افسانچے

بھنور

 
مکان بنتے ہیں اینٹ پتھر لوہا لکڑی اور بےشمار سستی مہنگی چیزوں سے۔ یہ چیزیں ہمیں ملتی ہیں خون پسینے کی کمائی سے۔ لیکن گھر بنتے ہیں رشتوں سے اور رشتے مضبوط ہوتے ہیں محبت ، صبر، ایثار اور احساس درگزر سے۔ یہ ساری چیزیں ہمیں ملتی ہیں اپنے اندر بدلاؤ لانے سے۔ کبھی کبھی جھوٹے دعوے کرنے سے،عورت کی ناسمجھی سے، غلط فہمیوں سے، صبر اور شکر نہ کرنے سے، حسد سے اور جلن سے گھر بکھرنے میں دیر نہیں لگتی۔ فریدہ بی بی اور اس کی بہو کے بیچ میں کسی معمولی بات پر تو تو میں میں ہوئی اور پھر ہر روز ٹکرائواور تکرار کا سلسلہ شروع ہونے لگا۔ دونوں نے اپنا اپنا راگ الاپنا شروع کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے زندگی کے کئی انمول سال کھینچا تانی اور کشمکش کی نذر ہو گئے۔ نہ جانے کس کی بد نصیبی تھی۔  صبر کا دامن کسی ایک نے نہ تھاما۔ بلکہ ایک دوسرے کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے لگے۔ شام کو گھر آتے ہی اس کے سامنے دن بھر کی شکایتوں کی گٹھڑی کھول دی جاتی تھی۔ شریف احمد نے اپنی اماں کی پسند کی لڑکی کو اپنا ہمسفر بنایا تھا۔ اگر اسے خبر ہوتی کہ ایساوقت اس کی زندگی میں آئے گا تو وہ شاید شادی ہی نہ کرتا۔ اب اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آرہا تھا۔ وہ کس کو کیا کہے۔ کس کو غلط اور کس کو صحیح کہے۔ کس کو اپنائےاور کس سے سے منہ موڑ لے۔ اپنے گھر میں امن کی فضا قائم کرنے کے لئے کہاں سے جادو کی چھڑی لائے۔وہ بھنور میں پھنس گیا۔ اس کا دماغی توازن کھو نے لگایا۔ اختلافات کی ہانڈی میں اتنا اُبال آیا کہ بہو نے ساس سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا۔ خاندان کے زیرک لوگوں نے بیچ میں آ کر صلح صفائی کی کوشش  کی تو نتیجہ مایوس کن نکلا۔ کتنا بے بس ہوتا ہے مرد اپنے ہی گھر میں۔ اگر ایثار کی دیوی صبر کی دیوی کے وجود کو برداشت کرتی تو کتنا اچھا ہوتا ۔
 

لاپرواہی

آج کل کے ماڈرن لوگ، ماڈرن سوسائٹی اور ماڈرن زندگی کا طرز عمل۔ترقی  ضروری بھی ہے اور ترقی درکار بھی ہے۔لوگ صفائی اور نفاست پسند بن گئے ہیں۔ ہر گھر میں صاف شفاف پانی کی ٹینکیاں، واش بیسن پرمہنگے مہنگے ہینڈ واش، ماڑرن کچن کے علاوہ کئی کئی باتھ روم جدید واٹر فٹنگ سے آراستہ ہوتے ہیں۔ پھر بھی ندی،نالوں،جھیلوں، دریاؤں اور نہروں میں بہتے پانی کا ایک وجود ہوتا ہے۔ ہماری زندگی میں اس کی اپنی اہمیت بھی ہے اور ہمیں اس کی بہت زیادہ ضرورت بھی ہے۔ رب کائنات نے اس بہتے ہوئے پانی سے روئے زمین کو سجایا ہے۔ یہ صاف شفاف بہتا ہوا پانی آنکھوں کی تراوت اور اس کائنات کی رونق بڑھاتا ہے۔ صاف شفاف بہتا پانی صحتمند زندگی کی ضمانت اور باشعور قوموں کی نشانی ہوتا ہے۔ اللہ کی مخلوق، زرخیز زمین اور باغ بغیچوں کو سیراب کرنے والے پانی کی وجہ سے کئی لوگوں کی زندگی کی گاڑی چلتی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی اور بہترین اس نعمت کی قدر کرنے والے انسانوں کے لئے اللہ تعالی کے پاس بڑا اجر ہے۔ 
رفعت آرا اور عابد حسین نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے اپنا گھر اپنا آشیانہ بنایا، ایک صاف شفاف ندی کے کنارے۔ وہ دونوں اپنے اہل و عیال کے ساتھ خوشگوار زندگی بسر کر رہے تھے۔رفعت آرا اپنے گھر اور لان کو بہت ہی صاف ستھرا رکھتی تھی۔ اس کا خوبصورت گھر واقعی صاف ستھرا ہوتا بھی تھا اور دکھائی بھی دیتاتھا۔آس پڑوس کی عورتیں اس کی صفائی ستھرائی پر رشک کرتی تھیں۔رفعت آرا ہر موسم میں، کھڑکیوں کے پردے، بیڈ شیٹ کمبل وغیرہ بدل بدل کر دھونے کے علاوہ اپنے گھر کی صفائی،ستھرائی،دھلائی،جھاڑو، پونچھا اور گھر کے اندر باہر بچھے ماربل کی تختوں اور ٹائلوں کو صابن والے پونچھے سے رگڑنے میں مصروف و مشغول رہتی تھی۔ جیسے اس کے اندر کوئی غیبی طاقت تھی۔
اس کے علاوہ ہر مہینے کی آخری اتوار کو عابد حسین کے ساتھ مل کر اپنے پورے گھر کی تفصیلی صفائی بھی کر لیتی تھی۔ صفائی ضروری بھی ہے اور صفائی اہم بھی۔ لیکن وہ پڑھے لکھے ان پڑھ اور لاپرواہ لوگ تھے کیونکہ وہ ہر روز اپنے گھر سے نکلنے والا کوڑا کرکٹ میونسپلٹی کے ڈبے میں ڈالنے کی بجائے اور لگاتار گندے پانی کا نکاس اس صاف شفاف اور بے زبان ندی میں ڈال کر اسے نا پاک کر دیتے تھے۔ شاید ان کی نظر میں اس بےزبان بہتی ندی کا کوئی وجود نہ تھا۔طویل مدت کے بعد اس بے زبان ندی کو غصہ آیا۔ قدرت نے بھی ساتھ دیا۔ کئی دنوں کی مسلسل بارش سے اس ندی میں اتنا ابال آیا اور سیلاب سب کچھ بہا کر لے گیا۔رفعت آرا اور عابد حسین ایک پل میں گھر سے بے گھر ہوگئے۔ بڑی دیر کے بعد انہیں یہ بات سمجھ آئی کہ اپنے گھر کو صاف ستھرا رکھنا بڑی بات نہیں بلکہ اپنی سطح پر ماحول کی صفائی کا خیال رکھنا واقعی بڑی بات ہے۔ اور ہر خطا کی سزا دیر سویر ضرور مل ہی جاتی ہے۔