سرینگر// گر دوارہ پر بند ھک کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ اقلیتی فرقے سے وابستہ افراد اُس وقت تک ڈیوٹیوںپر حاضر نہیں ہوں گے جب تک حکومت ان کے جاں و مال کے تحفظ کی یقین دہانی نہیں کراتی ۔گر دوارہ پر بند ھک کمیٹی کے صدربڈا سنگھ، جنرل سکریٹری نوتیج سنگھ اور سکھ لیڈرڈاکٹرجوگیند ر سنگھ شان نے ہفتہ کو مشتر کہ پر یس کانفرنس کے دوران اسکول پرنسپل اور ایک ٹیچر کی جنگجوئوں کے ہاتھوں ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اقلیتوں کی سلامتی پر تشویش کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ وادی میں قتل کی وارداتوں کا سلسلہ جاری ہے ، اور انکے فرقے کے افراد مسلسل خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ بار بار کی گذارشات کے باوجود حکام کی طرف سے اقلیتی برادری کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا’’ ہم اس جگہ کو چھوڑنا نہیں چاہتے ‘‘ ۔انہوں نے کہا ،کشمیری سکھ کشمیر کا حصہ ہیں اور ہم ہمیشہ اپنے کشمیری مسلمان بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔سکھ لیڈران نے کہا کہ جب تک حکومت اقلیت کو تحفظ کی یقین دہانی نہیں کراتی ، ان میں سے کوئی بھی سرکاری ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ جموں وکشمیر میں جاری نامسا عد حالات کے دوران سکھوں نے ہمیشہ اکثر یتی طبقے کا ساتھ دیا لیکن گذ شتہ روز سرینگر میں انکے طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک خا تون کو قتل کیوں کیا گیا ؟،اس کا کیا قصور تھا ؟کیا وہ صرف اس لئے ماری گئی کہ وہ مقامی مسلمان بچوں کو پڑ ھا رہی تھی؟۔ انہوںنے کہا کہ اگر اس کا قصو ر یہی بتلا یا جا تا ہے کہ اس نے 15 اگست کے روز منعقد ہونے والی تقریب میں شر کت کی تھی، کیا وہ برہان وانی کے والد کو بھی اسی طرح قتل کریں گے‘‘ ۔ انہوں نے حکومت پر عام لوگوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہونے کا الزام لگایا۔ انہوںنے کہا کہ ہم اس واقعہ کی تحقیقات چاہتے ہیں ہم یہاں کے مسلمانوں کے اس بات کیلئے کا فی مشکور ہیں کہ انہوںنے اس ہلاکت کی مذ مت کی لیکن دکھ اس بات کا ہے جب ہم نے تعزیتی جلوس نکالا تو وہ خاموش رہے اور ہمارے جلوس میں شامل نہیں ہوئے۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے میرواعظ عمر فاروق سے برسوں پہلے ایک ایکارڈ کیا تھا کہ اگر ہمار ے طبقے کا کوئی بھی کسی بھی ایسی غلطی کا مرتکب ہوتا ہے جو کشمیر ی کے جذ بے کوٹھیس پہنچا تی ہے تو ہمیں مطلع کیا جائے تاکہ ہم از خود اس پر سزا کا تعین کر سکیں۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ لوگوں کو خاص طور پر کشمیر میں رہنے والے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے اور یہ معلوم کرے کہ کشمیر میں یہ حالات کیسے اور کیوں پیدا ہوئے؟۔