طارق ابراہیم سوہل
اصلاح بین الفریقین ایک عظیم انسانی فریضہ ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ،مادی ہوس اور بہیمانہ خواہشات کے سیل رواں کی نذر ہو رہا ہے اور انسانی آبادی کی اکثریت نفس امارہ کی غلامی میں دیوانہ وار اپنی زندگی کے شب و روز کے گرانقدر لمحات کو یوں ہی گنوا رہی ہے۔انسانیت جب اسقدر تنزل کی شکار ہو جاتی ہے تو پھر سماجی تعلقات کی بنیاد،مادی خواہشات سے مشروط ہو جاتی ہے اور پھر کسمپر سی ،غربت و افلاس ،قریبی رشتوں کے وجود کے انگ انگ کو الگ الگ کرنے کے لئے ایک سبیل بھی اور ایک دلیل بھی بن جاتی ہے۔اس ابلیسی رقص کا لازمی نتیجہ عصر حاضر میں ہر معاشرے میں کم و بیش تفاوت کے ساتھ ،انسانیت کو شرمسار کر رہا ہے۔ یہ سارا تماشہ نفسانی خواہاشات اور بہیمانہ جذبات کی تسکین کے سامان کو میسر کرنے کے لئے بڑی رنگینی سے علی الاعلان بڑے منظم منصوبے اور منظم طریقے سے سر انجام دیا جا رہا ہے۔اسی مذموم تحریک کے معرکے کو سر کرنے کے لئے دو افراد،دو گروہوں،دو سماجوں،دو تہذیبوں بلکہ دو ممالک کے درمیان صلح و صفائی کی بجائے عداوت ،دشمنی اور نفرتوں کے شعلوں کو ہوا دینے میں ہر سطح پے کوئی نہ کوئی تخریبی عنصر ماہی بے آب کی مانند بے چین نظر آ رہا ہے۔اس مرض مہلک کا تدارک کرنے کے لئے وسیع پیمانے پے اور بے جگری و مردانگی کے ساتھ سماج میں حق و باطل کی تعلیم کو عام کرنے اور انسانی تخلیق کے عظیم مقصد کو اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔حق تو یہ ہے کہ رب کائنات نے جس چیز کا ہمیں مکلف بنایا ہے،ہم اس فریضے کو انجام دینے میں ابھی برسوں کی مسافت دور و بعید ہیں۔ نفاق کی سرحدوں کو وسعت دینے کا نتیجہ ہم دیکھ ہی رہے ہیں۔ صاحب ثروت بننے کی خاطر ہم نے زندگی کے کسی موڑ پے بھی تساہل برتا ہی نہیں،اس لئے دنیا بھر میں,عالمی کبر سنی میں والدین کہیں بیرون خانہ ،سرکاری قیامگاہوں میں صدقات کے لقمے کھا کر ،زندگی کی سانسیں شمار کر رہے ہیں اور کہیں درون خانہ اولاد کے غیض و غضب کے تند و تلخ تیر سہہ رہے ہیں۔کہیں دولہن مہندی لگے ہاتھو ں سمیت ہی زندہ جل رہی ہے تو کہیں والدین اپنی ہی اولاد کے ہاتھوں ابدی نیند سلا دئے جاتے ہیں۔کہیں بھائی بھائی کے مقدس رشتے کو تار تار کیا جاتا ہے تو کہیں ہمسایوں کے باہمی خلوص اور برتاؤ کو دریا برد کیا جا رہا ہے اور کہیں پلک جھپک میں دوستی کو دشمنی میں بدل دیا جاتا ہے۔نفس کے شتر بے مہار کو جب اتنی مقوی غذا مل رہی ہو تو بھلا گھر گھر لگی آگ کو بجھانے کی سدھ بدھ باقی کہاں !
اس طرز عمل کے عین برعکس ،اسلامی اخلاق کا ایک عظیم خلق ،ناراض لوگوں کے درمیان صلح و صفائی کرانا ہے۔اور اس اہم فریضے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگانا بہت آسان ہے کہ اگر فریقین کو راضی کرنے کے لئے جھوٹ کا سہارا بھی لینا پڑے تو جائز ہی نہیں بلکہ باعث اجر و ثواب بھی ہے ۔حالانکہ کذب بیانی بصورت دیگر مجموعی طور فعل معیوب ،مذموم اور ملعون ہے۔ناراض افراد کے درمیان صلح و صفائی کرانا باعث دخول جنت ،حصول حسنات ،درازی عمر اور گناہوں اور لغزشوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔چونکہ نفرتوں میں حد سے تجاوز ،قتل و غارتگری اور عالمی بد امنی اور خلفشار و انتشار پے منتج ہوتا ہے۔صلح و محبت کے پیامبر جناب رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے صدیوں سے شدید رنجشوں اور اختلافات کے شکار،قبیلہ اوس و خزرج کے درمیان صلح کروائی ،جس کا کوئی امکان ہی نہیں تھا۔جو لوگ قبیلوں،گروہوں،جماعتوں،عزیز و اقارب ،ہمسایوں،رشتہ داروں اور متعلقین کو قریب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،الله انہیں روز محشر اپنا قرب نصیب کرے گا۔ اسلامی نظام حیات میں بلا امتیاز قوم و ملت صلح و صفائی ایک عمل محمود و مطلوب ہے۔ سورت الانفال کی آیت نمبر 61-62 اس امر کی تائید کرتی ہے۔ خاتم پیغمبراں کا ارشاد ہے کہ آپس میں میل و جول ،روابط اور تعلاقات کو استوار کرنا نفلی نمازوں اور نفلی صدقات سے بہتر و افضل ہے۔( سنن ابوداود حدیث نمبر 4272۔)
مگر بصد افسوس اس امر تلخ کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ آج کا مسلمان متخاصم افراد کے درمیان ،نزاعی کیفیت کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے اور خانگی و دیگر معاملات میں اختلاف کے شعلوں کو اور بھی ہوا دیتا ہے،نفرت کا زہر گھولتا ہے اورعداوت کے جذبات کو بھڑکاتاہے۔
اس لئے انسانیت کے مقام پے فائز ہونے کے لئے اور عتاب الہٰی سے بچنے کے لئے ہمیں عقل عیار سے کنارہ کش ہو کر اپنے اعمال کو عشق کی بنیادوں پے استوار کرنا ہوگا اور اختلافات سے بد حال و پراگندہ افراد کو صلح جوئی کی جانب رہبری کرنی ہوگی تاکہ ہر گھر میں محبت کے چراغ روشن ہوں اور اسی میں عالمی امن اور استحکام کی ضمانت مضمر ہے۔گو کہ لمحات حیات کے لئے مادی اسباب لازمی ہیں مگر مادیت کی غلامی ہر گز مطلوب نہیں ،ورنہ ہماری زندگی بھی حسرت بھری اور آخرت بھی بد حال ہوگی چونکہ الله رب العزت ہر گز وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
(رابطہ نمبر۔ 8493990216)
[email protected]>