۔ 5 اگست 2019 کو جموں کشمیر کے عوام کے برسوں کی مشکلات کا خاتمہ ہوا : منوج سنہا
جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو غیر ملکی سفیروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جو جموں کشمیر کے دو روزہ دورے پر آئے تھے ۔ دورے کا مقصد یونین ٹیری ٹری میں تعمیر و ترقی کو فروغ دینے اور حالات بہتر بنانے کی جانب حکومت کی کوششوں کا موقعہ پر جائیزہ لینا تھا ۔ دورے میں 24 غیر ملکی سفیر تبادلہ خیال کیلئے راج بھون گئے ۔ غیر ملکی سفیروں کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے جموں کشمیر میں ہو رہی ترقیاتی تبدیلیوں کے بارے میں انہیں جانکاری دی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے یو ٹی کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کیلئے کئی اقدامات اٹھائے ہیں اور لوگوں کے برسوں کی مشکلات 5 اگست 2019 کو ختم ہوئی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ریاست کو ایک تعمیر ترقی کے نئے دور میں داخل کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں معاشی ترقی کیلئے یونین ٹیر ٹری کے دور دراز علاقوں میں صنعتکاری کو عام کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تا کہ نوجوانوں کیلئے روز گار کے مواقعے پیدا کئے جا سکیں ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بنیادی ڈھانچہ صنعتوں ، تعلیم ، صحت ، سکل ڈیولپمنٹ ، پائیدار روز گار پر پہلے سے زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا اجتماعی مقصد عوام دوست ترقیاتی اور صنعتی پالیسیوں کو لاگو کرنا ہے ۔ خواتین کو بھی یونین ٹیر ٹری کی معاشی ترقی میں شرکت کرنے کا موقعہ فراہم کیا جا رہا ہے ۔ دہشت گردی کو انسانوں کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہمارے ہمسایہ ملک کی جانب سے امن و عامہ کی صورتحال کو بگاڑنے کیلئے لگاتار کوششوں کے باوجود حکومت جموں کشمیر کی کلہم اور یکساں ترقی کیلئے کوشاں ہے ۔اس سے قبل دورے کے دوسرے روز جموں روانگی سے قبل غیرملکی سفارتکارسری نگرمیں آرمی اور پولیس کے افسران سے بھی ملاقی ہوئے۔بادامی باغ فوجی کنٹونمنٹ میں ہوئی ملاقات کے دوران فوج کی15ویں کورکے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل بی ایس راجو اور جموں و کشمیر پولیس کے صوبائی سربراہ کشمیروجے کمار اورفوج وپولیس کے دوسرے افسروں نے اُنھیں شدت پسندی کے خطرات اور اس سے مقابلے کے اقدامات کی جانکاری دی۔
آرمی کمانڈروں اورپولیس افسروںنے غیر ملکی سفیروں کو سرحد پارکی درندازی، جنگجوئیانہ سرگرمیوں،سرنڈر پالیسی، پاکستان کی جانب سے ڈرون کا استعمال کر کے عسکریت پسندوں تک ہتھیارکی سپلائی پہنچانے اور سوشل میڈیا کا استعمال کر کے شدت پسندی کو فروغ دینے جیسے امور کی جانکاری دی۔پولیس حکام نے غیرملکی سفارتکاروں کوسیکورٹی صورتحال کے بارے میں جانکاری فراہم کی۔معلوم ہواکہ فوج اورپولیس کے اعلیٰ افسروںنے غیرملکی سفیروں کوبتایاکہ پاکستان کی کوشش ہے کہ کشمیرمیں تشدد اورہلاکتوںکاسلسلہ جاری رہے اوراسی پالیسی کے تحت سرحدپار سے پاکستانی فوج کی مکمل مددسے جنگجوئوں کی دراندازی کاسلسلہ جاری رکھاگیا ہے جبکہ شدت پسندی کوفروغ دینے اورکشمیری نوجوانوں کوگمراہ کرنے کیلئے سوشل میڈیا کاناجائز استعمال بھی کیاجاتاہے ۔انہوں نے سفارتکاروںکوبتایاکہ اب کشمیر میں امن وقانون کی صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہے ،کیونکہ لوگ تشدداورملی ٹنسی سے اکتا چکے ہیں اوروہ امن چاہتے ہیں ۔