اللہ تعالیٰ نے جب سے انسان کو دنیا میں بھیجاہے، تب سے انسان کو دو بڑی اور اہم ضروریات کا محتاج بنایا ہے۔ ایک انسان کی مادی ضروریات اور دوسرا اخلاقی ضروریات ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس قدر مہربان ہے کہ دونوں ضروریات پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے وسائل پیدا کئے ہیں۔ مادی ضرورت پورا کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے زمین کے اندر اور باہر وسائل کا ذخیرہ رکھا ہے جس سے انسان بروئے کار لا کر اپنی مادی ضروریات پورا کر سکتا ہے۔
اخلاقی ضروریات پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کو وقتاًفوقتاًبھیجا ہے۔ جب بھی بنی نوع اِنسان راہ راست سے ہٹتا تھا،اللہ تعالیٰ بے شمار انبیاء کو مبعوث کر کے انسان کی راہنمائی کا سامان مہیا کرتا تھا۔ انبیاء کرام علیہم السلام لوگوں کو امر بالمعروف و نھی عن المنکر کی تعلیم دیتے تھے۔ یہاں تک کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے سلسلے پہ اپنی مہر ثبت کی۔ اب کوئی نبی نہیں آنے والا ہے۔ انبیاء کرام کا سلسلہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ ختم ہوا اور اب کوئی نبی امر بالمعروف و نھی عن المنکر کا فریضہ انجام نہیں دے سکتا۔ تو کیا اب جب انسان راہ راست سے بھٹکے گا ،تو کیا وہ گمراہ ہی رہے گا؟ کیا اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے راہنمائی کا کوئی انتظام نہیں کیا ہے؟
ان سوالات کا جواب سورہ آل عمران کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے کہ’’ تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی ہونے چاہئیںجو نیکی کی طرف بلائیں ، بھلائی کا حکم دیں ، اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے‘‘۔اللہ تعالیٰ سورہ آل عمران میں اس امت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں’’ اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لئے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو ، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ اہل کتاب ایمان لاتے تو انہی کے حق میں بہتر تھا۔اگرچہ ان میں کچھ لوگ ایمان دار بھی پائے جاتے ہیں مگر ان کے بیشتر افراد نافرمان ہیں‘‘۔ سورۃ التوبہ میں اللہ تعالی مؤمنوں کی صفات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں’’ مومن مرد اور مومن عورتیں ، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں ، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ، زکوٰۃ دیتے ہیں، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہو کر رہے گی ، یقینا اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے‘‘
گویا کہ قرآن مجید کے حوالے سے امر بالمعروف و نھی عن المنکر اس امت پر ایک فریضہ ہے جس سے یہ امت کسی بھی صورت منکر نہیں ہوسکتی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ماننے کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم میں سے صالح طبقات کو آگے آکر امر بالمعروف و نھی عن المنکر کی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔تاکہ دنیا میں جو غیر صالح طبقات یا جنہوں نے راہ راست چھوڑ کر مغضوبوں کی راہ لی ہے، وہ راہ راست پاسکیں اور ان کے لئے حجت تمام ہو جائے اور ہم دنیا میں بھی فلاح پا سکیں اور آخرت میں بھی اپنے رب کے آگے سرخرو ہوجائیں۔
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کا بہت بڑا ذخیرہ امر بالمعروف و نھی عن المنکر کے سلسلے میں موجود ہے۔اس سلسلے میں کچھ احادیث مبارکہ ہدیہ قارئین کرتے ہیں۔نبیؐ کے ایک ارشاد کا مفہوم ہے کہ جو تم میں سے کوئی برائی دیکھے، پس اس سے چاہیے کہ وہ اس برائی کو ہاتھ سے روکے، اگر ہاتھ سے روکنے کی استطاعت نہ ہو، چاہیے کہ وہ اپنی زبان سے روکے، اگر زبان سے بھی برائی روکنے کی استطاعت نہ ہو ، تو چاہیے کہ وہ اس برائی کی نفرت دل میں رکھے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ ایک اور حدیث میں ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ اس کے بعد ایمان کا کوئی درجہ نہیں ہے یعنی رائی کے دانہ کے برابر بھی اس شخص کا ایمان نہیں ہے جو برائی دیکھ کے اس کی نفرت دل میں نہ رکھے۔
عزیز قارئین کرام اس حدیث سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دین اسلام میں نھی عن المنکر کی کیا حیثیت ہے اور امت محمدیؐپہ کیسا فریضہ ہے۔اگر ہم اپنے معاشرے پر ایک طائرانہ نظر دوڑائیں گے، کتنے ہی منکر افعال ہمارے معاشرے میں پنپ رہے ہیں!۔ کتنے نوجوانوں نے گمراہ راہوں کو اختیار کیا ہے!۔ کتنی بیٹیاں روز اپنی عزتیں نیلام کئے پھرتی ہیں! جدید تہذیب کے نام پر مخلوط تعلیمی نظام نے کتنے بیٹوں اور بیٹیوں کو حیا کے زیور سے محروم کیا!. اور یہ سب کام ہماری آنکھوں کے سامنے ہورہے ہیں۔ بازاروں میں نوجوانوں کی بے راہ رویاں عیاں ہیں۔ لیکن کیا ہم میں امر بالمعروف و نھی عن المنکر کی سنجیدگی کا احساس ہے؟اگر ہوتا تو ہم ان نوجوانوں کو سمجھاتے، انہیں طاقت کے زور پہ باز رکھتے بے راہ روی سے، لیکن نہیں ہم تو اپنے آپ کو بچانے کی فکر میں رہتے ہیں۔ دوسروں کی بیٹیاں غیر محرموں کے ساتھ بازاروں میں پھرتی ہیں،ہمارے کانوںپرجو تک نہیں رینگتی۔ لیکن جب اپنی بہن کو دیکھتے ہیں تو خودکشی کرنے پہ اتر آتے ہیں۔معاشرے میں اگر صالح طبقات نے فریضہ امر بالمعروف و نھی عن المنکر کو سمجھا ہوتا، تو معاشرے میں بے حیائی نہ ہوتی، منشیات کی وباء اتنی نہ بڑھتی۔ جب ہم اس فریضہ میں تساہل کا شکار ہوگئے تو سارے معاشرے کو اس کی سزا بھگتنا پڑتی ہے۔
اللہ تعالی کے نبیؐنے کس خوبصورت اور فکر آمیز صورت میں اس فریضہ کو سمجھایا۔فرمایا ’’اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے اور ان حدود کو توڑنے والوں کی مثال اس قوم کی ہے جو ایک کشتی میں سوار ہیں، کچھ لوگ کشتی کی نچلی والی منزل میں ہے اور کچھ اوپر والی منزل میں، جب نچلی منزل والوں کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو انہیں اوپر آنا پڑتا ہے۔ اس پر ان(نچلی منزل والوں ) نے مشورہ کیا کہ اگر ہم اس کشتی کو سراخ کرلیں اور پانی حاصل کر لیں یہ بہتر رہے گااور اوپر والوں کو تکلیف بھی نہیں ہوگی۔نبیؐ نے فرمایا اگر وہ(اوپری منزل والے) انہیں چھوڑ دیں تو سب بلاک ہوجائیں گے اور اگر ان کے ہاتھ پکڑ کر انہیں روک لیں تو دونوں نجات پا لیں گے۔
اس حدیث شریف کی رو سے معاشرے میں موجود غیر صالح طبقات کا ہاتھ پکڑ کرانہیں راہ راست کی طرف لانا صالح طبقات کی ذمہ داری ہے۔اگر ایسا نہ کیا تو دونوں طبقات ہلاک ہو جاہیں گے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں امر بالمعروف و نھی عن المنکر کو سمجھنے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
پتہ۔سندھبل، گاندربل کشمیر
فون نمبر۔ 7006862116