ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ تاریخ اسلام کے پہلے باب کا زریں عنوان ہیں۔ یہ دنیا کی پہلی خاتون ہیں جنہوں نے عیش و عشرت کی زندگی ترک کرکے اپنی ساری دولت اپنے شوہر نامدار کے قدموں پر نچھاور کردی۔ طبقہ نسواں کیلئے ان کا اسوہ قیامت تک ایک نمونہ رہے گا کیونکہ عام خیال یہی ہے کہ عورت دولت کی رسیا ہوتی ہے۔ ام المومنین کے اسوہ حسنہ سے اس خیال کی تردید ہوگئی ۔ عورت مال دار ہو اور شوہر مفلس تو اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ شوہر کی فرمانبردار نہیں ہوتی ۔ شوہر صالح ہوتو چاہے دوسروں کی نظروں میں کتنا بلند مقام کیوں نہ رکھتا ہو سرکش بیوی کی نگاہوں میں اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ حضرت نوح ؑاور حضرت لوط ؑکی بیویوں کی مثال موجود ہے۔ جو دونوں اپنے عظیم المرتبت شوہروں کی نافرماں تھیں۔ ان کے مقابلے میں فرعون کی بیوی حضرت آسیہ کی مثال موجود ہے، جو اپنے وقوت کے سب سے سرکش انسان کی اہلیہ ہیں مگر شاہی ماحول میں رہتے ہوئے بھی صالح ؑمزاج عورتوں کیلئے ایک بہترین نمونہ ہے۔ ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ بھی قیامت تک عورتوں کیلئے بہترین مثال ہے ۔ ان کا ایک امتیازی وصف یہ ہے کہ وہ امام المرسلینﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں۔ تمام مسلمانوں کی ماں ہیں اور ان کے اثرات سے تاریخ اسلام کا ورق روشن ہے۔
ام المومنینؓ قریش کی ایک عالی نسب خاتون تھیں۔ ان کے والد کا نام خویلدبن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی تھا۔ قصی پر ان کا سلسلہ نسب آنحضرت ﷺ کے نسب سے ملتا ہے ۔قصی کے چھ بیٹوں میں سے دو کے نام عبدمناف اور عبدالعزیٰ تھے ۔ آنحضرت کا سلسلہ نسب عبد مناف سے ملتا ہے یعنی محمد ﷺبن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قصی۔ ام المومنین کا سلسلہ نسب عبدالعزیٰ سے ملتا ہے یعنی خدیجہ ؓ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی آنحضرت ﷺ کے پردادا ہاشم اور ام المومنین کے دادا اسد آپس میں چچازاد بھائی تھے۔ ام المومنین کے والد ہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا جن کے باپ اپنے قبیلہ کے ممتاز فرد تھے۔ ام المومنین کے والد خویلد قریش کے معزز تجارت پیشہ شخص تھے۔ جنہوں نے تجارت سے بڑی دولت کمائی تھی۔ عام الفیل سے پہلے ان کے گھر میں ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام خدیجہ رکھا گیا۔ جس کا سال پیدائش تقریباً68ق ھ ہے ۔اگر مشہور سیرت نگار ابن اسحٰق کی اس رائے کو مانا جائے کہ شادی کے وقت حضرت خدیجہ ؓ کی عمر28سال اور رسول اللہ ﷺ کی پچیس سال تھی تو ان کا سال پیدائش56 ق ھ کے آس پاس ہوسکتا ہے جو عام الفیل سے تین سال قبل کا واقعہ ہے۔ خویلد کے متمول گھرانے میں لڑکی ناز و نعم میں پلی بڑھی ۔ جب شادی کی عمر کو پہنچی تو ایک معزز شخص ابو ہالہ بن زرارہ تمیمی کے ساتھ ان کا نکاح ہوا۔ ابو ہالہ سے حضرت خدیجہ ؓ کے دو لڑکے ہوئے ایک کا نام ہند اور دوسرے کا حارث تھا۔ شادی کے کچھ سال بعد ابوہالہ کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ ؓ کی شادی عتیق بن عائذمخزومی سے ہوئی جن سے ایک لڑکی ہوئی۔ اس کا نام بھی ہند تھا۔ اسی وجہ سے حضرت خدیجہ ؓ کو ام ہند بھی کہا جاتا تھا۔ عتیق بن عائذ مخزومی بھی شادی کے تھوڑی مدت بعد انتقال کرگئے۔بعض مورخین کے مطابق اس کے بعد حضرت خدیجہ ؓ کی شادی ان کے چچیرے بھائی صیفی بن امیہ سے ہوئی ۔وہ بھی جلد ہی انتقال کرگئے تاہم کچھ مورخین نے اس تیسری شادی کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اس کے بعد معزز ین قریش کی طرف سے شادی کیلئے متعدد پیغامات آئے مگر انہوں نے انکار کیا۔
ام المومنین کے والد خویلد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے’ حرب فجار‘ سے پہلے وفات پائی تھی۔ حربِ فجار کے وقت آنحضرت ﷺ چودہ سال کے تھے۔ ام المومنین کو تجارت کا شغف ورثے میں ملا تھا۔ وراثت میں جو دولت پائی تھی اس سے انہوں نے تجارت کرکے اس قدر سرمایہ کمایا کہ قافلہ میں ان کا سامان تجارت قافلے میں شامل دوسرے تمام تاجروں کے سامان کے برابر ہوتا تھا۔ وہ مضاربت کے اصول پر کسی معتمدشخص سے معاملہ طے کرکے اسے سامان تجارت دے کر قریش کے قافلے کے ساتھ بھیجتی تھی۔ اس لئے انہیں امانت دار اشخاص کی تلاش رہتی تھی۔ مکہ میں ان دنوں آنحضرت ﷺ کی راستبازی اور دیانتداری کا چرچا تھا۔ حضرت خدیجہ نے آپ ﷺ کے بارے میں سنا تو پیغام بھیجا کہ آپ میرا سامان تجارت لے کر جائیں میں ،دوسروں کو جو معاوضہ دیتی ہوں آپ کو اس سے دوچنددونگی۔ آنحضرت ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب سے مشورہ کیا۔ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ اس پیش کش کو ہاتھ سے مت جانے دو اور جاکر معاملہ طے کرلو۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ حضرت خدیجہ کے پاس گئے اور معاملے طے کیا۔ جب قافلہ کی روانگی کا دن آیا تو آپ ﷺ حضرت خدیجہ کا تجارتی سامان لے کر بصریٰ (شام) کیلئے قافلہ کے ساتھ روانہ ہوئے۔ حضرت خدیجہ ؓ نے آپ ﷺ کے ساتھ اپنا غلام میسرہ بھی بھیجا۔ بصریٰ میں آپ ﷺ نے سامان تجارت بیچ کر خاصا نفع کمایا۔ قافلہ جب واپس ہوا اور مکہ پہنچا تو حضرت خدیجہ ؓ نفع کی برکت دیکھ کر خوش ہوئیں۔ انہوں نے میسرہ سے آپ ﷺ کے اخلاق و عادات کے بارے میں سوالات پوچھے۔ میسرہ نے آپ ﷺ کے پاکیزہ اخلاق، حسن معاملہ اور صدق و دیانت کی ایسی تصویر الفاظ میں کھینچ دی کہ حضرت خدیجہ ؓ بہت متاثر ہوئیں۔ انہوں نے آپ ﷺ کو چار اونٹ معاوضہ میں دئے جب کہ اب تک وہ دو دو اونٹ معاوضے میں دیا کرتی تھیں۔ حضرت خدیجہ ؓ اپنی عفت ، پاک دامنی اور شرافت کیلئے جانی جاتی تھی۔ مکہ کے لوگ انہیں ’’طاہرہ‘‘ کے لقب سے پکارتے تھے۔
بصریٰ کے سفر سے واپسی کے تقریباً تین ماہ بعد حضرت خدیجہ ؓ کی ایک سہیلی نفیسہ بنت منبہ نے بات چلائی ۔نفیسہ نے آنحضرت ﷺ کے پاس جاکر شادی کے بارے میں ان کا عندیہ معلوم کرنا چاہا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری آمدنی اتنی قلیل ہے کہ بیوی کی کفالت نہیں کرسکتا ۔پھر یہ بھی ہے کہ اگر کسی کو پیغام بھیجوں تو مجھ جیسے نادار کو کون رشتہ دے گا؟ نفیسہ نے کہا کہ اگر آپ راضی ہوں تو وہاں آپ کا رشتہ کرادوں گی جہاں شرافت اور عالی نسبی بھی ہوگی اور مال و دولت میں بھی قریش کا کوئی خاندان اس کا ہمسر نہ ہوگا۔ آپ ﷺ نے پوچھا ایسی کونسی عورت ہوگی تو نفیسہ نے جواب دیا ’’خدیجہ بنت خویلد‘‘۔ آپ ﷺ نے پوچھا کیا وہ اس رشتہ کیلئے تیار ہوگی؟ نفیسہ نے جواب دیا کہ آپ اپنی منظوری دیں ،انہیں راضی کرنے کی ذمہ داری میری ہے۔ میں انہیں اس کے لئے آمادہ کرنے کی پوری کوشش کروںگی۔
عربوں میں عورتوں کی طرف سے شادی کی بات چلانا معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا ۔ انہیں شادی بیاہ کی بات کرنے کی آزادی تھی مگر خاندانی اور سماجی روایات کی پاسداری کا بہت خیال رکھا جاتا تھا۔
آنحضرت ﷺ نے نفیسہ کی بات کا تذکرہ اپنے چچائوں ابو طالب اور حمزہ ؓ سے کیا تو انہوں نے خوشی اور رضامندی کا اظہار کیا اور حضرت خدیجہ کے چچا عمر بن اسد کے پاس پیغام بھیجا کہ ہم اپنے بھتیجے کیلئے آپ کی بھتیجی کا رشتہ مانگتے ہیں۔ حضرت خدیجہ ؓ نے بھی نفیسہ کی بات سے اپنے چچا عمر بن اسد اور خاندان کے دوسرے لوگوں کو آگاہ کیا تھا۔ اس نے جب عمر بن اسد کے پاس آپ ﷺ کیلئے حضرت خدیجہ ؓ کے رشتے کا پیغام آیا تو انہوں نے خوشی اورمسرت کے ساتھ اسے منظور کرلیا۔ شادی کیلئے تاریخ مقرر کی گئی ۔ مقررہ تاریخ پر ابو طالب ، حضرت حمزہ اور بنو ہاشم کے تمام معزز اشخاص آنحضرت ﷺ کو لے کر حضرت خدیجہ ؓ کے مکان پر گئے۔ بعض روایات کے مطابق براتیوں میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ بھی شامل تھے۔ آنحضرت ﷺ کے ساتھ انکی پچپن کی دوستی کو دیکھتے ہوئے یہ قرین قیاس بھی ہے۔ حضرت خدیجہ ؓ کے مکان پر ان کے چچا عمر بن اسد ، ان کے چچیرے بھائی ورقہ بن نوفل اور خاندان کے دوسرے معززین نے برات کا استقبال کیا۔ ابو طالب نے خطبہ نکاح پڑھا جس میں انہوں نے خدا کا شکر ادا کرنے کے بعد اپنے خاندان کے اوصاف اورآنحضرت ﷺ کے فضائل بیان کئے اور حضرت خدیجہ ؓ سے ان کے نکاح کا تذکرہ کیا۔
شادی کے بعد ام المومنین نے اپنی ساری دولت آنحضرت ﷺ کے قدموں میں ڈال دی ۔ آنحضرت ﷺ ان کے مکان میں منتقل ہوگئے اور اب ہجرت تک یہی ان کی قیام گاہ تھی۔ ہجرت کے بعد اس مکان پر حضرت علی کے بھائی عقیل نے جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ اس پر قبضہ کیا۔ چونکہ ابو طالب کے وارث وہی تھے۔ انہوں نے ان تمام مکانات پر قبضہ کیا اور انہیں ابو سفیان کے ہاتھ بیچ ڈالا ۔ ان میں آنحضرت ﷺ کا مکان بھی تھا ۔ فتح مکہ کے موقع پر جب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ آپ کہاں قیام فرمائیںگے تو آپ ﷺ نے فرمایا’’عقیل نے گھر کہاں چھوڑا کہ اس میں اتروں۔‘‘
ام المومنین کی عمر شادی کے وقت عام روایات میں چالیس سال بتائی جاتی ہے مگر ابن اسحاق نے آنحضور ﷺ کے ساتھ شادی کے وقت ان کی عمر 27 سال بتائی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی عمر اس وقت پچیس سال تھی۔ شادی کی تقریب96۵ء میں انجام کو پہنچی۔
ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے چھ بچے ہوئے جن میں دو لڑکے اور چار لڑکیاں تھیں جن کی اجمالی تفصیل یہ ہے:
۱) حضرت قاسم ؓ: یہ رسول اللہ ﷺ کی پہلی اولاد تھی۔ انہیں کے نام پر آپ ﷺ کی کنیت ابو القاسم ہے۔ یہ کنیت آپ ﷺ کو بہت پسند تھی۔ ان کا انتقال بچپن ہی میں ہوا۔
۲) حضرت عبداللہ ؓ : ان کا لقب طیب اور طاہرہے۔ انہوں نے بھی صغرسنی ہی میں وفات پائی جس پرقریش نے کہا تھا کہ محمد ﷺ ابتر ہوگئے، قریش کے جواب میں ’سورہ الکوثر ‘ نازل ہوئی۔
ام المومنین کے بطن سے آنحضرت ﷺ کی چار بیٹیاں ہوئیں:۔
۳) حضرت زینب ؓ: ان کی پیدائش شادی کے پانچ سال بعد ہوئی۔ ام المومنین نے ان کی شادی اپنی بہن ہالہ بنت خویلد کے بیٹے ابوالعاص بن ربیع سے کردی تھی۔ ابو العاص جنگ بدر میں اسیر ہوگئے تو ان کا زر فدیہ ادا کرنے کیلئے مکہ میں حضرت زینب کے پاس رقم نہ تھی۔ انہوں نے رقم کے بدلے اپنے گلے کا ہار بھیجا۔ یہ ہار ام المومنین نے شادی کے وقت انہیں دیا تھا۔ ہار جب مدینہ پہنچا تو رسول اللہ ﷺ نے ہار کو پہچان لیا۔ آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ صحابہ سے فرمایا کہ اگر آپ چاہیں تو ماں کی یاد گار بیٹی کو واپس کردیں۔ تمام صحابہ نے سر تسلیم خم کیا اور ہار واپس کردیا گیا۔ حضرت زینب نے اسلام کی راہ میں بہت تکالیف اٹھائیں۔ ابوالعاص بہت شریف الطبع تھے مگر حالت کفر میں تھے 6 یا 7 ھ میں اسلام لائے ۔ حضرت زینب کے ابو العاص سے دو بچے تھے۔ ایک لڑکی جس کا نام اُمامہ تھا ۔آنحضرت ﷺ کو امامہ بہت عزیز تھیں۔ ایک دفعہ امامہ کو کندھے پر اٹھائے ہوئے مسجد نبوی میں آئے۔ اسی حالت میں نماز پڑھائی۔ رکوع میں جاتے وقت بچی کواُتار دیتے، کھڑے ہوتے تو پھر کندھے پر سوار کرتے۔ حضرت زینب کا ایک لڑکا علی تھا۔ وہ بچپن میں فوت ہوا تھا۔ حضرت زینب کا انتقال ۸ ھ میں ہوا۔
۴) حضرت رقیہ ؓ: یہ بعثت نبوی سے سات سال پہلے پیدا ہوئیں۔ ان کی شادی حضرت عثمان ؓسے ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے شوہر حضرت عثمان کے ساتھ حبش کی طرف ہجرت کی۔ آنحضرت نے دعادیتے ہوئے فرمایا کہ ابراہیم ؑ اور لوط ؑ کے بعد عثمان پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنی بیوی کو لے کر ہجرت کی ہے۔ حضرت عثمان ؓ سے ان کے ایک بچہ عبداللہ ہوا جس نے صرف چھ سال کی عمر میں وفات پائی۔ حبش سے یہ لوگ مکہ لوٹے ۔ اس کے بعد مدینہ کو ہجرت کی حضرت رقیہ جنگ بدر کے دنوں میں بیمار تھیں۔ جس روز مدینہ بدر کی فتح کی خوشخبری پہنچی اسی دن حضرت رقیہ نے وفات پائی۔ ان کی تیمار داری کیلئے رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کو غزوہ بدر کے موقعہ پر مدینہ ہی میں ٹھہرنے کا مشورہ دیا تھا۔
۵) حضرت ام کلثوم ؓ: یہ رسول اللہ ﷺ کی تیسری صاحبزادی ہیں۔ حضرت رقیہ ؓ کا انتقال ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی شادی حضرت عثمان ؓ سے کردی ۔ حضرت ام کلثوم نے 9 ھ میں وفات پائی۔ آنحضور ﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی اور حضرت علی ، حضرت فضل بن عباس اور حضرت اسامہ بن زید نے قبر میں اُتارا ۔حضرت ام کلثوم کی اولاد کے بارے میں مورخین خاموش ہیں۔
۶) حضرت فاطمہ ؓ : یہ آنحضرت ﷺ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں۔ ان کی شادی 6 ھ میں حضرت علی کے ساتھ ہوئی۔ ان سے حضرت علی کے پانچ بچے ہوئے۔ حضرت حسن ؓ ، حضرت حسین ؓ ، حضرت محسن ؓ ، حضرت ام کلثوم ؓ ، حضرت زینب ؓ ۔ حضرت فاطمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے چھ ماہ بعد11ھ میں وفات پائی۔ چاروں صاحبزادیوں نے دین کی راہ میں تکلیفیں اٹھائی ہیں۔ (جاری)
رابطہ :حدی پورہ رفیع آباد
9797944035