’’اؤر ٹو جمشید مارکر‘‘ اِن الفاظ کے ساتھ کرکٹ کے معروف ترین کمنٹریٹرعمر قریشی اپنے ہمکار جمشید مارکر کو ریڈیو پہ مائیک دیتے تھے۔یہ گذشتہ صدی کے پچاس و ساٹھ کے دَہے کی بات ہے جب کہ ٹیلی ویژن کے سمعی و بصری کے بجائے صرف ریڈیو کے سمعی اثرات تھے لیکن عمر قریشی و جمشید مارکر کے الفاظ کا جادو کرکٹ کے میدان کو شایقین کے اِس حد تک قریب لاتا تھا جہاں دوری کا احساس مٹ جاتا تھا۔یہ دونوں حضرات کھیل کے داؤ پیچ اور ہر موڑ کے بیاں میں اتنے ماہر تھے کہ ایک زمانہ گذرنے کے باوجود آج بھی اُن کی یاد دلوں سے نہیں جاتی۔جمشید مارکر نے نہ صرف ایک کمنٹریٹر کی حثیت سے اپنی ساکھ بنائی بلکہ وہ پاکستان کے کہنہ مشق سفارت کار بھی بنے جہاں یہ کہا جاتا ہے کہ بحثیت سفارت کار اُن کی تعیناتی سب سے بیشتر اور حساس ترین مقامات پہ ہوئی۔
جمشید مارکر نے 94سال کی عمر میں وئیل چیر پہ زندگی گذارنے کے باوجود تاریخ و سیاسیات کے پروفیسر سید جعفر احمد کو ایک طویل انٹرویو میں پاکستان کی سر گذشت از 1947ء بیان کی ہے۔یہ تاریخی انٹرویو پاکستان کے انگریزی روز نامے ’ڈان‘ میں 4مئی 2017ء کے روز چھپا۔ جمشید مارکر نے پاکستان کے اہم ترین لیڈراں کے ساتھ کام کیا ہے اور نزدیک سے ہر سیاسی و سفارتی موڑ کے شاہد رہے ہیں۔جیسے کہ ایک زمانے میں جمشید مارکر کرکٹ کے میدان کو شایقین کے اِس حد تک قریب لاتے تھا جہاں دوری کا احساس مٹ جاتا تھاوہی آج وہ سیاسی و سفارتی میدان کو اتنے قریب لاتے نظر آتے ہیں جہاں کئی سوالات کا جواب مل جاتا ہے کئی عقدے کھل جاتے ہیں۔ ہم آج کے کالم میں جمشید مارکر کے تاثرات قارئین کے سامنے رکھتے ہوئے اُن پہ تجزیہ نگاری کے فرائض بھی انجام دینے کی کوشش کریں گے چونکہ کئی مقامات پہ جمشید مارکر کے تاثرات پاکستان اور اُس ملک کے رہبراں کے بارے میں عام نظریات سے میل نہیں کھاتے۔
جمشید مارکر جو عقیدے کے زرتشتی ہیں ارتقائی پاکستان کو خالص ایک سیاست کار و سفارت کار کے طور پہ پرکھتے ہیں جس نے اُنکے انٹرویو کا ایک علمی انداز بخشتے ہوئے اُسے انتہائی جاذب بنایا ہے۔ مارکر کا ماننا ہے کہ دہلی کے اعلی حلقوں میں 1947ء کے دوراں پاکستان کی پا پر جائی کے امکانات کو نہ ہونے کے برابر سمجھا جاتا تھا بلکہ یہ تک کہاں جاتا تھا کہ تین مہینے کے اندر اندر یہ کیسہ گدائی ہاتھ میں لئے ہوئے ہم سے واپس لئے جانے کی بھیک مانگتے نظر آئیں گے۔مارکر ایک بحث کا حوالہ دے رہے ہیں جو دہلی کے ایک اعلی پایے کے کلب میں ہندو، مسلمان و یورپین ممبراں کے مابین جولائی 1947ء میں ہو رہی تھی اور یہ سوچ دہلی کی اعلی ترین سماجی و سیاسی سطح کے تاثرات کی عکاس تھی۔جمشید مارکر یہ مانتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ نہیں تھا بلکہ اُن کا ماننا ہے کہ ہم زیرو تو دور کی بات ہے مائنس زیرو تھے ۔اِس بے سر و سامانی میںوہ قائد اعظم محمد علی جناح کے لا زوال عقیدے کا ذکر کرتے نظر آتے ہیں جن کا ارادہ آہنی تھا اور جو یہ کہتے ہوئے نظر آتے رہے کہ ’’ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہم جی لیں گے‘‘ اوراُنہوں نے انتہائی نا مساعد حالات میں جو کچھ کہا وہ کر دکھایا ۔قائد اعظم کے بعد وہ لیاقت علی خان کی جانفشانی کا ذکر کرتے نظر آتے ہیں۔
لیاقت علی خان کے بارے میں جمشید مارکر کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے ہندوستان میں ہزاروں ایکڑ کی جاگیر کے علاوہ دہلی کی بہترین بستی میں اپنا مکاں چھوڑ دیا۔ مارکر کا کہنا ہے کہ وہ وقت کے بڑے پابند تھے لیکن ایک دن جب وہ لنچ کے لئے دیر سے آئے جبکہ میرے سمیت کئی مہمان اُن کا انتظار کر رہے تھے تو اُن کی بیگم رعنا لیاقت علی خان نے اُنہیں دیرسے آنے پہ ڈانٹاجس پہ لیاقت علی خان نے جو معمولاََ دھیمے مزاج کے آدمی تھے غصے سے کہا کہ تمہیں نہیں پتہ میرے ساتھ کیا ہوا یہ بیرو کریٹ ہمیں تباہ کر کے رکھ دیں گے۔پتہ چلا کہ پراپرٹی ڈیپارمنٹ کے سیکرٹری نے لیاقت علی خان کے نام زمین الاٹ کی تھی جس پہ لیاقت علی خان نے اُسے دفتر کی کھڑکی سے باہر جگی جھونپڑیاں دکھائیںاور کہا کہ جب تم اُنہیں آباد کر لو گے تو پھر یہ فائل لے کے میرے پاس آنا۔مارکر کا ماننا ہے کہ جب تک لیاقت علی خان،فضل الرحمان،آئے آئے چندریگر اور نظام الدین جیسے لوگ بر سر اقتدار رہے تب تک بیرو کریسی کی دست درازی کی روک تھام ہوتی رہی حتّی کہ لیاقت علی خان کے آخری الفاظ یہی رہے کہ ’’اللہ پاکستان کی حفاظت کرے‘‘!
جمشید مارکر کا ماننا ہے کہ لیاقت علی خان اور مسلم لیگ کے صف اول کے رہنماؤں کے بعد بیروکریسی پاکستان پہ حاوی ہوئی اور جو بعد میں ابتر حالات رہے اُس کی ذمہ وار بیروکریسی ہے۔پاکستان کے داخلی امور پہ تبصرے کے علاوہ جمشید مارکر نے خارجی امور پہ بھر پور تبصرات کئے ہیں جس میں اُن کی سفارتی جانکاری کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک تاریخی دستاویز ماننا ہو گا۔ پاکستان کی خارجی سیاست میں کئی حساس دور آئے ہیں جن کا اثر نہ صرف بر صغیر کی سیاست پہ پڑا بلکہ مسلٔہ کشمیر بھی اُس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ پاکستان کی خارجی سیاست کے کئی اہم موڑ ہیںجن میںایک تو پاکستان بننے کے بعد ابتدائی سالوں میں امریکہ سے نزدیکی روابط ثانیاََ پاک چین روابط کی شروعات و ارتقا ثالثاََ افغان جہاد کے پاکستان پہ اثرات اور اُس کے نتیجے میں سیاسی تغیرات کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ اِن سب حساس ادوار پہ جمشید مارکر کے تبصرات کافی اہم ہیں بلکہ مانا جا سکتا ہے کئی مقامات پہ اُن کے تبصرات عام تاثرات کے منافی ہیںجن کا ذکر کتابوں میں ،مقالات میں اور تجزیہ نگاروں کے تجزیے میں آیا ہے۔
امریکہ سے روابط کا آغاز لیاقت علی خان کے دور حکومت میں ہی ہوا تھا ۔جمشید مارکر کا ماننا ہے کہ یہ خطرات سے گھرے ہوئے پاکستان کی ضرورت تھی۔وہ یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان نے امریکہ سے روابط استوار کرنے میں بھارت کو مات دی جس پہ بھارت کا عکس العمل غصے سے بھی بھر پور تھا۔یہ پوچھے جانے پہ کہ کیا پاکستان کے لئے بہتر نہیں رہتا کہ وہ مغربی بلاک سے بندھے رہنے کے بجائے غیر متحد رہتا جمشید مارکر کا یہ جواب رہا کہ پاکستان پہ جو خطرات منڈلا رہے تھے اُن کو دیکھتے ہوئے امریکہ کی پشت پناہی ضروری تھی چونکہ امریکہ فوجی و اقتصادی قوت کا حامل تھا ۔جہاں تک بھارت کے منفی عکس العمل کا تعلق ہے اُس کے بارے میں بھارت کے تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ بھارت بلاک بندی کے خلاف رہا اور خارجی پالیسی کا محور غیر متحد رہنے پہ رہا جبکہ جمشید مارکر کا تاثر یہ رہا کہ بھارت بھی امریکہ سے روابط استوار کرنے کے درپے تھا۔ شاید جمشید مارکر یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ امریکی خارجہ پالیسی کے احداف سے بندھے رہنے سے پاکستان کو جو تحفظ حاصل ہوا وہ بھارتی فوجی،سیاسی و سفارتی احداف کے برعکس تھا ۔جہاں ابتدائی روابط لیاقت علی خان کے دور اقتدار میں استوار ہوئے وہی مغربی بلاک سے بندھے جانے کا عمل محمد علی بوگرہ کی وزارت عظمی کے دوراں ہوا۔
گذشتہ صدی کے پچاس کے دَہے میں آئزن ہاورکی صدارت 1952-60)ء) کے دوران امریکہ کیلئے کمیونسٹ بلاک جس کی رہبری سوؤیت یونین کر رہا تھاکی روک تھام مسلہ مہم رہا تاکہ کمیونسٹ نظریہ فروغ نہ پائے چونکہ یہ امریکہ اور اِس سپر پاور کی رہبری میں مغربی دنیا کے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف تھا۔آئزن ہاور کے دور حکومت میں اُنکے سیکرٹری آف سٹیٹ(وزیر خارجی امور) جان فوسٹر ڈلس نے سوؤیت یونین کی فوجی حلقہ بندی کی مہم شروع کی۔امریکہ کی لیڈرشپ میں مغربی ممالک نے جہاں نیٹو فوجی اتحاد یورپی تحفظ کیلئے تشکیل دیا وہی مشرق زمیں میں سیٹو،سینٹو اور بغداد پیکٹ جیسے فوجی اتحاد تشکیل دینے میں امریکہ پیش پیش رہا۔چونکہ فوجی اتحادوں کی اِس پالیسی کے روح رواں جان فاسٹر ڈلس تھے اسلئے اِسے امریکہ کی خارجی سیاست کے تاریخی ادوارمیں ڈلس کا دور(Dullsenian era) کہا جاتا ہے۔پنڈت نہرو کی لیڈرشپ میں بھارت گر چہ غیر متحدہ تحریک سے وابستہ تھا لیکن عملاََ عالمی امور میں یہ تحریک سوؤیت احداف کے قریب تر تھی اِس حد تک کہ جان فوسٹر ڈلس اکثر نہرو کے طنز کا حدف بنتے تھے۔وہ اُنہیں ڈل،ڈلر،ڈلس (Dull, Duller, Dulles) کہتے تھے یعنی کند،کند تر و کند ترین!سوؤیت یونین جہاں ایک یورپی ملک تھا وہی سنٹرل ایشائی ممالک اُس کی دسترس میں تھے لہذا امریکہ جہاں یورپ میں سوؤیت یونین کو گھیرے جانے کا متلاشی رہا وہی ایشیا میں اُسے گھیرے رکھنے کی پالیسی رو بعمل رہی۔جہاں امریکہ کو پاکستان کی شمولیت سے ایک حلیف ملا وہی جمشید مارکر کی نظر میں پاکستان کو فوجی تحفظ فراہم رہاایک ایسے دور میں جبکہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان بے سر و سامانی کا شکار تھا ۔امریکہ کی لیڈرشپ میں فوجی پیکٹوں میں پاکستانی شمولیت کو بھارتی لیڈرشپ نے کشمیر میں رائے شماری سے مکرنے کا بہانہ بنا لیا۔امریکہ کی دوستی جہاں پاکستان کو نفسیاتی تحفظ فراہم کرنے میں کام آئی وہی یہ بھی صیح ہے کہ سوؤیت یونین نے بھارت کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھر پور ساتھ دے کر مسلہ کشمیر کو کھٹائی میں ڈالنے میں مدد کی ۔
1962ء میں ایشائی سیاست میں ہند چین فوجی تصادم سے ایک تاریخ ساز تغیر پیش آیا ۔جمشید مارکر کا ماننا ہے کہ اِس تصادم کے نتیجے میں پاکستان اور چین ایک دوسرے کے قریب آنے لگے جو کہ پاکستان کی خارجی سیاست میں ایک اورسنگ میل ثابت ہوا۔پاک چین اتحاد کو ذولفقار علی بھٹو کی کاوش مانا جاتا ہے لیکن جمشید مارکر کا کہنا ہے کہ بھٹو نے جب علامتی طور پہ ماؤکیپ (ماؤزے تنگ کے طرز کی ٹوپی) لگانی شروع کی جو پاک چین دوستی کی علامت تھی اُس سے پہلے ہی چین سے رابطہ ہو گیا تھا ۔گر چہ یہ عام تصور کے خلاف ہے لیکن جمشید مارکر کا کہنا ہے کہ روابط کی پہل حسین شہید سہروردی کے زمانے میں ہوئی تھی جب وہ 1956/57ء میں 13مہینے پاکستان کے وزیر اعظم بنے۔جمشید مارکر کا یہ بھی کہنا ہے کہ گر چہ پاک چین دوستی بھٹو کے وزیر خارجہ بننے کے بعد مضبوط ہونے لگی لیکن یہ بات نظر میں رکھنے پڑے گی کہ اصل اقتدار صدر ایوب اور جنرل ہیڈ کوارٹرز (GHQ)یعنی فوج کے ہاتھ میں تھا بہ معنی دیگر پالیسی سازی کا محور وہی تھا۔جمشید مارکر بھٹو کے بارے میں یہ بھی کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اُن کی سوچ اور اُن کی پالیسی کا محور اُن کی اپنی ذات تھی۔پاکستان کی تشکیل کے بعد امریکہ سے روابط قائم کرنا اور ہند چین اختلافات کے نتیجے میں چین سے تعلقات کی استواری جمشید مارکر کی نظر میں پاکستان کی خارجی سیاست کے دو اہم ترین موڑ رہے ۔جمشید مارکر کے بیاں سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بھارت کے مقابلے میں اقتصادی اور فوجی اعتبار سے کم مائیگی نے پاکستان کی خارجی پالیسی کی تشکیل کی اساس فراہم کی۔وہ یہ مانتے ہیں جیسا کہ عام تصور بھی ہے کہ جہاں پاکستان نے ہر مقام پہ امریکہ کا بھر پور ساتھ دیا وہی امریکہ نے حساس ادوار میں پاکستان کا ساتھ دینے میں پس و پیش سے کام لیا۔
پاکستان کی خارجی سیاست کا ایک اور اہم موڑ افغان جہاد میں شرکت تھی جو کہ صدر ضیا الحق کا فیصلہ تھا۔ جمشید مارکر یہ مانتے ہیں کہ افغان جہاد میں امریکی احداف کا بھر پور ساتھ انجام کار شدت پسندی پہ منتج ہوا اور شدت پسند فورسز صحنہ سیاست پہ چھانے لگے جس سے پاکستان کو بہت نقصان پہنچا لیکن وہ صدر ضیا الحق کے دفاع میں یہ بھی کہتے نظر آتے ہیںکہ افغان جہاد میں شمولیت ایک پالیسی کے تحت ہو ئی جس کا مدعا و مقصد یہ تھا کہ پاکستان کا ایٹمی پلان امریکی تنقید کا شکار نہ ہونے پائے۔سوؤیت یونین کا افغانستان سے انخلا امریکی خارجی پالیسی کا مہم ترین حدف رہا ۔پاکستان کے بے چوں و چرا ساتھ نے یہ ممکن بنایا جو آخر کار سوؤیت یونین کے بکھرنے پہ منتج ہوا اور امریکہ دنیا کا واحد سپر پاور بن گیا جو عالمی دور آج تک چل رہا ہے۔۔ضیا الحق نے بقول جمشید مارکر امریکہ کا افغانستان میں ساتھ دے کر پاکستان کے ایٹمی احداف کو تحفظ فراہم کیا جہاں آج پاکستان کسی بھی ملک پہ تکیہ کئے بغیر اپنا دفاع کر سکتا ہے جبکہ ماضی میں تحفظ کے حصول کیلئے پاکستان کو کبھی امریکہ اور کبھی چین کی ضرورت پڑتی تھی۔ویسے بھی کسی بھی خطے کیلئے طاقت کا توازن اہم ہوتا ہے اور یہ طاقت کا توازن ہی ہے یعنی بیلنس آف پاور جو بر صغیر کو ایک اور جنگ سے بچارہا ہے ۔ایک لمبے انٹرویو کے اختتام پہ جمشید مارکر ایک پتے کی بات کہتے ہوئے نظر آتے ہیں وہ یہ کہ ساری دنیا یہ چاہتی ہے کہ پاکستان بھارت سے قریب ہو جائے صرف بھارت ایسا نہیں چاہتا! جمشید مارکر کی یہ بات ایک گہرے تجزیے کی طالب ہے بہر حال اتنا کہا جا سکتا ہے کہ ہند و پاک میں بہتر تعلقات جہاں مسلہ کشمیر کی حل کی اساس فراہم کر سکتے ہیں وہی یہ بھی صیح ہے کہ یہ ہند و پاک کی سب سے بڑی لا چاری یعنی غربت کے خاتمے کا یہی بہترین نسخہ ہو سکتا ہے۔
Feedback on: [email protected]