رئیس یاسین
دنیا میں مختلف تعلیمی نظریات پائےجاتے ہیں۔ جن کا اپنا الگ الگ مقصد، الگ الگ طریقہ کار ہے۔ آجکل کی تعلیم جہاں پر سارا زور مادیت پر دیا جاتا ہے۔ بچوں کو صحیح مقصد سے ہٹا کر صرف دنیاوی اغراض کو ذہن میں رکھ کر تعلیم دی جاتی ہے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے، جس کو اکبر الہ آبادی نے کہا تھا۔
یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
آج دنیا میں جو تعلیمی نظریات کام کر رہے ہیں ،ان میں تین اہم نظریات یہ ہے۔اشتراکی( Socialistic)، جمہوری (Democratic)، اسلامی۔
امریکہ جمہوریت کا علمبردار ہے اور روس اشتراکیت کا۔ دنیا کے وہ تمام ممالک جو امریکہ سے متاثر ہیں، وہ قوم پرستانہ جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں۔ جو لوگ روس کے آلہ کار ہیں وہ اشتراکیت کو اپناتے ہیں۔ اشتراکیت کے علمبردار دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ تعلیم و تربیت کے ذریعہ ہم افراد کو “سماج کا بے نفس خادم بنانا” چاہتے ہیں۔ لیکن دراصل وہ طلبہ کو مادہ پرستی، مذہب دشمن اور خدا کا باغی بناتے ہیں، وہ اپنی شخصیت کو مادی مفاد پر قربان کرواکر ایک طالب علم کو جانوروں سے بدتر بنا کر رکھ دیتے ہیں۔ اس طرح چند افراد یا ایک مختصر سی پارٹی مملکت کے سارے وسائل و زرائع اور سب کے جسم و جان پر قابض ہو کر دو وقت کی روٹی کے عوض ہر ایک کو بے ضمیر اور اپنا آلہ کار بنا لیتی ہے اور کہا یہ جاتا ہے کہ ہم نے انسان کا معاشی مسئلہ حل کردیا ہے۔ یہ نظام تعلیم خدا سے بغاوت، مذہب دشمنی اور اخلاقی قدروں کی پامالی کا درس لے کر پروان چڑھنے والے افراد انسانیت کے حق میں درندے ہی ہو سکتے ہیں۔ اس نظام تعلیم میں افراد کی انفرادیت کچل کر رکھ دی جاتی ہے۔ جبر اور بیرونی دباؤ کے باعث طلبہ کو اپنی خواہش، رائےاور ضمیر سے مسلسل جنگ کرنی پڑتی ہے۔ وہ ذہنی کشمکش کے شکار ہو جاتے ہیں۔ مادہ پرستی اور افادی نقطۂ نظر غالب ہونے کی وجہ سے خود غرضی عام ہو جاتی ہے۔ افراد کو دنیا کے سکون اور آخرت کی فلاح دونوں سے محروم کردیا جاتا ہے۔ جمہوری نظریہ میں اقتدار اعلیٰ کے مالک تمام باشندگان ملک ہوتے ہیں۔ انہیں کی مرضی سے حکومتیں قائم ہوتی اور قوانین بنتے ہیں۔ مملکت پر کسی فرد، خاندان یا گروہ کی اجارہ داری نہیں ہوتی۔ عوام کے منتخب نمائندے حکومت چلاتے ہیں۔ سب کو ووٹ دینے اور امیدوار بننے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ ہر ایک کا ووٹ برابر شمار کیا جاتا ہے۔ جمہوری نظام کی کامیابی ناکامی کا دارومدار مملکت کے شہریوں کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ اس لئے جمہوریت کے علم برداروں کے نزدیک تعلیم کا مقصد افراد کو “مملکت کا اچھا بنانا” ہے۔ مادی ترقی اور معاشی خوش حالی ہی کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے، اختلافی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں ہوتا، جس کے نتائج یہ نکلتے ہیں کہ قوم کے ڈاکٹر، انجینئر، استاد تو پیدا ہوتے ہیں،لیکن ان میں ایمان داری، اخوت کی کو کرن نظر نہیں آتی ہے۔ شہریوں کو مسلسل وطن پرستی اور قومی عصبیت کا نشہ پلایا جاتا رہتا ہے۔زندگی کے تمام شعبوں میں خدا کی ہدایت سے بے نیاز بنا کر شہریوں کو فلاح دارین سے محروم کردیا جاتا ہے۔ مذہبی تعلیم کو نظر انداز کر کے لوگوں کو مذہبی واخلاق سے کاٹ دیا جاتا ہے۔
اسلامی نظریہ تعلیم: قرآن پاک کی ابتدائی آیت ’’پڑھو(اے نبی ؐ )اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا‘‘ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام میں پڑھنے پڑھانے کی کتنی اہمیت ہے۔اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ اللہ کے نزدیک ساری انسانیت کے لئے واحد مستند دین یہی ہے۔ صرف اسی کو اپنا کر انسان فلاح دارین حاصل کرسکتا ہے۔ اسلام کی نظر میں تعلیم بجائے خود منزل نہیں، منزل کے حصول کے لئے ایک ذریعہ ہے۔ اے این وایٹ ہیڑ نے یہ کہہ کر زور دیا ہے کہ ’’تعلیم کی روح یہ ہے کہ وہ مذہبی ہو۔‘‘ علامہ اقبال کا خیال بھی یہی تھا کہ اسلام ہماری زندگی اور تعلیم کا مقصد ہونا چاہیے۔ انھوں نے خواجہ غلام السیدین کو ایک خط میں لکھا تھا۔ ’’علم سے میری مراد وہ علم ہے، جس کا دارومدار حواس پر ہو۔ عام طور پر میں نے علم کا لفظ انھی معنوں میں استعمال کیا ہے اس علم سے وہ طبعی قوت ہاتھ آتی ہے، جس کو دین کے ماتحت رہنا چاہیے۔ اگر یہ دین کے تحت نہ رہے تو محض شیطنت ہے۔ مسلمان کے لیے لازم ہے کہ علم کو مسلمان کرے۔ تعلیم کا اولین مقصد یہ ہونا چاہیے کہ طلبہ میں ان کے مزہب اور نظریہ حیات کی اگلی پیدا کرے۔ زندگی کا مفہوم اور مقصد، دنیا میں انسان کی حیثیت، توحید، رسالت، آخرت اور انفرادی اور اجتماعی زندگی پر ان کے اثرات، اخلاقیات کے اسلامی ثقافت کی نوعیت اور ایک مسلمان کے فرئض اور اس کا مشن انھیں سمجھایا جائے۔ انھیں بتایا جانا چاہیے کہ وہ کس طرح اعلیٰ مقاصد کے لیے دنیا کی تمام قوتوں کو استعمال کریں۔ اسلام میں تعلیم لازمی ہے۔ تعلیم ہر ایک کے لئے ہے اور فرض ہے۔ یہ فریضہ تو حکومت کا ہے کہ وہ ان کے سامنے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرے اور انھیں علم پر آمادہ کرے۔ اس لئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’علم کا حصول ہر ایک مسلمان مرد عورت پر فرض ہے ۔‘‘اسلام مفت تعلیم کا قائل ہے۔ حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں تعلیم مفت تھی۔ آپؐ نے ہر مسلمان عالم پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ دوسروں تک علم پہنچائیں۔ اس کے علاوہ اسلامی نظامی تعلیم میں بچوں، معزوروں، خواتین کی تعلیم کا بھی ایک خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ مفید اور نفع بخش علوم کا پڑھنا پڑھانا کار ثواب شمار ہوتا ہے ۔ ’’جو شخص ایسی راہ اختیار کرے جس میں اسے علم حاصل ہو تو اس کی بدولت اللہ اس کے لئے جنت کی راہ آسان کردے گا‘‘(حدیث) ۔ اسی طرح ’’جو علم حاصل کرنے کے لئے گھر سے نکلے وہ اللہ کی راہ میں ہے جب تک واپس نہ آجائے۔‘‘(ترمذی) اسلامی نظام تعلیم میں معلم اور متعلم دونوں کی شخصیت کا احترام اور دونوں کی عزت نفس کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ امام شافعیؒ تو اپنے استاد کے گھر کی طرف پیر کرکے سونے سے بھی گریز کرتے تھے۔ دینی و اخلاقی قدروں کو مستقل حیثیت اور غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ طلبہ کی شخصیت کے تمام پہلوؤں کو ہم آہنگی سے پروان چڑھانے کی فکر کی جاتی ہے۔ طلبہ کو سادہ زندگی، محنت مشقت، اپنا کام آپ کرلینے اور خلق خدا کی خدمت کرنے کا عادی بنایا جاتا ہے۔ خدا کی خوشنودی حاصل کرنا اور خلق خدا کو نفع پہنچانا یہی حصول علم کی غرض وغایت ہوتی ہے۔ اسلام ایک طلبہ سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ دنیاوی علوم میں بھی مہارت حاصل کریں اور دینی علوم بھی۔ جس سے کل وہ جس شعبے میں بھی کام کرے گا، تو اس کے سامنے خدا کی رضا مطلوب ہو گی۔ اسلام ایسا طلبہ علم بناتا ہے جو قرآن پاک کی تعلیمات سے بھی منور ہوچکا ہے اور ساتھ ہی اپنے مضمون میں بھی خاصی مہارت رکھتا ہو۔ ان سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلامی نظام تعلیم ہی وہ جامع الصفات نظام ہے جس میں انسان کی شخصیت کی ہر پہلو اور اس کی تمام فطری قوتوں اور صلاحیتوں اور اس کی ساری ضرورت کی پوری رعایت رکھی گئی ہے۔
[email protected]