میر حسین
دنیا کا انقلاب بڑا تیز گام ہیں
اب صاحبان ورع کا جینا حرام ہے
کچھ دن پہلے میں ایک ہسپتال میں ایک مریض کے ساتھ بطور تیماردار کے تھا۔ میری نظر اچانک کونے میں ایک کرسی پر پڑی، جس پر دو متضاد جنس کے نوجوان بیٹھے تھے۔ پہلے پہل میں نے سوچا کہ شا ید کسی بہن کو درد ہے جو بھائی کے کندھے پر سر رکھ کر سکون سے بیٹھی ہے۔ غور کرنے پر معلوم ہواکہ لڑکی لڑکے کی بہن نہیں ہے بلکہ دونوں آپس میں نہ صرف نامحرم ہیں بلکہ ان کے مابین کا رشتہ شرعاً ناجائز اور حرام ہے ۔میرا ذہن یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ یہ دونوں نوجوان اتنی آسانی سے لوگوں کے درمیان اتنی بے حیایی اور غیر اخلاقی حلیہ کے ساتھ کیسے بیٹھ سکتے ۔میری قوت فکر دور قدیم اور دور جدید کے اختلاط زن و مرد کا موازنہ کر رہی تھی کہ اچانک مجھے اقبال کا شعر یاد آیا ؎
سورج ہمیں ہر شام یہ درس دیتا ہے
مغرب کی طرف جاؤ گے تو ڈوب جاؤ گے
بعد ازاں مجھے کسی دوسرے علل و اسباب کی فکر ہی نہیں رہی اور مجھے یقین ہوا کہ ہر بدلتی فکر کے پس منظرمیں فکر مغرب کا زہر چھپا ہوا ہے ۔عوام الناس میں جہاں ماطیت کی سوچ اور فکر کا غلبہ جھلکتا نظر آرہا ہے وہی معنویت کی پر سوز فضا کی مہک ظلمت شب کی طرح زوال پذیر ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ فکر مغرب نے نہ صرف ہم سے معنویت ،حیا اور کلچر چھینا بلکہ شفاف سیاست ،جایز اقتصادیات اور سماجی زندگی سے بھی چاروں خانے چت ہونے پر مجبور کیا ۔
دور حاضر میں ہماری جوان نسل کو کیوں اس بات پر یقین ہی نہیں ہے کہ نامحرم کا اختلاط جائز نہیں ہے ؟ کیونکہ اس غیر شرعی رشتہ کو ہمارے سماج میں عجیب و غریب انداز میں پیش کیا گیا ۔بالی ووڈ اور دیگر فحاش کمپنیاں اسی فکر میں لگی ہوئی ہیں، کشمیر کا نیا اسی فکر میں لگی ہوئی ہے کہ کس طرح عورت کو آزادی کے نام پر بغیر اصولوں کے روایت کرنے کے سماج کے حوالے کیا جائے۔کس طرح بے حیائی کی تربیت باحیا انداز میں پیش کی جائے تاکہ نسلیں تباہ و برباد ہو جائے ۔
ایک زمانہ تھا جب ایک ہی سڑک پر عورت اور مرد ایک ساتھ چلنے سے نہ صرف گریز کر رہے تھے بلکہ شرم و حیا کے مارے اور آب آب ہوا کرتی تھی ،اس کے برعکس زما نہ کیسا آیا ہے کہ جہاں نہ صرف لوگ متضاد جنسوں سے کاندھے سے کاندھا ملا کر چلتے ہیں بلکہ اس چلنے پر نازو فخر بھی کرتے ہیں اور اس روش کو جدیدیت کا نام لے کر اپنے والدین اور دیگر بزرگان کو تنقید کا نشانہ بنا کر ان سے شکوہ کرتے ہیں کہ آپ نے ہمیں آزادی نہیں دی۔
عزیزان زندگی اور حیات کی بقا آزادی میں نہیں بندگی میں ہیں ۔ کاش ہم سمجھ جائیں کہ حدود الاہی کو تسلیم کرنا ہی بندگی ہے اور آزادی حدود اسلام کی برملا خلاف ورزی ہے ۔ خدا فکر غرب اور فکر طاغوت کو نابود کرے، اس فکر نے ہمارے اذہان اور فطرت میں مزین رحمانی جہت کو شیطانی جہت سے مخلوط کیا ہے ۔
مقام افسوس یہ ہے کہ ہم اس بدلتی شیطانی فکر پر نہ صرف فخر و ناز کرتے ہیں بلکہ ہم یہ سوچنے سے قاصر ہیں کہ ہمیں کس دلدل کے حوالے کیا جا رہا ہے۔
زن و مرد یا محرم اور نامحرم کا اختلاط بھی اسی فکر کی دین ہے اس فکر کے ذریعہ ہمیں سمجھایا جا رہا ہے کہ عورت مرد کے بغیر آزاد نہیں ہیں اور عورت غیروں میں مخلوط ہوئے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی ،ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ اسلام عورت کو آزادی سے کام اور دیگر امور انجام دینے کی اجازت دیتا ہے لیکن خداوند کے مقرر کردہ حدود کے اندر مثلاً باحجاب ہو کر دفتر جانا یا کسی دوسرے کاموں میں شرکت کرنا ۔خدا گواہ ہے کہ انسان دانتوں تلے انگلیاں دبانے پر مجبور ہوتا ہے جب دیکھتا ہے کہ سماج میں میں معیارات زن و مرد تقریباً ختم ہو چکے ہیں ۔نہ حیا کا کوئی معیار ہے نہ آپسی گفتگو کی کسوٹی،نہ انداز نرالا ہےاور نہ سیرت میں جذابیت،نہ رحم خود پر ہے نہ آسرایی غیروں پر ، نہ بصارت کی مہک اور نہ بصیرت کی بو،نہ حال کی کوئی خبر نہ مستقبل کی فکر۔
ہر ذی شعور انسان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عام لوگوں تک اس پیغام کو پہنچانے میں کوشاں رہے کہ ہمارا تہذیب و تمدن عین دین ہے لیکن جب سے مغربی افکار نے ہمارے سماج میں نفوذ کیا ،ہم صرف دینی لحاظ سے سے اصل راہ سے بھٹک گئے بلکہ ہم اپنے کلچر اور تمدن سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ایک شخص نجی سطح پرمعمول کا کام کریں،صرف علمائے دین پر اس ذمہ دارکو عاید کرنا سراسر ظلم اور بے شعوری ہے۔
عوام کے اذہان کو متغیر کرنے کی اشد ضرورت ہے،فکری جمود اور تضاد اصل راہ دیکھنے کی متقاضی ہے ۔ذہنوں کو منقلب کرنا وقت کی مانگ ہے ۔اگر وقت پر صحیح قدم نہیں اٹھایا گیا اور ذمہ داریوں کو نہیں نبھایا گیا تو وہ دن دور نہیں ، جب ہم اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی اور آئندہ نسل کی تباہی نہ دیکھیں ،وہ دن دور نہیں جب ہم اپنے ہی ہاتھوں سے بنائے ہوئے قلعے نذرآتش ہوتے ہوئے دیکھیں گے۔
[email protected]