اومیکرون بحران،سال نو کے پہلے ویک اینڈ پر 4ہزار پروازیں منسوخ

لندن //کرسمس اور نئے سال کی چھٹیوں کے فورا بعد شروع ہونے والے رواں ہفتے کے آغاز پر ہوائی سفر کرنے والوں کو  دنیا بھر میں مشکلات کا سامنا  کرنا پڑا ہے، اومی کرون اور موسم کی خرابی کی وجہ سے گزشتہ روز 4 ہزار پروازیں منسوخ ہوئیں۔  منسوخ پروازوں میں آدھے سے زائد امریکا کی پروازیں شامل ہیں، فلائٹ ایئرکے مطابق پچھلے دس دنوں میں دنیا بھر میں 14ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔ پروازوں میں تاخیر اور منسوخی کی وجہ مسافر لوڈ کا زیادہ ہونا بھی ہے، پروازوں میں تاخیر اور منسوخی کے باعث مسافروں کو گزشتہ ایک ہفتے سے   ہی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔تا ہماتوار عام طور پر ہفتے کا سب سے مصروف سفری دن ہوتا ہے، اور کرسمس کی تعطیلات اور نئے سال کا ہفتہ ختم ہونے پر یہ اتوار ممکنہ طور پر سب سے زیادہ سفری دن تھا، یاد رہے ا?ج کے لیے 310 سے زیادہ امریکی پروازیں پہلے ہی منسوخ ہو چکی ہیں۔یہ مسئلہ اگلے ہفتے تک جاری رہنے کا امکان ہے کیونکہ ایئر لائنز کو موسمی مسائل سے نکلنے میں وقت لگے گا، جبکہ بہت سے پائلٹ، فلائٹ اٹینڈنٹ اور دیگر عملہ کورونا کی وجہ سے یا کسی متاثرہ شخص کے رابطے میں آنے کے بعد قرنطینہ میں ہیں۔فلائٹ ایئرکے مطابق، بین الاقوامی کیریئرز میں چائنا ایسٹرن نے 500 سے زیادہ پروازیں، اور ایئر چائنا نے 200 سے زیادہ پروازیں منسوخ کیں، جو اس کے شیڈول کا پانچواں حصہ ہے۔
 
 
 
 
 

آسٹریلیائی حکومت کا  کورونا ٹسٹ کیلئے فنڈ دینے سے انکار

کینبرا// آسٹریلیا کے وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے کورونا وائرس کے ٹسٹوں میں تیزی لانے کے لیے حکومتی فنڈ فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ مسٹر موریسن نے پیر کے روز کہا کہ وفاقی حکومت کووڈ-19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسی شرح سے اخراجات جاری رکھنے کی متحمل نہیں ہو سکتی جس شرح سے اس نے 2020 اور 2021 میں کی تھی۔انہوں نے کہا‘‘ ہم نے آسٹریلیا کو اس بحران سے نکالنے کے لیے سینکڑوں بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے ، لیکن ہم اس وبائی مرض کے اس مرحلے پر ہیں جہاں آپ سب کچھ مفت فراہم نہیں کر سکتے ۔"انہوں نے کہا کہ ہم اب وبائی مرض کے اس مرحلے میں ہیں جہاں آپ ہر چیز مفت میں دستیاب نہیں کر سکتے کیونکہ جب کوئی آپ کو بتاتا ہے کہ وہ کچھ مفت بنانا چاہتے ہیں تو کوئی ہمیشہ اس کی قیمت ادا کرنے والا ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ وبا دو سال سے جاری ہے ۔ یہ ناقابل یقین ہے کہ حکومت نے لوگوں کو نہ جانے کو کہا، لیکن لوگوں نے تیز رفتار اینٹیجن ٹسٹ کرائے ، جو دستیاب نہیں ہے اور نہ ہی قابل برداشت ہے ۔’’یہ بات قابل ذکر ہے کہ آسٹریلیا میں 2021 کے آخر تک 16 سال سے زیادہ عمر کی اہل آبادی میں سے 94.3 فیصد کو ویکسین کی پہلی خوراک دی جا چکی ہے ، جب کہ 91.3 فیصد آبادی کو دونوں خوراکیں مل چکی ہیں۔