اوسلو //ناورے کی نوبیل کمیٹی نے امن کا نوبیل انعام 2022 بیلاروس کے شہری اور روس اور یوکرین کی انسانی حقوق کی تنظیموں کو دینے اعلان کیا ہے۔ جمعے کو امن کا نوبیل انعام بیلاروس کے انسانی حقوق کے کارکن الیس بیالی ایستکی، روس اور یوکرین کی انسانی حقوق کی تنظیم کو دے دیا گیا ہے۔ امن کے نوبیل انعام کا اعلان کرتے ہوئے نوبیل کمیٹی نے بیلاروس کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کے کارکن الیس بیالی ایستکی کو رہا کیا جائے۔نوبیل کمیٹی کے سربراہ بیرت ریس اینڈیرسن نے صحافیوں کو بتایا کہ ’انہوں نے جنگی جرائم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور طاقت کے غلط استعمال کو دستاویزی شکل دینے کی زبردست کوشش کی۔‘ بیلاروس کے اپوزیشن رہنما کا کہنا ہے کہ نوبیل انعام ’ا?زادی اور جمہوریت‘ کے لیے ہماری کوششوں کا اعتراف ہے۔ نوبیل انعام گولڈ میڈل، ایک ڈپلوما اور تقریباً نو لاکھ ڈالر پر مشتمل ہوتا ہے۔ایوارڈ کی باقاعدہ تقریب دس دسمبر کو اوسلو میں منعقد ہوگی۔ بیرت ریس اینڈیرسن نے اس امید کا اظہار کیا کہ الیس بیالی ایستکی تقریب میں شرکت کرسکیں گے۔ الیس بیالی ایستکی انسانی حقوق کی تنظیم ویاسنا کے سربراہ ہیں۔ ان کو گزشتہ برس جیل ہوئی تھی۔ ان کی تنظیم جو 1996 میں قائم ہوئی تھی، بیلاروس کی سب سے نمایاں انسانی حقوق کی تنظیم ہے۔ گزشتہ برس امن کا نوبیل انعام روس اور فلپائن کے صحافیوں کو دیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ نوبل امن انعام کی مالیت 10 ملین سویڈش کراؤن، یعنی 9 لاکھ ڈالر ہے جو 10 دسمبر کو اوسلو میں سویڈن کے صنعت کار الفریڈ نوبل کی برسی کے موقع پر پیش کیا جائے گا۔سویڈن کے صنعت کار الفریڈ نوبل نے 1895 میں اپنی وصیت اس ایوارڈز کی بنیاد رکھی تھی اس لیے ہر سال ان کی برسی پر یہ انعام دیا جاتا ہے تاہم ناموں کا اعلان پہلے ہی کردیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ امن کا نوبیل انعام کسی فرد یا تنظیم کو انسانی حقوق، ملکوں کے درمیان رفاقت بڑھانے، فوجی حکومت کے خاتمے، امن کے قیام اور جمہوریت کے فروغ کے لیے سب سے زیادہ یا بہترین کام کرنے پر دیا جاتا ہے۔