جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے یہاں اعلان کیا کہ جموں وکشمیر یوم الحاق جشن کمیٹی 27اکتوبر، 2018کو جموں کے ڈوگرہ ہال میں جموں وکشمیرکے 71ویں یوم الحاق کا جشن منائے گی جس میں کئی معروف اور ممتاز شخصیتیں شرکت کریں گے ۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے یہاں جموں میں منعقدہ پریس کانفرنس میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ جموں وکشمیر یوم الحاق جشن کمیٹی 27اکتوبر 2018کو ہندستان کے ساتھ یوم الحاق کا جشن مناکر جموں وکشمیر کے مستقل شہریوں کے یکجہتی کا اظہار کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس تقریب میں جموں وکشمیر کے بقیہ ملک ہندستان کے ساتھ مکمل الحاق کے لئے کیا کئے جانے کی ضرورت ہے اس کے تعلق سے ایک قرارداد بھی منظور کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر مسئلہ کا حل بیلٹ ہے نہ کہ پیلٹ۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس برس 27اکتوبر کو جموں وکشمیر کے ہندستان کے ساتھ الحاق کو 71برس مکمل ہوجائیں گے لیکن اس کے باوجود جموں وکشمیر میں نہ تو ہندستانی آئین نافذ ہے اور نہ ہی قومی پرچم۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں رہنے والے ہندستانی شہری 27اکتوبر، 1947میں مہاراجہ ہری سنگھ کے ذریعہ ہندستان کے ساتھ الحاق نامہ پر دستخط کرنے کے باوجود آج بھی ہندستانی آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق سے محروم ہیں ۔ اس الحاق نامہ کو ہندستانی پارلیمنٹ نے آج تک نافذنہیں کیا ہے اور جموں وکشمیر مسلسل عارضی دفعہ 370کے ما تحت ہے۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 35کے ساتھ "A"کو جوڑ دیا گیا جس سے جموں وکشمیر حکومت کو یہ طاقت حاصل ہوگئی کہ وہ ریاست کے لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرسکے اور 1978میں پبلک سیفٹی ایکٹ کو شامل کردیا گیا جس سے ضلعی مجسٹریٹ کو یہ طاقت حاصل ہوگئی کہ وہ کسی بھی شخص کو بغیر کسی مقدمہ کے جیل میں ڈال سکتا ہے۔ انہوں کہا کہ مجھے خود رکن اسمبلی ہونے کے باوجود جیل میں ڈال دیا گیا کیونکہ وہ پونچھ میں جموں وکشمیر کے لوگوں کے لئے انصاف اور ملازمت کی فراہمی کے لئے مظاہرہ کررہا تھا۔ اس پریس کانفرنس میں موجود دیگر لوگوں میں سینئر صحافی پی کے گنجو، انیتا ٹھاکر اور شنکر سنگھ چھب بھی موجود تھے۔