محمد الیاس متوی
چہرے
گاؤں کی صبح ہمیشہ کی طرح پُرسکون تھی، مگر آج درختوں کےصحن میں لوگ دھیرے دھیرے جمع ہو رہے تھے جس کی وجہ سے ایک خاص ہلچل تھی۔ یہ گاؤں کا سالانہ اجلاس تھا۔
رفیق، جو پچھلے کئی برسوں سے گاؤں کے مالی معاملات دیکھتا آیا تھا، آج بھی حسبِ معمول سامنے بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر اعتماد کی جھلک تھی۔ حساب کتاب پیش ہوا، سب کاغذات صاف تھے، سب ریکارڈ شیشے کی طرح تھے۔
ایک بزرگ نے مسکراتے ہوئے کہا،
’’ماشاءاللہ رفیق، تم نے پھر سب کچھ نہایت ایمانداری سے نبھایا۔‘‘
ایک اور بزرگ بولے،
’’ایسے لوگ قسمت سے ملتے ہیں، رفیق کو آئندہ سال بھی یہ ذمہ داری سونپنی چاہیے!‘‘
تمام حاضرین نے یک زبان ہو کر تائید کی۔ رفیق نے سر جھکا کر شکریہ ادا کیا۔ مگر مجمع میں چند چہرے خاموش تھے، وہ جن کی آنکھوں میں رفیق کے لئے حسد چھپا بیٹھا تھا۔
اجلاس میں سے ایک تیز آواز گونجی:
’’ایک منٹ! یہ سب اتنا صاف شفاف نہیں جتنا دکھایا جا رہا ہے!‘‘
سب کی نظریں اس آواز کی سمت مڑ گئیں۔ یہ حسام تھا، وہی جو ہمیشہ رفیق کے فیصلوں سے ناخوش رہتا تھا۔ اس کے ساتھ دو تین آدمی اور تھے۔
حسام نے کہا،
’’ہم نے سنا ہے کہ کچھ رقم کا حساب ٹھیک نہیں۔ یہ سب دکھاوا ہے، حقیقت کچھ اور ہے!‘‘
رفیق چونک گیا۔
’’کیا کہہ رہے ہو حسام؟ تم جانتے ہو میں نے کبھی ایک پیسہ اپنی جیب میں نہیں رکھا۔‘‘
حسام ہنسا،
’’کہنے سے کیا ہوتا ہے، ثبوت دکھاؤ!‘‘
رفیق ” یہ سارا مجموعہ اس بات کا ثبوت ہے”
پنچایت کا ماحول بوجھل ہو گیا۔ خاموشی چھا گئی۔ صرف چند لوگ حسام کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔ باقی سب نظریں جھکائے بیٹھے تھے، جیسے سچ سننے سے ڈر رہے ہوں۔
رفیق کے چہرے پر دکھ اور غصہ ایک ساتھ اُبھر آئے۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
’’میں تم سب کو برسوں سے جانتا ہوں۔ میرے کام، میری نیت، سب تمہارے سامنے ہیں۔ آج تم لوگ انکے جھوٹے الزامات پر یقین کر رہے ہو؟‘‘
کوئی جواب نہیں آیا۔ صرف حسام اور اس کے ساتھیوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔
رفیق نے گہری سانس لی، پھر بلند آواز میں کہا،
’’تو اب فیصلہ چہروں سے ہوتا ہے؟ سچائی کہنے کی ہمت کسی میں بھی نہیں رہی ؟‘‘
اس کی آواز کانپ رہی تھی، مگر الفاظ پتھر کی طرح مضبوط تھے۔
’’مجھے ایسے اجلاس کا حصہ نہیں رہنا جہاں حقیقت کو چہروں کے مطابق بدلا جائے، ‘‘
منظر
کئی برسوں بعد پھر ایک سبھا میں جانے کا موقع ملا، مگر منظر بدلا ہوا تھا۔ جہاں کبھی سفید ریش بزرگ آگے بیٹھا کرتے تھے اور عورتیں پیچھے، اب صورتِ حال برعکس تھی۔ نہ جانے یہ تبدیلی ترقی تھی یا۔۔۔؟
لموچن دراس لداخ
موبائل نمبر؛9469732903