کینبرا//یو این آئی// آسٹریلیا کی حکومت نے تین ریاستوں میں شدید بارش کی وجہ سے علاقائی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دیا ہے ۔ملک کے بعض علاقوں میں 24 گھنٹے تک جاری رہنے والی بارش کے باعث سیلابی ریلوں کی سطح میں اضافے کا اندیشہ ہے ۔ بعض علاقوں میں موسلا دھار بارش کا پانی تقریباً 500 گھروں میں داخل ہوگیا اور اس دوران ایک شخص ہلاک اور دوسرا لاپتہ ہے ۔اس سال ملک میں شدید بارشوں سے آنے والے سیلابی ریلوں سے 20 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔آسٹریلیا کی دوسری سب سے زیادہ آبادی والی ریاست وکٹوریہ اس ہفتے سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے ۔ ریاست کے دارالحکومت میلبورن میں متعدد کمیونٹیز کو انخلاء کا حکم دیا گیا ہے ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مون سون کی بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب کے باعث اسکول بند ہیں اور تقریباً 3 ہزار گھروں اور دیگر اداروں کی بجلی منقطع ہے ۔پریمیئر ڈینیئل اینڈریوز نے کہا کہ سیلاب سے مزید گھر متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ کئی دہائیوں میں ریاست میں سیلاب کے بدترین واقعات میں سے ایک ہے ۔رپورٹ کے مطابق کئی علاقوں میں 24 گھنٹے تک موسلادھار بارش ہوئی۔ تاہم سب سے زیادہ بارش میلبورن کے شمال مشرق میں اسٹرتھ میں ہوئی۔کچھ علاقوں میں 400 ملی میٹر تک بارش کے بعد تسمانیہ کے کئی دریاؤں میں طغیانی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ کتنے گھر اور کاروبار متاثر ہوئے ہیں۔ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں تقریباً چھ سو لوگوں کو فوربس شہر سے انخلا کے لیے کہا گیا جہاں تقریباً 250 گھروں اور کاروباروں کے سیلاب میں آنے کا اندیشہ ہے ۔ اس ہفتے کے شروع میں ریاست میں سیلاب میں ایک کار ڈوبنے سے ایک شخص کی موت ہو گئی۔آسٹریلیا کے محکمہ موسمیات نے کہا کہ آنے والے ہفتوں میں مزید بارش متوقع ہے ۔