محمد حسین ساحل
۱۔ دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں پڑھنے والی قوم یہودی کی ہے۔ ان کا کتابیں پڑھنے کا سالانہ اوسط 72 کتابیں ہیں۔ جب کہ مسلمانوں کا سالانہ اوسط صرف اور صرف 6 منٹ ہے۔
۲۔ہمارا یہ المیہ ہے کہ سرکاری دفتروں میں ہم ٹھیک سے بات نہیں کرسکتے۔کسی آفیسر کو اپنی بات سمجھا نہیں سکتے۔ ہم کو ایک اپلیکیشن لکھنا نہیں آتی ،یہ چھ منٹ کتابیں پڑھنے کا نتیجہ ہے۔
۳۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اپنے بچوں کی اپنے زمانے کے حساب سے پرورش نہ کریں بلکہ آنے والے زمانے کے حساب سے پرورش کریں۔ تمھارا زمانہ کچھ اور ہے، تمھارے بچوں کا زمانہ کچھ اور ہوگا۔
۴۔ ہمارے بچوں کو ایس ایس سی اور ایچ ایس سی پاس کرنے کے بعد انھیں گائیڈ کرنے والا کوئی نہیں کہ آگے کونسے کالج میں کس کورس میں داخلہ لینا ہے۔
۵۔ بچے اور والدین کو تعلیمی امداد حاصل کرنے کے لئے امدادی اداروں کے نام اور پتےنہیں معلوم۔
۶۔ سماجی متحرک حضرات کو چاہیے کہ امدادی اداروں کی فہرست اسکول اور مسجدوں کے نوٹس بورڈ پر آویزاں کریں۔
۷۔ اقلیتوں کے لئے سرکاری سہولیات اور امدادی اسکیم موجود ہیں مگر ہمیں اس کی خبر ہی نہیں۔
۸۔ سرکاری،نیم سرکاری اور نجی کمپنیوں میں روزگار کے مواقع موجود ہیں مگر ہم اس سے لا علم ہیں۔ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کے روزگار کے اشتہارات کن اخباروں میں کس دن شائع ہوتے ہیں۔
۹۔ ہمارے جو لوگ کسی سرکاری یا نیم سرکاری اداروں میں کام کرتے ہیں وہ اپنے محلے یا علاقے کے تعلیم یافتہ بچوں کی روزگار کے تعلق سے رہبری ہی نہیں کرتے۔
۱۰۔ بینکوں میں 10سال سے کم عمر کے بچوں کے لئے ان کے روشن مستقبل کی اسکیمیں ہیں مگر نہ ہمیں معلوم ہے اور نہ ہمیں کوئی بتانے والاہے اور نہ ہم معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
۱۱۔ ہمارا شادیوں کابجٹ لاکھوں روپیوں کا ہے مگر ہمارے پاس تعلیم کا کوئی بجٹ نہیں۔
۱۲۔ زکوٰۃ کی تقسیم کا طریقہ کار اگر درست ہوگا تو ہرضرورتمند تک زکوٰۃ پہنچے گی اور اپنے علاقے کا ہر بچہ تعلیم یافتہ ہوگا۔
۱۳۔ ہمارے سماج میں تعلیمی بیداری کا تناسب بہت کم ہے، آوارہ گردی کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔
۱۴۔ ہمارے محلوں میں کھانے پینے کی دکانوں کی کثرت ہے دوسروں کے محلوں میں کمپیوٹر ،ٹیوشن کلاس سینٹر کثرت سے ہیں۔
۱۵۔ ہمارےبچے چائے کی دوکانوں پر وقت برباد کرتے ہیں ، دوسروں کے بچے اپنا وقت لائبریری میں گزارتے ہیں۔
۱۶۔ اُردو کے ٹیچر اُردو کے نام پر پچاس پچاس ہزار تنخواہ لیتے ہیں مگر اردو کا ایک اخبار نہیں خریدتے۔
۱۷۔ آپ انگریزی پڑھیے ،جرمنی پڑھیے ، فرینچ پڑھیے مگر اس کے ساتھ اردو ضرور پڑھیے۔
۱۸۔ ہمارا بچہ جب اسکول سے گھر آتا ہے تو ماں پوچھتی بیٹا بھوک لگی ہے ؟ روٹی کھائے گا ؟
۱۹۔ دوسروں کے گھروں میں بچہ جب اسکول سے آتا ہے تو ماں پوچھتی ہے ٹیچر نے آج کیا پڑھایا۔
۲۰۔ہمارے لوگوں کو اب تک Medi Claim کیا ہے یہ معلوم ہی نہیں۔
۲۱۔ہمارے شہر میں وکیل ہیں، ڈاکٹرس ہیں، انجینئرس ہیں، مگر آئی پی ایس آفیسرس نہیں، ایسا کیوں ؟
۲۲۔ہم چین کے تعلق سے منفی سوچ رکھتے ہیں مگر چین کے بنائیں ہوئے جائے نماز اور تسبیح استعمال کرتے ہیں۔
اپنے کعبے کی حفاظت ہمیں خود کرنی ہے
اب ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا
فی الوقت یہودی دنیا کے 15ٹاپ کمپنیز کے اعلی ترین عہدے پر فائز ہیں جیسے APPLE، AMAZONE اور Google وغیرہ ہم اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ موبایل میں ایک کلک پر جو چاہیے وہ ہم دیکھ سکتے ہیں تو یہودی قوم ہم پر ہنستی اور کہتی ہے کہ نہیں بالکل نہیں صرف ہم جو دکھاتے ہیں وہی دُنیا دیکھ سکتی ہے۔دنیا کے پاس کوئی چوائس نہیں ہے چوائس ان یہودیوں کے پاس ہیں جو اپنی لگن اور محنت سے اعلی عہدوں پر فائز ہیں۔ اگر ہمیں ایک حدیث ڈھونڈنا ہو تو گوگل پر سرچ کرنا پڑتا ہے یعنی ہمارا دینی اثاثہ بھی گویا یہودی کے قبضہ میں ہے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
[email protected]