نیویارک //امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اب صرف 3 درجن سے زائد قیدی جیل میں موجود ہیں۔ جبکہ ایک وقت میں جیل میں 800 تک قیدی موجود تھے۔حکام کا کہنا ہے کہ جیل میں موجود قیدیوں میں سے 14 کا جائزہ چل رہا ہے جبکہ 2 کو سزا دی جا چکی ہے۔پینٹاگون کا کہنا ہے کہ جیل میں قید بقیہ قیدیوں کی منتقلی اور سزا کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔گوانتاناموبے جیل کے 20 برس مکمل ہونے پر اقوام متحدہ کے ماہرین کے گروپ نے واشگنٹن پر زور دیا ہے کہ ’انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی‘ کے اس مقام کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے۔خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے ایک درجن سے زائد غیر جانبدار ماہرین نے اس امر پر تشویش ظاہر کی ہے کہ نائن الیون کے بعد کیوبا کے جزیرے پر ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے دوران قائم کی گئی فوجی جیل تاحال فعال ہے۔ماہرین نے کہا کہ دس جنوری 2002 کو امریکی نیوی کی جانب سے قائم کی گئی یہ جیل ’بدنامی میں کوئی ثانی‘ نہیں رکھتی اور واشنگٹن کے قانون کی حکمرانی کے عزم پر ایک ’داغ‘ جیسی ہے۔ایک بیان میں ماہرین نے کہا کہ ’ایک ایسی حکومت جو انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرتی ہو اس کی جانب سے 20 برس تک لوگوں کو بغیر ٹرائل کے حراستی مرکز میں رکھنا جہاں تشدد اور غیرانسانی سلوک ہوتا ہو ناقابل قبول ہے۔‘جبری گمشدگی اور بغیر مقدمہ چلائے حراست میں رکھنے پر اقوام متحدہ کے دو ورکنگ گروپس اور پانچ غیر جانبدار ماہرین نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ گوانتاموبے جیل کو بند کرے۔