انسانی دماغ، کمپیوٹر اور کووِڈ

کووِڈ – 19کی وبا نے گزشتہ دو برس سے پوری دنیا کو اپنے نرغہ میں لے رکھا ہے۔ طبی اور حیا تیاتی سائنس میں ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں ہم اس وبا کے بارے نہ صرف بہت جلد بہت زیادہ جان سکے بلکہ ساتھ ہی ساتھ اس کے تدارک کے لئے ویکسین بھی تیار کی گئی۔ رواں سال ہونے والی جنوری سے اور پھر مئی میں ہونے والی مسلسل تحقیقات کے نتیجے میںSARS-CoV2 کی تین نئی اقسام کی نشاندہی ہوئی جنہیں ہم بیٹا ، گا ما ، اور ڈیلٹا ویرینٹ کے نام سے جانتے ہے ۔ 
مسلسل جاری تحقیقات نے یہ بھی ثابت کیا کہ یہ ویر ینٹ مو جودہ ویکسینز کی افادیت کو کم کر سکتے ہیں، جس کے تدارک کے لیے مئی کے مہینے میں Pan Corona ویکسین تیار کی گئی اور بندروں میں اس کے کامیاب تجربات کے نتائج معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئے۔ مئی 2021 میں ہی ہالینڈ کے اندر Bees کو SARS CoV-2 کی نشاند ہی کے لئے تجربات کیے گیے ۔کووڈ 19 کے وائرس SARS CoV-2 کی ابتداءکافی عرصے تک ایک متنازع مضمون رہا ہے ۔ فروری 2021میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق اس وائرس کے پہلے مریض میں وائرس اس کے والدین سے منتقل ہوا جو کہ چین میں موجود Haung Sea Food Market سے اس وائرس کا شکار ہوئے تھے۔ 
البتہ ستمبر 2021 میں نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ایک خاص قسم کی چمگاڈر جو کہ Laos میں پائی جاتی ہے ،اس میں ایسے کورونا وائرس کی نشاندہی ہوئی جو کہ SARS CoV-2 سے باقی تمام کرونا وائرسز کے مقابلے میں جینیاتی طور پر زیادہ مشابہ ہے۔ ابتداء میں SARS CoV-2 کو RaTG13 نامی کورونا وائرس کی ارتقائی شکل قرار دیا گیا تھا جوکہ موجودہ SARS CoV-2 سے جینیاتی طور پر 96.1 فی صد مشابہ تھا لیکن ستمبر2021 میں شائع تحقیق کے مطابق Laos میں پائی جانے والی چمگاڈروں سے حاصل ہونے والا کورونا وائرس SARS CoV-2 سے96.8 فی صد مشا بہ ہے۔
یہ تحقیق اس بات کی طرف نشاندہی کرتی ہے کہ شاید SARS COV-2 چین سے و جودمیں نہیں آیا ۔ یہاں یہ بات بھی قا بل ذکر ہے کہ جہاں SARS CoV-2 ویکسینز کی فراہمی کے باعثCOVID-19 کی وبا پوری دنیا میں خاصی حد تک کنٹرو ل میں آگئی ہے ۔ وہیں COVID-19 کے پیش نظر کئے گئے حفاظتی اقدامات کے نتیجے میں وائرس کی ایک دوسری قسم Influenza B کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے ۔حالیہ صدی میں کسی بھی جاندار کی جینیاتی ساخت معلوم کرنے کے لئے ایک نئی تکنیک جسے Next Generation Sequencing کہا جاتا  ہے کو وضع کیا ہے۔ اس سے پہلے جس تکنیک کے ذریعے جینیاتی مادّے کی ساخت معلوم کی جاتی تھی اسے Sanger Sequencing کہا جاتا تھا۔ جینیاتی ساخت معلوم کرنے کے اس طریقے میں کافی وقت درکار ہوتا تھا۔ اس کے مقابلے میں Next Generation Sequencingخاصے کم وقت میں بہت زیادہ مقدار میں کئی جانداروں کی جینیاتی ساخت بتا سکتا ہے۔اسی باعث حالیہ Covid-19 کی وبا کے دوران ہمیں SARS-CoV-2 کی لاتعداد جینیاتی تبدیلیوں کا پتہ بہت جلد چل گیا۔ اسی کے باعث SARS-CoV-2 کے الفا ،بیٹا،گاما اور ڈیلٹا ویرینٹ اور اس کے پھیلائو کا ادراک قدرے کم وقت میں ہوگیا۔ گزشتہ ماہ کے اواخر میں اسی طرح کا ایک نیا ویرینٹ Omicron دریافت ہوا ہے۔ SARS-CoV-2 کا یہ ویرینٹ پہلے آنے والے SARS-CoV-2 کے ویرینٹ سے اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس ویرینٹ کے وائرس کی Spike Protein میں پہلے کے مقابلے میں کئی زیادہ تبدیلیاں موجود ہیں چوں کہ SARS-CoV-2 کے خلاف بنائی جانے والی تقریباً تمام ویکسینز Spike Protein کو ہی اپنے ہدف کے طور پر استعمال کرتی ہیں ۔لہٰذا اس بات کے خاصے امکانات موجود ہیں کہ SARS-CoV-2 کا Omicron Variant ان ویکسینز سے پیدا ہونے والی مدافعت سے بچ نکلے۔ لہٰذا یا تو ہمیں ویکسینز کی خوراک میں اضافہ کرنا ہوگا یا پھر مکمل طور پر ایک نئی ویکسین کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
حیاتیات اور طب :  جہاں حیاتیاتی اور طبی تحقیق COVID-19 کی وبا کی طرف مرکوز رہی و ہیں سائنس کی اس شاخ میں دیگر بیماریوں کے بارے میں عمدہ پیش رفت دیکھنے کو ملی۔ مثال کے طور پر جنوری اور اکتوبر 2021 میں با لتر تیب Multiple sclerosisاور ملیریا کی seniccaV متعارف کروا دی گئی ہیں ۔ فروری میں Science Advancesنامی ایک معروف سائنسی جریدے میں TBx5 نامی جین کی نشاندہی کی گئی جو کہ انسانی چہرے کے خدوخال بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح ایک تحقیق میں Zeb2 نامی جین کو انسانی دماغ کی ساخت اور نشونما کے لئے اہم قرار دیا گیا ۔ مئی 2021 میں Nature Genetics جریدے میںGenome wide association studies کے ذریعے انسانوں میں پائی جانے والی 260 ایسی تبدیلیوں کا پتہ چلایا گیا ہے جو کہ زندگی کے دورانیے کے لئے اہم ہیں ۔ انسانی مادّہ عمومی طور پر45 سال تک کی عمر تک Fertile رہ سکتی ہے ۔اگست میں کی جانے والی ایک تحقیق کے ذریعےان جینز کا پتہ لگایاگیاہے جو کہ تولیدی طور پرActive age کا تعین کرتے ہیں۔ لہٰذا جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے اب شاید یہ ممکن ہو سکے گا کہ اس عمر کو ضرورت کے تحت بڑھایا جا سکے۔ جینیاتی تبدیلیوں کو جانداروں میں کرنے کے کئی طریقے کار موجود ہیں۔ حاليہ ادوار میں CRISPR-CAS9 کے طریقہ کار نے اپنی افادیت واضح طور پر ثابت کی ہے ۔ رواں سال اس تیکنیک کو Muscular degeneration اور جگرمیں چکنائی کے علاج کے لئے استعمال کیا گیا۔ 
اس تیکنیک کو استعمال کرتے ہوئے جاپان میں ایسے ٹماٹر پیدا کئے گئے ہیں جو کہ GABA نامی ایک Neuro transmitter کے ذریعے انسانی نفسیات پر مفید اثرات مرتب کر تے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل autophagy پر کئی گئی تحقیق کا خاصہ چرچا ہوا تھا اور اس تحقیق کو کچھ لوگوں نے سیاق و سباق سے ہٹ کر اپنے خاص مقاصد کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا تھا۔ رواں سال ستمبر میں نیچر سائنسی جر یدے میں Drosophila melanogaster نامی ایک مکھی پر اس ضمن میں کی گئی تحقیقات کے نتائج شائع ہوئے۔ جن کے مطابق فا قوں کی وقفوں کے ساتھ ہو نے والی نو عیت ہی صحت پرمفید اثرات مر تب کر سکتی ہے لیکن ان فا قوں میں پانی کو لازمی استعمال کر نا چائیے ۔یہ حقیقت تو اب تقریباً تمام قارئین سائنس جانتے ہی ہوں گے کہ جاندارو کی تمام ساختی اور افعالی معلومات ان کے جینیاتی مادّے DNA میں موجود ہوتی ہے۔اس میں اپنی نقل تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے ۔ اس کام کے لئے وہ ایک پروٹین DNA Polymerase کو کام میں لاتا ہے ،اس کے علاوہ DNA جانداروں کی ساخت اور افعال کا تعین کرنے کے لئے RNA Polymerase نامی خامرے سے RNA تشکیل دیتا ہے۔ چند وائرسز میں RNA سے DNA بھی بنتا ہے۔ اس عمل میں ایک خامرہ Reverse Transcriptase بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ جون 2021ء میں Science Advances نامی ایک سائنسی جریدے میں ایک ایسے DNA Polymerase کی نشاندہی ہوئی جو کہ RNA کو Reverse Transcriptase کی طرح DNA میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اسے ’’پول تھیٹا‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ 
یہ دریافت اس لحاظ سے انتہائی اہم ہے کہ اس سے پہلے DNA Polymerase کے لئے صرف DNA سے DNA بنانے کےکام کی ہی جان کاری تھی۔ یہ پہلی مرتبہ معلوم ہوا ہے کہ کوئی RNA DNA Polymerase سے بھی DNA بنا سکتا ہے۔جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں ذکر کیا گیا ہے کہ DNA جانداروں کی ساخت اور افعال کا تعین کرنے کے لئے پہلے RNA بناتا ہے۔ یہ RNA بعدازاں Translation نامی عمل سے گزر کر پروٹین بناتا ہے۔ انسانی جسم میں اس کا جینیاتی مادّہ تقریباً 21000 مختلف قسم کی پروٹینز بناتا ہے۔ یہ تمام پروٹین ساختی اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں جن سے ان کے کام کا تعین ہوتا ہے۔لہٰذا کسی بھی پروٹین کے کام کو سمجھنے کے لئے ان کی ساخت کے بارے میں جاننا انتہائی اہم ہے۔ اس مقصد کے لئے کئی طرح کی تکنیک استعمال کی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر Cryo electron microscopy، Nucleic magnetic resonance یا X-ray crystallography انہی طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے اب تک مختلف جانداروں اور وائرسز کی تقریباً 150000 پروٹینز کی ساخت معلوم کر لی گئی ہیں۔ ان ساختوں سے حاصل ہونے والی معلومات کو استعمال کرتے ہوئے گزشتہ تین دہائیوں میں ایسے کمپیوٹر پروگرام بنائے گئے ہیں جو کہ بغیر کسی تکنیکی دقّت کے پروٹین کی ساخت کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔دُنیا بھر کے سائنسدان ان پروگرامز کو اپنی تحقیق کے دوران مسلسل استعمال کرتے ہیں۔ رواں سال جولائی میں برطانوی مصنوعی ذہانت کے ادارے Deep Mind نے مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوئے Alpha Fold نامی کمپیوٹر پروگرام بنایا ہے، جس کے ذریعے اب تک کئی لاکھ پروٹین کی ساخت کی پیش گوئی انتہائی دُرستی کے ساتھ کی گئی ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے اب کوئی بھی سائنسدان اپنی تحقیقاتی دلچسپی گھر بیٹھے ایک اچھے کمپیوٹر میں معلوم کرسکتا ہے۔ 
البتہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان کی ساخت معلوم کرنے کے بعد تجزیہ اتنا ہی صبر آزما اور کٹھن ہوتا ہے جتنا کہ کسی بڑی تکنیک سے حاصل ہونے والی پروٹین کی ساخت کا تجزیہ۔حالیہ اندازوں کے مطابق اس وقت کرۂ ارض پر تقریباً 87 لاکھ قسم کے جاندار موجود ہیں۔ ہر سال کی طرح 2021ء میں بھی کئی نئی قسم کے جاندار دریافت ہوئے ہیں۔ جن میں چند ایک ساختی اور افعالی اعتبار سے پہلے سے دریافت شدہ جانداروں کے مقابلے میں خاصے منفرد ہیں۔ مثال کے طور پر مارچ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ا یک خلوی جانوروں میں ایک ایسے بیکٹیریا Azoamicus Ciliaticola کی دریافت ہوئی ہے جو آکسیجن کی بجائے NO3 سے اپنی توانائی حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح جولائی میں گائے کے معدے میں سے تین ایسے بیکٹیریا دریافت ہوئے جو کہ پلاسٹک کو تحلیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایک اور تحقیق کے مطابق زمین پر موجود سب سے پرانے رکاز جو کہ دراصل بیکٹیریا میں ہی دریافت ہوئے۔ ایک تخمینے کے مطابق یہ رکاز تقریباً 3.4 اَرب سال پُرانے ہیں۔2021ء میں ہونے والی ان دریافتوں اور تحقیقات کے نتائج کو منطقی اس لئے نہیں کہا جا سکتا کہ ہر نئے سال مزید تجربات کچھ پرانے نتائج کو تجربات کی کمزوری کے باعث یکسر غلط ثابت کر دیتے ہیں یا اکثر ان میں مزید جہتوں کو متعارف کرتے ہیں۔ اسی عمل کے باعث سائنس مسلسل ترقّی کی طرف گامزن ایک لامتناہی سفر کا نام ہے۔ اسی میں سائنس کی خوبصورتی ہے اور شاید اسی کے باعث سائنسدان لاکھ ناکامیوں کے باوجود، اَن گنت اعصاب شکن آزمائشوں کا سامنا کرتے ہوئے علم کے اس سمندر سے باہر نکلنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ پھر انہی امتحانات کا سامنا کرتے ہوئے ہزاروں میں سے کچھ ایسےسائنسدان اُبھرتے ہیں جنہیں دُنیا آئزک نیوٹن، چارلس ڈارون، البرٹ آئن اسٹائن، مادام کیوری، نکلوس ٹیسلا، الرازی، جابر بن حیّان، ابن الہیشم اور عبدالسلام کے نام سے جانتی ہے۔ یہی چند لوگ پھر اپنی پوری قوم کو علم اور ٹیکنالوجی کی معراج پر پہنچا دیتے ہیں۔
2021 ء :سائنس کے میدان میں دئیے جانے والے نوبل انعامات :    enicideM rO ygoloisyhP کا نوبل انعام امریکہ سے تعلق رکھنے والے David Julius اور Ardem patapotian کو دیا گیا ہے ۔ ان سائنس دانوں کی تحقیق کا موضوع اعصابی نظام کے درج حرارت اورلمس کو محسوس کرنے کی صلاحیت سے ہے ۔ کیمیا کا نوبل انعام امریکہ کے David Macmillan اور جرمنی کے Benjamin list کی نامیتائی خامروں کی بناوٹ اور تخلیق کو دیا گیا ۔ طبیعیات کا نوبل انعام جرمنی کے Klaus Hassleman جاپان کے Sykuro Manabe اور اٹلی کےGiorgo Parisi کےنا م رہا۔ جن کی تحقیق ماحول میں ہونے والی طبعی تبدیلیوں کی میکانیت سے ہے ۔