سرینگر //اسلامیہ کالج حول میں سنیچر کوشعبہ کمسٹری سے تعلق رکھنے والے تین افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں اور اسطرح 15فروری سے ابتک کالج میں تدریسی اور غیر تدریسی عملہ کے 8افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیںجن میں 2پروفیسر، 3نان فیکلٹی ممبران اور 3ملازمین شامل ہیں۔ ادھر کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شعبہ کمسٹری کوفی الحال تدریسی عمل کیلئے بند کردیا گیاہے جبکہ دیگر شعبہ جات میں معیاری ضابطہ اخلاق کا خیال رکھا جارہا ہے۔ کشمیر کے سرکاری و نجی کالجوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے سے قبل سرکار نے تمام کالجوں میں معیاری ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن اسلامیہ کالج میں مختلف سہولیات کے فقدان کی وجہ سے تدریسی و غیر تدریسی عملہ وائرس سے متاثر ہورہا ہے۔ ایک سینئر فیکلٹی ممبر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ”15فروری سے 6مارچ تک کالج میں کام کرنے والے 8افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جن میں 4افراد شعبہ کمسٹری سے تعلق رکھتے ہیں“۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ کمسٹری میں سنیچر کو مزید 3افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں کیونکہ پہلے مثبت آنے والے ملازم کے بعد شعبہ کو sanitizeنہیں کیا گیا “۔سینئر ڈاکٹر نے بتایا ” کالج میں پانی استعمال کرنے کیلئے صرف 3نل موجود ہےں جو تمام اساتذہ اور طلبہ استعمال کرتے ہیں ۔فیکلٹی ممبر نے بتایا کہ 2باغوں میں سے کسی ایک میں بھی طلبہ کیلئے پانی پینے کا انتظام نہیں جسکی وجہ سے سبھی پانی پینے کیلئے انہی نل کا استعمال کرتے ہیں جسکی وجہ سے وائرس طلبہ میں بھی پھیلنے کا خدشہ ہے۔ مذکورہ فیکلٹی ممبر نے بتایا کہ اساتذہ اور دیگر عملہ کو بھی مشکل سے ہی کبھی ماسک اور sanitizer ملتا ہے“۔ انہوں نے کہا ” کالج میں 80فیصدطلبہ کے آف لائن کلاس ہوتے ہیں لیکن معیاری ضابطہ اخلاق کی پاسداری کا کہیں کوئی خیال نہیں رکھا جارہا ہے“۔پرنسپل اسلامیہ کالج پروفیسر شیخ اعجاز نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا”اساتذہ نے یہ تشخیصی ٹیسٹ خود اپنی مرضی سے کرائے ہیں اور ہم نے پورے عملہ کو ہدایت دی ہے کہ اگر کسی کو کوئی مسئلہ درپیش ہے تو وہ گھر میں بیٹھ سکتا ہے“۔ انہوں نے کہا ” رپورٹیں مثبت آنے کے بعد ہم نے فی الحال شعبہ کمسٹری کو بند کردیا ہے“۔ ان کا کہنا تھا کہ” کالج میں تمام ایس او پیز پر عمل ہوتا ہے اور بچوں کو بغیر ماسک کے کالج میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے“۔ انہوں نے کہا” پچھلے 18ماہ سے بچوں کی تعلیم پر کافی برا اثر پڑا ہے اور اسلئے کالج کو ہر صورت میں جاری رکھا جائے گا“۔
کورونا میں بتدریج اضافہ،3ہفتوں کے دوران1510 معاملات درج
پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کی دوسری لہر میں متاثرین کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ 15فروری سے لیکر6 مارچ تک 1510افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں تاہم فوت ہونے والوں کی شرح میں کوئی زیادہ اضافہ نہیں ہوا ہے۔اس مدت کے دوران کشمیر صوبے میں 7افراد کی موت واقع ہوئی۔ پچھلے 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے 26ہزار 631 ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے79افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں اورجموں صوبے میں ایک شخص فوت ہوا ۔نئے 79معاملات میں 61کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والوں میں 44مقامی سطح پر متاثر ہوئے ہیں جبکہ18افراد بیرون ریاستوں سے لوٹے ہیں۔ 15فروری سے لیکر6 مارچ تک 1510 متاثرین میں1202کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں ۔ وادی سے تعلق رکھنے والوں میں سے784مقامی سطح پر جبکہ 479بیرون ریاستوں اور ممالک سے لوٹے ہیں۔کشمیر صوبے میں متاثرین کی مجموعی تعداد74849ہوگئی ہے۔ وادی میں ابتک 1234افراد وائرس سے فوت ہوئے ہیں۔ادھر جموں صوبے میں سنیچر کو ایک اور موت کے ساتھ مرنے والوں کی تعداد 727ہوگئی ہے جبکہ جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر 1961افراد فوت ہوگئے ہیں۔
کھاگ کے بعد لولاب کااُستاد مثبت
سکول 10روز کےلئے بند ، طلاب اور ٹیچر کورنٹین
اشرف چراغ
کپوارہ// کپوارہ کے لولاب علاقہ میں ایک سکول ٹیچرکا کوروناٹیسٹ مثبت آنے پر سکول کو 10روز کے لئے بند کر دیا گیا ہے ۔5مارچ کو کھاگ بیروہ ہائر سکنڈری سکول کے ایک استاد کا ٹیسٹ مثبت آنے پر سکول کو 5روز کےلئے بند کیا گیا تھا۔ وادی میں یکم مارچ سے 9ویں سے 12ویںجماعت کے طلاب کےلئے تعلیمی ادارے کھول دیئے گئے ہیں جبکہ چھٹی جماعت سے لیکر 8ویں تک 8مارچ سے اور پرائمری سے لیکر 5ویں جماعت تک کے بچوں کےلئے 15مارچ سے سکول کھلیں گے۔سکول کھلنے کے چوتھے روز کھاگ بیروہ کے استاد کا ٹیسٹ مثبت آیا اور سکول بند کردیا گیا اور اب لولاب کے کا نٹھ پورہ ہائی سکول میں ایک اور ٹیچر کا کو ڈ 19ٹیسٹ4روزبعد مثبت آیا جس کے بعد سکول کو 10روز کے لئے بند کرنیکا فیصلہ کیا گیا۔ مذکورہ استاد کوکورنٹین کرلیا گیا ہے اور اسکے رابطے میں آنے والے سکول کے دیگر اساتذہ اور زیر تعلیم بچو ں کا بھی ٹیسٹ کیا گیا لیکن انکے ٹیسٹ منفی سامنے آئے ہیں ۔ضلع نتظامیہ اور محکمہ صحت نے احتیاطی تدابیر کے تحت سکول میں زیر تعلیم طلاب اور اساتذہ کو 10روز کے لئے گھر کورنٹین کر دیا ہے تاکہ وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے ۔ چیف ایجو کیشن آفیسر کپوارہ عبد الحمید فانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ کہ لولاب کے کانٹھ پورہ ہائی سکول میں ایک مدرس کا ٹیسٹ مثبت آنے کے ساتھ ہی سکول میں درس و تدریس کا کام کاج 10روز کے لئے معطل کر دیا گیا ۔انہو ں نے بتا یا کہ 3روز کے بعد دو بارہ طلاب اور اساتذہ کا ٹیسٹ کیا جائے گا جبکہ 10روز تک تمام طلاب اور اساتذہ کوسرکار کی جانب سے واضح کردہ احتیاطی تدابیر کے تحت ہوم کورنٹین کیا جائے گا ۔