۔ 4 برس میں سمگلنگ میں 50 فیصد کمی
سرینگر//جموں و کشمیر میں جنگلاتی جرائم کے خلاف بڑی کارروائی کے دوران 2025 میں 324 لکڑی سمگلروں کو گرفتار کیا گیا اور 149 مقدمات درج ہوئے۔ حکام کے مطابق 9600 مکعب فٹ غیر قانونی لکڑی ضبط کی گئی، جبکہ گزشتہ چار برسوں میں سمگلنگ میں 50 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرینگر میں جاری ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق 2025 کے اختتام تک وادی کے 14 جنگلاتی ڈویژنوں میں 9600 مکعب فٹ سے زائد غیر قانونی لکڑی ضبط کی گئی۔ سب سے زیادہ ضبطی بانڈی پورہ میں 1498.96 مکعب فٹ، اس کے بعد لنگیٹ میں 1495.46 مکعب فٹ اور کامراج میں 1240.11 مکعب فٹ ریکارڈ کی گئی۔ قانونی کارروائی کے لحاظ سے لنگیٹ اور جے وی ڈویڑن میں سب سے زیادہ 24 ایف آئی آر درج ہوئیں، کامراج میں 19 اور پیر پنچال میں 16 مقدمات درج کیے گئے۔ جنوبی کشمیر کے شوپیان میں 14 مقدمات میں 35 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ کل 324 ملزمان کو سال بھر میں گرفتار کیا گیا، جن میں سب سے زیادہ 67 پیر پنچال رینج سے اور 52 کامراج رینج سے تھے۔ حکام نے بتایا کہ یہ کارروائیاں جنگلاتی قوانین کے سخت نفاذ کی عکاسی کرتی ہیں۔ رپورٹ میں جنگلاتی آگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ 2025 میں 310 آگ کے واقعات رپورٹ ہوئے جن سے 880.77 ہیکٹر جنگلات متاثر ہوئے۔ سب سے زیادہ واقعات سندھ ڈویڑن میں 67 ریکارڈ ہوئے، جبکہ سب سے زیادہ نقصان کلگام میں ہوا جہاں 307 ہیکٹر سے زائد رقبہ متاثر ہوا۔ لِددر اور سندھ ڈویڑنز میں مجموعی طور پر 220 ہیکٹر سے زائد جنگلات آگ کی لپیٹ میں آئے۔ کارروائی کے دوران 24 گاڑیاں اور چار گھوڑے بھی ضبط کیے گئے جو اسمگلنگ میں استعمال ہو رہے تھے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بعض علاقوں میں یہ سرگرمیاں منظم انداز میں جاری تھیں۔ ایک سینئر جنگلاتی افسر نے کہاکہ ضبطیوں اور ایف آئی آرز میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فیلڈ عملہ جنگلاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کر رہا ہے۔ تاہم آگ کے واقعات کی بڑی تعداد تشویش ناک ہے اور اس کے لیے عوامی شمولیت اور احتیاطی اقدامات ناگزیر ہیں۔رپورٹ کے مطابق جنگلاتی محکمے، فاریسٹ پروٹیکشن فورس اور پولیس کی مشترکہ کوششوں سے گزشتہ چار برسوں میں لکڑی اسمگلنگ میں تقریباً 50 فیصد کمی آئی ہے۔ 2021 میں 18 ہزار مکعب فٹ لکڑی ضبط ہوئی تھی، 2022 میں یہ تعداد 14 ہزار رہی، جبکہ 2023–24 میں 10,290 مکعب فٹ لکڑی اور 37 گاڑیاں ضبط کی گئیں۔