محمد تسکین
جموں//امر ناتھ یاترا کے لئے بھگوتی نگر جموں بیس کیمپ سے یاتریوں کا کشمیر میں واقع دو بیس کیمپوں کی طرف روانہ ہونے کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے اور یاتریوں میں کافی جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ بھگوتی نگر بیس کیمپ سے منگل کی صبح 6 ہزار 5 سو 97 یاتریوں پر مشتمل ایک اور جھتہ کشمیر کی طرف روانہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ یہ یاتری 253 چھوٹی بڑی گاڑیوں میں سخت سیکورٹی بندوبست کے بیچ بالتل اور ننون پہلگام بیس کیمپوں کی طرف روانہ ہوگئے۔مذکورہ ذرائع نے کہا کہ ان میں سے 2 ہزار 1 سو 2 یاتری بالتل بیس کیمپ کی طرف روانہ ہوئے جن میں 1681 مرد، 421 خواتین، 18 بچے اور 2 سادھو شامل تھے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلگام بیس کیمپ کی طرف 4 ہزار 4 سو 75 یاتری روانہ ہوئے جن میں 3294 مرد، 1008 خواتین، 15 بچے، 149 سادھو اور 9 سادھویں شامل تھیں۔ پانچواں قافلہ منگل کی صبح جموں سے روانہ کرنے کے بعد بانہال میں مختصر قیام کے بعد دوپہر تک وادی میں داخل ہو چکا تھا۔ منگل کی صبح سے ہی موسم آبر آلود تھا اور رام بن بانہال سیکٹر میں گرمی کی شدت میں قدرے کمی واقع ہوگئی تھی۔جموں سے ناشری ٹنل پار کرنے کے بعد الگ الگ اوقات میں پہنچے دونوں قافلوں نے چندرکوٹ میں قائم سات لنگروں میں ناشتہ کیا اور وہاں سے انہیں صوبہ جموں کے آخری پڑاؤ بانہال کے لامبر گراونڈ میں پہنچایا گیا جہاں کچھ وقت قیام اور چائے کے بعد دونوں وقفے وقفے سے پہنچے دونوں قافلوں کو بالہ تل اور پہلگام کے راستے پوتر گھپا کی طرف روانہ کیا گیا۔ یاترا کے حوالے سے سرکاری سطح پر کئے گئے سیکورٹی اور دیگر انتظامات پر یاتری خوش ہیں۔ پولیس ، فوج ، سی آر پی ایف اور ایس ایس بی کے اہلکار امرناتھ یاترا کی حفاظتی کیلئے مستعدی سے کام کر رہے ہیں جبکہ انڈین آدمی نے جموں سرینگر قومی شاہراہ 44 اور شاہراہ کے ساتھ تمام آس پاس کی پہاڑیوں پر فوجی اہلکاروں کو تعینات کیا ہے اور فوج قومی شاہراہ 44 اور یاتریوں کیلئے قائم لنگروں کی اوپر پہاڑیوں سے حفاظت کی جارہی ہے۔ فوج نے بم ڈسپوزل سکارڈس ، ڈرون اورڈاگ سکارڈ بھی متحرک رکھے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹا جا سکے ۔