پونچھ//1947کی جبر ی تقسیم کے دوران پونچھ سے نقل مکانی کرکے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے مظفر آبا د چلے جانے والے محمد بشیر بھٹ جب 71برس بعد پونچھ واپس آئے تو انہیں اپنے بچپن میں گزراایک ایک پل یاد آیا ۔وہ اپنے بچپن کے دوستوں سے بھی ملے اور انہوں نے اس دنیا سے گزرجانے والے دوستوں کے لواحقین کے گھر جاکر تعزیت پرسی کی ۔ محمد بشیر کی پیدائش پونچھ میں 1928میں ہوئی تھی اورانہوں نے اُس وقت کے پونچھ انٹر میڈیٹ کالج اور موجودہ ہائر سیکنڈری اسکول بوائز سے 1946 میںمیٹرک کا امتحان پنجاب یونیورسٹی لاہور کے تحت پاس کیا۔1947 کی شورش میں وہ یہاں سے نقلِ مکانی کرکے مقبوضہ کشمیر کے مظفر آباد چلے گئے اور وہیںسکونت اختیار کی،جہاں اُنہوں نے اپنا تدریسی سفر جاری رکھا اور گریجویشن تک اوّل پوزیشن حاصل کرتے رہے۔ گریجویشن کے بعد شعبہ صحافت میں پوسٹ گریجویشن ڈپلومہ کرنے کے بعد اُنہوں نے کرسچن کالج لاہور سے لاءگریجویشن میں بھی نمایاں کار کردگی کا مظاہرہ کیا اور پھرپانچ دہائیوں تک وہ لاہور ہائی کورٹ میں وکالت کرتے رہے۔نوے سالہ محمد بشیر نے جب اپنے لڑکپن کے ساتھی اور ہم جماعت بابو سری رام شرما جی سے مُلاقات کی تو وہ دیکھنے لائق تھا۔ دونوں جب ایک دوسرے کے بغل گیر ہوئے تو اپنے اساتذہ و ساتھیوں کے تذکرے میں کھوگئے ۔اس دﺅران اُنہوں نے محلّہ سرائے، محلہ میاں نظام الدین حویلی (موجودہ محلہ گیتا بھوّن)، اپنے آبائی مکانات واقع محلہ گُردوارہ سنگھ سبھا، سیّد مہر شاہ بازار ( موجودہ جامع مسجد بازار)، حویلی خواجگان سنڈیکیٹ ، دیوان بازار محلہ گندی کسی، گلی جالیاں، چوک بازار ، مین بازار کا دورہ کر کے اپنے لڑکپن کی یادوں کو تازہ کیا۔اُنہوں نے اپنے پُرانے دوستوں آنجہانیان بخشی جگدیش راج بھلہ ، بخشی بھیم سین بنسی لال بھلہ، فقیر چند پنساری، ٹھاکر کرپال سنگھ چاڑک، حکیم چرنداس کپور، دیا نند کپور، بابو راجپال کپور، مرحومین ستار جو گنائی،ایڈووکیٹ محمد دین بانڈے، بابو عبدالکریم بزاز سُدھن، خان محمد میر، بابو عبد الرمضان میر اور دیگر کئی افراد کے اہلِ خانہ سے مُلاقاتیں کر کے اپنی پُرانی یادوں کو جِلا بخشی۔ موصوف نے پونچھ کی تاریخی عمارتوں قلعہ پونچھ، باغ ڈیو ڈی، منڈی ہال ( موجودہ ٹاﺅن ہال) راجہ پونچھ کا تالاب واقع محلہ کھوڑی ناڑ، مسجد میاں نظام الدین، حویلی میاں نظام الدین (موجودہ گیتا بھون)، درگاہ اعلیٰ پیر، اپنے آباﺅ اجداد کا قبرستان سیّد عبدالغفور، قدیم اسلامیہ اسکول محلہ ٹی ٹی اسکول، سٹیٹ وجے وکٹوریہ جوبلی ہائی اسکول( موجودہ گرلز مڈل اسکول سٹی پونچھ) اور ہائر سیکنڈری اسکول بوائز کا بھی دﺅرہ کرکے یاد تازہ کی۔وہ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول کے موجودہ پرنسپل سُدرشن کُمار شرما کے ساتھ اسکول کی پُرانی عمارت میں گئے ۔ان کاکہناتھا”تقسیمِ ہند کے اکہتر سال بعد اگرچہ شہرِ پونچھ کی پُرانی تعمیرات ، گلی کوچوںاور طرزِ زندگی میں کافی بدلاﺅ نظر آ رہا ہے تاہم اتنی مُدّت بعد بھی اگر کسی چیز میں بدلاﺅ نہیں آیا ہے تو وہ ہے اہلیانِ پونچھ کا تاریخی فرقہ وارانہ بھائی چارہ، محبت و اخوت اور ایک دوسرے کی غمی و خوشی کا احساس۔ یہی وہ چیز ہے جو پونچھ کو آج بھی دوسری کئی تہذیبوں سے منفرد اور سر فراز کرتی ہے۔“ محمد بشیر بھٹ کے مطابق پونچھ کے راجہ بلدیو سنگھ نے اپنے دﺅر میں تعلیم کی فراہمی کا معقول اور مُفت انتظام کررکھا تھااورخزانہ عامرہ سے اُس وقت سٹیٹ وجے ہائی اسکول اور اسلامیہ ہائی اسکول کو حکومتی امداد بھی دی جاتی تھی، تعلیمی سرگرمیوں کی دیکھ ریکھ براہِ راست پنجاب یونیورسٹی لاہور کے زیر اہتمام ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے بتایاکہ راجہ جگت دیو عوامی لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیاجس میں اُس وقت زائد از تیس ہزار کتب موجود تھیں۔موصوف نے بتایا کہ راجہ پونچھ اپنی رعایا کے ساتھ بہت اچھابرتاﺅ کرتے تھے اور تمام مذاہب کے مذہبی اجتماعات میں سبھی افراد کو شمولیت کا حُکم نامہ جاری کیا جاتا تھا۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ جشنِ میلاد النبی کے سالانہ جلوس میں سناتن دھرم سے تعلق رکھنے والے شکتی دل، سِکھ ازم سے تعلق رکھنے والے رضاکار اکالی دل اور مُسلم رضاکاروں کی تنظیم خاکساران کے شمولیت کرتے تھے اور یوں ہی رام نومی ، دسہرہ اور بیساکھی میلہ میں بھی اِن افراد کی باقاعدہ شمولیت رہتی تھی، راجہ نے اُس وقت کی ریاست پونچھ میں پن بجلی پاور ہاﺅس اور میونسپلٹی کاقیام عمل میں لا کر اپنی دُور اندیشی ، وسیع النظری اور بُلند سوچ کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے بتایاکہ عوامی تفریحات کے لئے متعدد مشاعرے،کھیل کود کے مقابلے، میلے اور عوامی نمائشوں کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا تھا جس میں لاہور تک کے پہلوان، کھلاڑی اور شعراءحضرات شریک ہوتے تھے۔موصوف نے مزید بتایا کہ پونچھ کے نامور ادبائ، شعرا ، فنون لطیفہ اور قانون دانوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا لوہا منوایاجن میںچراغ حسن حسرت اورکرشن چندر و ٹھاکر پونچھی قابل ذکر ہیں۔انہوں نے کہاکہ محلہ کماں خان پونچھ کے ماہر ِقانون سردار اقبال خان جو تقسیم ہند کے بعد پاکستان چلے گئے تھے پاکستان کے چیف جسٹس عہدہ سے ریٹائر ہوئے،اسی طرح پونچھ سے تعلق رکھنے والے معروف سیاست دان گُلزاری لال نندہ دو بار ہندوستان کے نگران وزیر اعظم رہے ہیں۔ان کاکہناتھا” میں اپنی جائے پیدائش کی مٹی اور یہاں کے عوام کا پیار و خلوص ساتھ لئے جا رہا ہوں اور اُنہیں اپنا پیغامِ محبت دے کر ’یار زندہ صحبت باقی‘ اُمید کے ساتھ رُخصت ہو رہا ہوں“۔