امرناتھ یاترا کا آ غاز

سرینگر/ / سخت سیکورٹی انتظامات کے بیچ جمعرات کو سالانہ امرناتھ کا آغاز ہوا۔45روز تک جاری رہنے والی یاتراکا پہلا قافلہ بد ھ کو جموں سے سرینگر کی طرف روانہ ہوا ۔یاتریوں پر مشتمل یہ قافلہ جمعرات کی صبح پہلگام اور بال تل کے راستے امرناتھ گھپا کی جانب روانہ ہوگا ۔ نائب وزیر اعلی ڈاکٹر نرمل سنگھ نے بدھ کو یاتری نواس بیس کیمپ جموں سے 2280 امر ناتھ یاتریوں پر مشتمل پہلے قافلے کو ہری جھنڈی دکھا کرروانہ کیا جن میں خواتین اوربچے بھی شامل تھے۔ بیس کیمپ بھگوتی نگر میں ریاستی حکومت ،انتظامیہ اورامرناتھ شرائن بورڈ کے اعلی ذمہ داران موجود تھے۔پہلگام سے امرناتھ گپھا تک کے راستے کی مسافت تقریباً 34کلو میٹر بنتی ہے جبکہ بال تل سے گپھا تک کے راستے کی مسافت صرف 14کلو میٹر ہے۔ پہلگام اور بال تل راستے سے روزانہ 7,500 یاتریوں کو گھپا کی طرف جانے اجازت ہوگی ۔بال تل سے روانہ ہونے والے یاتری جمعرات کو ہی امرناتھ گھپا پہنچ کر شیو لنگم کے درشن کریں گے جبکہ پہلگام سے روانہ ہوانے والے یاتری اگلے روز امرناتھ گھپا تک کا اپنا سفر پورا کریں گے ۔ بال تل اور پہلگام سے امرناتھ گھپا تک شرائن بورڈ کی طرف سے یاتریوں کی سہولیات کے لئے ہر ممکنہ انتظامات رکھے گئے ہیں جبکہ ریاستی سرکار کے مختلف محکموں نے بھی اس حوالے سے انتظامات کئے ہیں جس کے تحت جگہ جگہ خصوصی کیمپ قائم کئے گئے ہیں جہاں یاتریوں کو علاج و معالجہ کے علاہ دیگر سہولیات فراہم کی جارہی ہے ۔ سالانہ امرناتھ یاترا کے سلسلے میں پہلگام اور بال تل کے علاوہ جموں تاسرینگر سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں ۔ جس کے لئے فورسز کی 200اضافی کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں جبکہ پہلی بار یا ترا کا مشا ہد ہ کر نے کی غرض سے ڈرئون کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ناگہا نی آفات سے نمٹنے کے لئے این ڈی ایف اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی جارہی ہے ۔ مجموعی طور  30 ہزار فوجی ونیم فوجی اہلکار، مصنوعی سیارے اور سی سی ٹی وی کیمرے نگرانی پر مامور رہیں گے۔ یاتریوں کے لئے حفاظت کے سخت بندوبست کے تحت پولیس اور نیم فوجی دستوں نے یاتری نواس کو مکمل طور پر اپنی تحویل میں لے رکھا ہے۔ اس کے علاوہ بیس کیمپ سے گپھاتک راستوں پر جگہ جگہ سیکورٹی فورسز کی عارضی چوکیاں قائم کی گئی ہیںتاکہ کسی قسم کا کوئی خوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔یاترا کے دونوں روٹوں پر یاتریوں کیلئے قیام و طعام اور مشروبات کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔