بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر میں مالی سال 2024-25کے دوران اضافی گرانٹس، فنڈس کی منتقلی اور بجٹ کے استعمال سے متعلق سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، جن میں کروڑوں روپے یا تو غیر ضروری طور پر مختص کیے گئے یا استعمال ہی نہیں ہو سکے۔جموں و کشمیر تنظیمِ نو ایکٹ 2019 کی دفعہ 44 کے تحت اضافی یا ضمنی گرانٹس کا مقصد اصل بجٹ سے زائد اخراجات کو پورا کرنا ہوتا ہے، تاہم آڈٹ جائزے میں انکشاف ہوا ہے کہ 526.86 کروڑ روپے کے ضمنی گرانٹس9معاملات میں غیر ضروری ثابت ہوئے ہیں کیونکہ اخراجات اصل بجٹ سے بھی کم رہے۔
اسی طرح 6 معاملات میں 5,714.45 کروڑ روپے کے اضافی گرانٹس بھی مکمل طور پر استعمال نہیں ہو سکے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بجٹ تخمینے حقیقت پسندانہ نہیں تھے۔آڈٹ میں فنڈز کی منتقلی (ری اپروپریشن) کے عمل پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2024-25کے دوران 32 گرانٹس کے تحت 976.66 کروڑ روپے کی منتقلی کے احکامات جاری کیے گئے، جن میں 515.73 کروڑ روپے کی منظوری بعد از وقت دی گئی۔ اس عمل کو غیر دانشمندانہ قرار دیا گیا کیونکہ کئی معاملات میں اضافی اخراجات بھی سامنے آئے۔مزید یہ کہ3 گرانٹس کے تحت 4 سکیموں میں اضافی بجٹ بھی غیر ضروری ثابت ہوا کیونکہ اخراجات اصل اور ضمنی دونوں تخمینوں سے کم رہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ بعض محکموں میں بڑے پیمانے پر رقم غیر استعمال شدہ رہی۔رپورٹ کے مطابق 2گرانٹس کے تحت 5 معاملات میں 100 کروڑ روپے سے زائد کی بچت سامنے آئی، جبکہ ایک گرانٹ پارلیمانی امور محکمہ (سرمایہ جاتی اخراجات)کے تحت 4 کروڑ کی پوری رقم مالی سال کے دوران خرچ ہی نہیں کی گئی۔رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال مالی نظم و نسق میں کمزوری، ناقص منصوبہ بندی اور بروقت فیصلوں کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ حکومت کو مشورہ دیا گیاہے کہ حقیقت پسندانہ بجٹ تخمینے تیار کیے جائیں، غیر استعمال شدہ فنڈز بروقت واپس کیے جائیں اور اخراجات کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہو سکے۔