کب تک
’’سر‘‘
’’جی کہئے ۔‘‘
’’کیا آپ وہی تو نہیں جو گذشتہ ایک مہینہ سے مجھ سے ملنے کے لئے سارا سارا دن ویٹنگ روم میں انتظار کرتے رہتے ہیں۔‘‘
’’جی ہاں میں وہی ہوں۔۔۔ بالکل وہی، یہ سوچ کر آیا تھا کہ آپ کے آنے سے دفتری نظام میں تبدیلی آئی ہوگی۔ عوامی مسائل اور عوامی ضروریات کی جانب بھر پور توجہ دی جاتی ہوگی لیکن آپ کے آنے کے بعد بھی موجودہ صورت حال میں اُمید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔‘‘ میں نے تفصیل سے جواب دیا۔
’’اُمید کا دامن نہ چھوڑیئے۔۔۔ انتظار کیجئے۔‘‘ انہوں نے میری جانب دیکھے بغیر کہا۔
’’آخر کب تک؟‘‘
’’آپ شاید بھول رہے ہیں کہ مجھے یہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے چھ ماہ بھی نہیں گذرے۔‘‘
’’معاف کیجئےگا اب چھ مہینوں میں ہم نے کیا دیکھا، کیا سُنا، کیا سوچا آپ شاید بخوبی واقف ہوں گے۔‘‘
’’جانتا ہوں ۔ میں بخوبی جانتا ہوں، یہاں میری تعیناتی تین سال کے لئے ہوئی ہے اور ابھی ڈھائی سال باقی ہیں۔ انتظار کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔‘‘
’’لیکن سر۔۔۔ انتظار کرتے کرتے مٹھاس کڑواہٹ میں بدل جاتی ہے۔۔۔۔ اور پھر ۔۔۔۔؟‘‘
’’آپ اب جاسکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے میری جانب دیکھے بغیر ہی کہا۔
’’جارہا ہوں پر میں تو آپ سے اس لئے ملنے کی کوشش کرتا رہا کہ عوامی ضروریات، عوامی مشکلات کا حال سنائوں۔‘‘
’’اور کیا؟‘‘ اُن کے لیجئے میں غصہ آیا۔
’’دیکھتے ہیں سچ کو آپ کب تک لباس میں چھاتے رہیں گے‘‘
کِھلونے
اپنی شادی کے دس برس خوش اسلوبی کے ساتھ گذارنے کے بعد اختر لطیف اور نازلی نے اپنی قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے لئے ایک خوبصورت سی پُر لُطف مجلس طعاوم کا اہتمام کیا۔ جب سارے مہمان دعوت کا لطف اُٹھانے کے بعد چلے گئے تو وہ دونوں اپنی خواب گاہ میں آگئے اور گرم گرم کافی کا انتظار کرنے لگے اور جب خاموشی کے لمحے دراز ہونے لگے تو اختر لطیف نے پوچھا۔
’’کیا سوچ رہی ہو؟‘‘
’’سوچ رہی ہوں کہ ازدواجی زندگی کے دس سال ہم نے ایک ساتھ کیسے بسر کئے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’ان دس برسوں کے دوران بھی ہم دو ہی رہے۔‘‘
’’یقین کرو میں بھی کچھ ایسا ہی سوچ رہا تھا۔۔۔ دس سال کا طویل عرصہ۔۔۔ زندگی کا طویل سفر اور منزل ہم سے دور ہی رہی۔۔۔۔ بہت دور، ایک سوالیہ نشان بن کر ۔۔۔۔!‘‘
اِسی دوران ان کا نوکر اکرم کافی لے کر آگیا۔
’’کھانڈ؟‘‘ نازلی میڈم نے پوچھا۔
’’کھانڈ، مناسب ہے آپ کی پسند کے مطابق‘‘
’’اب تم جاسکتے ہو۔‘‘ میڈم نازلی نے کہا۔
’’نہیں ذرا رُک جائو۔‘‘لطیف صاحب نے کہا۔
’’کہئے سر‘‘
’’تمہارے گھر میں کتنے کھلونے ہیں؟‘‘
’’کِھلونے کیا مطلب؟‘‘
’’بچوں جیسے کھلونے۔۔۔۔نرم نرم پیارے پیارے۔‘‘
’’اکرم میاں لطیف صاحب جاننا چاہتے ہیں کہ تمہارے گھر میں کتنے بچے ہیں۔‘‘
’’بچے تو دو ہیں۔‘‘
’’دو بچے یعنی دو کھلونے۔‘‘ لطیف نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’جی صاحب۔‘‘
’’کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ تم اُن دونوں کھلونوں کو یہاں لائو۔ اپنے آپ اور اپنے ساتھ رکھو۔ اُن کی ماں کو بھی لاسکتے ہو۔‘‘
’’یہ کیسے ممکن ہے۔‘‘
’’تمہارے ناممکن کو ہم ممکن بنا سکتے ہیں۔‘‘
’’وہ کیسے؟‘‘ اکرم حیران ہوتا جارہا تھا۔
’’تمہارے دونوں کھلونوإں کو نیا روپ دے کر۔ اُن کو پڑھا لکھا کر، اُن کے جینے کی راہ کو ہموار کرکے۔۔۔ اور ۔۔۔ اور اپنے کھلونے سمجھ کر۔۔۔‘‘
’’اکرم میاں لطیف صاحب ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں‘‘
’’لیکن میڈم جی ۔۔۔ یہ سب کرکے آپ کو کیا ملے گا؟‘‘
’’دو کھلونے۔۔۔ پیارے پیارے کھلونے۔‘‘ دونوں میاں بیوی نے مسکراتے ہوئے ایک ساتھ کہا۔۔۔!
���
ایل ڈی کالونی، راولپورپ، سرینگر
موبائل نمبر؛8899637012