رشید پروینؔ سوپور
امر ناتھ غار کی تاریخ سے شاید بہت کم لوگ واقف ہیں ۔یہاں ایک مختصر سا منظر اور پسِ منظر عوام کی واقفیت کے لئے دینا مطلوب ہے ، کسی قسم کا تجزیہ یا تبصرہ نہیں ۔ اس گپھا کی اہمیت ہندو عقائد اور میتھالوجی میں کیا ہے اور اس میں وہ کیا چیز ہے جس کی بِنا پر برصغیر کے شکتی پیٹھ مقامات میںاس کا نمبر51 ہے۔یہ بھی ایک اہم تیرتھ یاترا کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ماضی قریب میں اعداد و شمار کے مطابق یہاں یاتریوں کی تعداد ہزاروں میں ہی رہی ہے اور یاترا کے لئے بھی پندرہ بیس دن مقرر تھے لیکن اب اس تیرتھ استھان کا ڈنکا بج چکا ہے اوراب یہ یاترا لگ بھگ دو مہینوں پر محیط رہتی ہے اور یاتریوں کی تعداد بھی لاکھوں تک پہنچ چکی ہے۔
امرناتھ گپھا ڈسڑکٹ اننت ناگ ، لدر وادی میں واقع ہے اوریہ 8883میٹر یعنی 12756فٹ کی بلندی پر اننت ناگ سے 168کلومیٹر کے فاصلے پرواقع ہے۔پہلگام کے بارے میں اکثر و بیشتر لوگ جانتے ہیں کہ خوابوں کی سر زمین ہے اور کشمیر آنے والے لوگ لازمی طور پر یہا ںآکر ابدی اور ازلی حسن کا ادراک کر لیتے ہیں۔ یہاں سے ہی اصل میں امر ناتھ کا سفر شروع ہوتا ہے اور ایک طرح سے یہ حسین سر زمین امرناتھ کے لئے بیس کیمپ مانا جاتا ہے۔یہ ہندوؤں کا تیرتھ استھان اور پِوتر غار گلیشیروں کی کوکھ میں ہے ۔چاروں طرف گلیشیروں کاحصار ہے اور راستہ بھی دشوار گذار ہے لیکن درشن کی چاہت اور آرزو کشاں کشاں اطراف واکناف اوردور دراز کے بھارت واسیوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے ۔یہ برف پوش پہاڑ اور ہزاروں برس کے گلیشیر انسانی سوچوں کو دستک بھی دیتے ہیں اور اس گپھا کا یہاں ہونا قدرت کی نشانیوں میں ہی ایک نشانی سمجھی جاسکتی ہے ۔ گلیشیروں سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں کے بیچ میں یہ ایک وسیع غار ہے۔یہ گپھا بہت بڑی ہے۔اس میں داخل ہونے کا دروازہ لگ بھگ چالیس گز اور اس کی بلندی75فٹ ہے اور یہ گپھا پہاڑ کے اندر نیچے 80فٹ ہے ۔
ظاہر ہے کہ یہ گپھا حیران کن ہے جس کی اہمیت شیو لَنگھم سے بنتی ہے اور اسی شیو لنگھم کی وجہ سے یہ تیرتھ استھان بھی ہے اور مشہور و معروف بھی ہے ۔یہ شیولنگھم کیا ہے اور اس کے ساتھ کئی کہانیاں بھی جڑی ہیں لیکن سب سے پہلے یہ بات کہ لِنگھم اس غار کی چھت سے جون جولائی میں ٹپکنے والے پانی کے قطروں سے وہ شکل اختیار کرتا ہے جس سے لِنگھم کہا جاتا ہے۔ یہ پانی کے قطرے چھت سے فرش پر آتے ہی جم جاتے ہیں اور اس طرح آہستہ آہستہ لنگھم کاروپ دھارلیتے ہیں اور جب مکمل ہوتا ہے تو یہی یاتریوں کے اصل درشن دن ہوتے ہیں ۔اس لنگھم کو شیواہ کی phsical manifestation تصور کیا جاتا ہے جس کے درشن کے لئے لاکھوں عقیدت مند یہاں آجاتے ہیں۔اس لنگھم کے ساتھ پاروتی اور گنیش بھی یہاں موجود رہتے ہیںاور ان کی ماہئت بھی اسی طرح icecleسے ہی وجود پاتی ہے۔لنگھم ہندو عقائد کے مطابق چاندکے ساتھ ہی گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ لنگھم اگست تک آہستہ آہستہ پگھل کر معدوم ہوجاتا ہے۔
ہندو میتھالوجی کے مطابق ہی لنگھم، شیواہ کی نمائندگی کرتا ہے اور یہ وہ جگہ ہے جہاں شیواہ نے پاروتی کو ابدیت کا راز بتا دیا تھا جس کی کہانی میتھالوجی میں یوں ہے کہ پاروتی نے کسی موڈ پر لارڈ شیواہ سے ابدی زندگی کا راز جاننا چاہا تھا ، شیواہ نے عرصے تک یہ بتانے سے گریز کیا لیکن آخر ایک دن یہ راز اس پر منکشف کرنے کا فیصلہ کیا ، شیواہ مانتے تھے کہ یہ راز بتانے کے لئے ایسی جگہ تلاش کی جائے جہاں ان دو کے سوا کسی اور کے پہنچنے کا یا یہ راز ایکسپوز ہونے کا کوئی احتمال ہی نہ ہو۔ اس لئے شیواہ نے اس جگہ کا انتخاب کیا ۔شیواہ کو یقین تھا کہ اس جگہ گلیشیروں کے بیچ میں اتنی اونچائی پر صرف دیو ی دیو تا ہی پہنچ سکتے ہیں،اس لئے اس جگہ کے لئے سفر شروع ہوا اور دوران سفر وہ اپنے پیچھے اپنی ساری چیزیں مختلف مقامات پر چھوڑتے گئے ، جیسے انہوں نے ’نندنی ‘میں اپنا بیل چھوڑا۔ یہ توآپ جانتے ہیں کہ تصویروں میں وہ ہمیشہ بیل پر ہی سوار دکھائی جاتے ہیں، چندن واڑی میں شیواہ نے اپنے بالوں سے چاند کو خارج کیا اور آگے بڑھے تو شیش ناگ میں اپنے ناگ کو چھوڑ دیا جو تصویروں میں ان کے گلے میں ہمیشہ آویزاں دکھائی دیتا ہے اور پھر پنج ترنی میں اپنے زندگی کے وہ پانچ عناصر چھوڑ دئے جن سے زندگی کا وجود ہے ، جیسے زمین ، پانی ، آگ ، ہوا اور آسماں، یہاں تک کہ اپنے بیٹے گنیش کوبھی’( مہاگنا )چوٹی پر چھوڑ کر آگے بڑھے ۔اس تیرتھ استھان کے یاتری ان جگہوں سے ہوکر ہی گپھا تک پہنچ جاتے ہیں ۔
’امر ناتھ ‘کے مفہوم پر غور کیا جائے تو یہ دو لفظوں پر مشتمل ہے ، ’امر ‘ جس کے معنی eternal یعنی لافانی بنتا ہے اور ناتھ کے معنی لارڈ یادیوتا ہی ہوسکتے ہیں۔ ہندو عقائد کے مطابق شیواہ نے اپنی دیوی پاروتی کو یہاں تک اسلئے لایا تھا کہ وہ راز جو وہ منکشف کرنے والے تھے کوئی تیسری شئے اس سے واقف نہ ہوسکے۔ایسا کہاجاتا ہے کہ شیواہ نے ان سب چیزوں سے جو انہوں نے مختلف جگہوں پر چھوڑی تھیں ، چھٹکارا پایا تو سب سے پہلے دونوں نے ’تانڈو‘ناچا تھااور اس کے بعد پاروتی کو راز بتانے سے پہلے مزید احتیاط کے طور پر کال اگنی کو پیدا کرکے اس سے آس پاس کی ہر چیز کو بھسم کرنے کا حکم دیالیکن خود شیواہ کے تخت کے نیچے کبوتروں کے دو انڈے کسی طرح موجود رہے جن سے بعد میں کبوتروں کی جوڑی نکلی جنہوں نے یہ راز جان لیا تھا اور ہندو عقائد کے مطابق یہ کبوتروں کی جوڑی بھی امر ہوچکی تھی اور آج تک بہت سارے یاتری یہ دعویٰ وقفے وقفے سے کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے خوش نصیبی سے اس کبوتر جوڑی کو یہاں پرواز کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
خیال رہے کہ میں کسی بات پر کوئی رائے زنی یا تبصرہ نہیں کر رہا ہوں بلکہ وہ لکھ رہا ہوں جو اس غار سے متعلق مختلف اہل ہنود کی کتابوں میں اور دوسرے ذرائع سے معلوم ہوا ہے ۔بہر حال شیواہ نے اسی جگہ اپنی دیوی پاروتی کو اس راز سے آگاہ کیا۔ ظاہر ہے کہ یہاں لارڈ شیواہ اور پاروتی نے قیام کیا ہے اور شیو لنگھم جو کہ شیواہ کی نمائندگی کرتا ہے ،اگر اس انداز میں نہیں بھی بنتا تب بھی یہ جگہ مقدس ہی رہتی اور تب بھی اس جگہ کو پِوترستھان کا مقام حاصل رہتا۔ آپ کو اندازہ ہو چکا ہوگا کہ اس سفر اور گپھا تک پہنچنے کے دوران جن جن مقامامات پر شیواہ پاروتی نے پڑاؤ کیا ہے، وہ سب جانی مانی اور ہندئوں کے لئے متبرک مقامات میں ہی تصور کی جاتی ہیں جن میں پہلگام ، چندن واڑی، شیش ناگ ، مہا گنا اور پنج ترنی ہے۔
ایسا کہا جاتا ہے کہ یہ گپھا 5000برس پہلے سے ہی موجود ہے۔ کلہن اور دوسرے مورخوں نے کشمیر کے اوریجن کو کشپ سے مانا ہے جنہوں نے ایک بہت بڑی جھیل بلکہ چھوٹے سے سمندر کے پانی کی نکاسی ممکن بنا کر وادی کا روپ دیا ہے لیکن یہ کسی طرح قرین قیاس نہیں کہ وہ جھیل بہت زیادہ بلندی کی حامل رہی ہو ۔ ہم ان کی بات یہاں تک تو تسلیم کرتے ہی ہیں کہ یا کرنا ہی پڑتا ہے کہ یہ جھیل رہی ہے ، ستی سر کہلاتی رہی ہے۔سوپور کے نزدیک گاؤں ،جس کا نام بھی’ شیواہ ‘ ہے، کی پہاڑیوں پر کشتیاں باندھنے کے کندے موجود ملے ہیں اورا س کا ذکر سبھی تاریخوں میں ملتا ہے۔اگر یہ صحیح ہے تو اس بلندی تک پانی رہا ہوگا اور اس جھیل کا حجم ، لمبائی چوڑائی کیا رہی ہوگی ، اس کا کوئی اندازہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ بہت اونچے پہاڑاور گلیشیر نامعلو م زمانوں سے اسی طرح موجود رہے ہوں گے اور انہیں صرف پانچ ہزار سال تک محدود کر نا عقل میں نہیں سماتا اور اس طرح ان گلیشیروں کے بیچ میں یہ غار پہلے ہی سے موجود رہا ہوگا اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ انسانی ہاتھوں کا کوئی کرشمہ نہیں رہا ہوگا۔
ایک سنسکرت کتاب ’برنگی شا سمہیتا‘میں اس یاترا کے اُوریجن سے متعلق یہ درج ہے کہ یہ ایک سادھو تھا جس نے اپنے چیلوں کو اس استھان کی طرف پہلے توجہ مبذول کروائی اور انہیں لنگھم کے درشن کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے چیلے جب اس سفر پر روانہ ہوئے تو یہاں راستوں کے راکشسوں نے انہیں پریشان کیا اور آگے بڑھنے سے روک دیا۔یہ چیلے واپس برنگی شا کے پاس فریاد لے کر آئے تو برنگی شا نے شیواہ کی پراتھنا کی اور لارڈ شیواہ نے انہیں ایک تبرک عطا کیاجس سے’چھڑی مبارک ‘کا نام دیا گیا اور تب سے ہی یاتریوں کا سب سے بڑا جتھہ منظم طور پر اس چھڑی مبارک کے ساتھ سفر کرتا ہے اور ہم نے کئی بار اس سفر کی شروعات میرے خیال میں اکھاڑہ بلڈنگ سرینگر سے ہوتے دیکھی ہے۔ یاتری چھڑی مبارک کے ساتھ جو روانہ ہوتی ہے تو رکھشا بندھن اور پورنماشی کی رات کو درشن سے مستفید ہوتے ہیں ۔
ایک اور کہانی کی رو سے یہاں ’ترشول‘اور اس طرح کی بہت ساری چیزیں رانی سری متھی نے گیارہویں صدی میں دان کی تھیں۔ رانی کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں ملتا۔ ایک اورلوک کہانی کی رو سے یہ غار 1850میں بوٹا ملک ایک مسلم گڈرئے نے دریافت کیا تھا ۔اس کی بھی ایک تحیر آمیز کہانی بتلائی جاتی ہے کہ اس بوٹا ملک کو یہاں پر ایک سادھو ملا تھا جس نے اس سے کوئلے کا ایک تھیلہ تھما دیا اور جب گڈریا گھر پہنچا تو کوئلہ سونے میں تبدیل ہوچکاتھا ۔گڈریا اس سادھو کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے یہاں تک آپہنچا اور سادھو کے بجائے اس سے یہ گپھا نظر آئی ور اس طرح باہری دنیا کو اس گپھا کے بارے میں معلوم ہوا۔کہا جاتا ہے کہ بوٹا ملک کی فیملی ا یک عرصے تک اس غار کی ا نچارج یا منتظم رہی ہے لیکن 200ء سے شرائن بورڈ نے سارا انتظام سنبھال لیا ہے ۔
(نوٹ۔ مضمون میں ظاہر کی گئی آراء مصنف کی اپنی ہیں اور ان سے ادارے کا کلّی یا جزوی طور متفق ہونا لازمی نہیں ہے۔کسی بھی وضاحت کیلئے مضمون نگار سے ای میل [email protected] پر رابطہ کیاجاسکتا ہے۔)