترام، کھانے پینے کے آداب اور سب سے ضروری قرآن پاک کی تعلیم سے آراستہ کیا۔
نرگس چھ سال کی ہو چکی تھی اور اب اسکول میں داخلہ کرانا مطلوب تھا۔ سلیم الٰہی نے شہر کے بہترین اسکول میں نرگس کا داخلہ کیا۔ نرگس بہت ہی خوش اخلاق ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ذہین بچی بھی تھی جو دل لگا کر اپنی پڑھائی کی طرف دھیان دیتی تھی۔ وقت گزرتا گیا اور نرگس دسویں جماعت میں آگئی۔ وہ اب بالغ ہو چکی تھی اور اپنے ماں باپ کی ایک فرمان بردار بیٹی تھی۔ اپنے ماں باپ کا ہر حکم ماننا اور ان کی خدمت کرنا اپنا فرض سمجھتی تھی۔ اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ اپنی ماں کے ہر کام میں ہاتھ بٹاتی تھی اور ہر روز اپنے تھکے ہوئے بابا کے پیر دھویا کرتی تھی۔ یہ سب ایک بہترین پرورش کا نتیجہ تھا۔
سلیم اور نیلوفر اپنی بیٹی سے بہت ہی خوش تھے اور ہر وقت نرگس کی کامیابی کے لیے اللہ کے حضور دعائیں کرتے تھے۔ دسویں جماعت کے امتحانی نتائج نے سب کو حیران کر دیا۔ نرگس نے امتیازی پوزیشن سے دسویں کا امتحان پاس کیا۔ نرگس نے اپنے ماں باپ کے ساتھ ساتھ پورے شہر کا نام روشن کیا۔ نرگس کو لاتعداد انعامات سے نوازا گیا۔ سلیم اور نیلوفر نے اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر نرگس کی تعلیم و تربیت کا جو پودا بویا تھا، آج اس کا پھل پا کر دونوں نے بڑی مسرت کا اظہار کیا اور اپنے رب کا شکر ادا کیا۔
نرگس نے دل لگا کر اپنی تعلیم کو جاری رکھا اور چند سالوں میں ایم -اے کی ڈگری اول درجہ سے حاصل کی اور ایک پرائیویٹ کمپنی میں ماہانہ پانچ ہزار روپیہ تنخواہ کے عوض کام کرنا شروع کیا۔ سلیم الٰہی نے اب راحت کا سانس لیا کیونکہ اب گھر کا خرچہ چلانے میں نرگس بھی مدد فراہم کرنے لگی۔ سلیم اپنی بیٹی سے بے انتہا محبت کرتا تھا اور اس کو ہمیشہ اپنے قریب دیکھنا چاہتا تھا۔ نرگس کی جدائی اس کو قطعی طور منظور نہ تھی، لیکن بیٹیاں گھر کی وہ نازک امانت ہوتی ہیں جو بالآخر اپنےاصل حقدار کے سپرد کر دی جاتی ہیں۔
نرگس کے لئے اب شادی کے رشتے آنے لگے لیکن نرگس جس معاشرے کا حصہ تھی، وہاں شادی کرنا ایک مشکل کام تھا اور جہیز اکٹھا کرنا اس سے بھی مشکل ترین۔ نرگس کی ایک شادی شدہ سہیلی نے کہا تھا
” جس لڑکی کے ساتھ جتنا جہیز جاتا ہے، اس کی اتنی ہی عزت کی جاتی ہے اور یہ عزت کب تک کی جائے گی یہ سسرال والوں پر منحصر ہے”۔
یہ بات نرگس کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی کیونکہ وہ اپنے باپ کی مفلسی سے آشنا تھی اور اسے اس بات کا علم تھا کہ جہیز دینا اس کے والد کے بس کی بات نہ تھی۔ دوسری جانب نرگس یہ بھی بخوبی جانتی تھیں کہ جن لڑکیوں کے ساتھ جہیز نہیں جا پاتا یا کم جاتا ہے، ان کی داستانیں آئے روز اخباروں میں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ایسی عورتیں یا تو چولہا پھٹنے سے مر جاتی ہیں یاسیڑھیوں سے پھسل کر گر جاتی ہیں یا گھر سے نکالی جاتی ہیں، یہ باتیں نرگس کے دماغ میں گردش کر رہی تھیں۔
سلیم الہٰی نے اپنی ساری جمع پونجی نرگس کی تعلیم و تربیت پر صرف کی تھی اور بیٹی کی شادی کو لے کر طرح طرح کے خیالات میں غرق رہتا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ جہیز دینا اس کے بس کی بات نہ تھی۔ جہیز کے چلتے، نرگس نے بہت سارے رشتےٹھکرا دیئے۔۔
ایک روز رخسانہ اپنے بیٹے حاتم کے لئے رشتہ لے کر نرگس کے گھر وارد ہوئی اور سلیم الٰہی سے اس کی بیٹی کا ہاتھ مانگا۔ اس سے پہلے کہ سلیم الٰہی کچھ بولتا، رخسانہ نے کہا:
“بھائی صاحب۔۔۔۔۔۔۔ ہم جہیز کے بالکل خلاف ہیں، یہ ایک لعنت سے کم نہیں ہے۔۔۔ البتہ اگر آپ اپنی بیٹی کو اپنی مرضی سے کچھ سامان مہیا کرتے ہیں ، تو وہ الگ بات ہے۔۔۔ مگر ہماری طرف سے کوئی مطالبہ نہیں ہوگا”
یہ سن کر سلیم خوشی سے پھولے نہ سمایا۔۔ شاید اس کی کوئی دعا رنگ لائی تھی۔۔ اس نے فوراً حامی بھر دی۔ شادی کی تاریخ مقرر ہوئی اور کچھ عرصے بعد نرگس اور حاتم کی شادی ہوئی۔
شادی کے فوراً بعد نرگس کو ایک اچھی خاصی سرکاری ملازمت ملنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ نرگس اپنی تنخواہ میں سے تھوڑی سی رقم اپنے غریب والدین کو بھیجا کرتی تھی اور ساتھ میں نرگس نے اپنے والد کو اس کی بگڑتی ہوئی صحت کو لیکر مزدوری کرنے سے منع کیا ۔ جب اس بات کا علم اسکی ساس رخسانہ کو ہوا تو اس نے نرگس پر تشدد کرنا شروع کیا اور وہ بنا کسی بات کے نرگس کو طرح طرح کے طعنے دیتیں۔ اب جہیز بھی ایک مدعا بن گیا۔ اس موڑ پر حاتم نے اپنی ماں کا ساتھ نبھانا مناسب سمجھا اور اس طرح نرگس پر جسمانی اور ذہنی تشدد اب ایک معمول بن گیا۔ ڈیوٹی سے آنے کے بعد حاتم نرگس کو بری طرح پیٹنے لگا اور ایک ایک پیسے کا حساب لینے لگا۔
نرگس بے بس تھی۔ ایک طرف اس کا بوڑھا باپ اور دوسری طرف سسرال۔ نرگس زندگی کے دلدل میں پھنس گئی تھی جہاں سے خود کو آزاد کرنا نا ممکن تھا۔
حاتم نے نرگس کو میکے جانے پر پابندی عائد کردی اور ساتھ میں اس کے ماں باپ کی اپنے گھر میں آنے پر روک لگا دی۔ حاتم کا یہ ظالمانہ قدم نرگس کے دل کو چھلنی کر رہا تھا۔ جس باپ نے اپنی ساری زندگی مزدوری کرکے اپنی بیٹی کو اس مقام پر پہنچایا تھا، آج اسی سے ملنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ نرگس سوچ رہی تھی کہ آخر ہم کس سماج کا حصہ ہیں؟ کیا ہمارا مذہب اسی بات کی تعلیم دیتا ہے؟ کیا یہاں کوئی واعظ نہیں جو لوگوں تک صحیح بات پہنچائے؟
نرگس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ وہ بھلا اپنے ماں باپ سے ایسی دوری کیسے برداشت کر سکتی تھی۔ اس نے بہت سوچ کر اپنے ماں باپ سے ملنے کا فیصلہ کیا اور اپنے میکے چلی گئی۔ بیٹی کی جدائی میں سلیم الہٰی کا برا حال تھا۔ اپنے لخت جگر کو گلے سے لگا کر سلیم نے بہت رویا اور اپنی بیٹی نرگس سے کہا کہ میں نے تمہاری شادی کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ حاتم کو جب اس بات کا علم ہوا تو وہ ننگے پاؤں نرگس کے گھر گیا اور اس نے اپنے سسر سلیم الٰہی کی بڑی بےعزتی کی اور ساتھ میں نرگس کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا اسے اور گھسیٹتے ہوئے گھر لے گیا۔ یہ سارا تماشہ پڑوسی دیکھ رہے تھے ۔ سلیم بے ہوش ہوگیا اور پڑوسیوں نے سلیم کو اسپتال پہنچا دیا۔
رخسانہ نے بھی نرگس کی خوب خبر لی۔ ماں بیٹے نے مل کر نرگس کا زد و کوب کیا۔ بے بس نرگس اللہ سے گلے شکوے کر رہی تھی کہ اس نے نرگس کو دنیا میں بیٹی بنا کر کیوں بھیجا؟ آخر کیوں اس حوا کی بیٹی کے ساتھ یہ ظلم عشروں سے جاری ہے؟ مگر روکنے والا کوئی نہیں ہے۔
اپنے شوہر اور ساس کے اس ناروا سلوک سے تنگ آکر نرگس نے اپنے سسرال کو چھوڑنے کا حتمی فیصلہ لیا۔ وہ ان ظالموں کے ساتھ آگے کی زندگی بسر نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ اس گھر میں بہو نہیں بلکہ کمانے والی نوکرانی کے برابر تھی حالانکہ نرگس نے اپنے فرائض کو بخوبی انجام تو دیا تھا مگر بد قسمتی سے اس کی ساس اور شوہر نے ہمیشہ اس کی بےعزتی کی تھی۔ کافی سوچ و بچار کے بعد نرگس نے اپنے سسرال کو ہمیشہ کے لئےالوداع کہہ دیا۔ نرگس نے سیدھے اسپتال کا رخ کیا جہاں اس کا باپ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ نرگس کو دیکھ، سلیم الٰہی کی پرنم آنکھیں دھیرے دھیرے بند ہونے لگی اور سلیم الہی اس ظالم دنیا کو چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملا۔ اب نرگس کے سر سے سایہ ہمیشہ کے لئے اُٹھ چکا تھا اور وہ اپنی ماں کے ہمراہ رہنے لگی۔
چند سال بعد نرگس نے دیکھا کہ شہر میں عورتوں کے خلاف ذہنی اور جسمانی تشدد اور جہیز کو لے کر کچھ لوگ جمع ہوئے تھے اور ایک آدمی زوردار لہجے میں یہ نعرے لگا رہا تھا:
” جہیز ایک لعنت ہے”۔۔۔۔۔۔” عورتوں کے خلاف جسمانی تشدد بند کرو، بند کرو”۔۔۔۔۔۔۔ !
جب نرگس نے غور سے دیکھا تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئ۔۔ یہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کا شوہر حاتم تھا۔۔ اس کا سر چکرانے لگا۔۔
چند روز بعد نرگس اخبار پڑھتے پڑھتے زوز زور سے ہنسنے لگی۔۔ اخبار میں کچھ اس طرح لکھا تھا۔۔
” شہر کےسب سے مشہور و معروف سماجی کارکن جناب حاتم صاحب کو عورتوں کے حقوق اور جہیز جیسی لعنت کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کرنے اور دیگر سماجی خدمات کی قدر کرتے ہوئے ریاستی حکومت کی جانب سے بہترین سماجی کارکن کے اعزاز سے نوازا گیا”
���
اکنگام، انت ناگ، کشمیر
موبائل نمبر؛9419041002