ضلع مجموعی طور پر 1692تعلیمی ادارے ، 1376سرکاری اور 316نجی سکول
سید رضوان گیلانی
سرینگر// ضلع کپواڑہ میں گزشتہ چار برسوں کے دوران نجی تعلیمی اداروں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں 2019 سے 2024 کے درمیان 32 نئے نجی اسکول قائم کیے گئے ہیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ چند برسوں کے دوران طلبہ کے نہ ہونے یا انتہائی کم اندراج کی وجہ سے متعدد سرکاری اسکولوں کو آپس میں ضم کیا گیا۔ آر ٹی آئی کارکن ایم ایم شجاع کی جانب سے دائر کردہ درخواست کے جواب میں فراہم کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چیف ایجوکیشن آفیسر (سی ای او) کپواڑہ نے بتایا کہ 2019 سے 2024 کے دوران ضلع میں 32 نئے نجی اسکول قائم ہوئے ہیں۔ سرحدی ضلع میں نجی تعلیمی اداروں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔نجی اسکولوں کے اس پھیلاؤ سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں نجی تعلیم کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع کپواڑہ میں سرکاری اور نجی اسکولوں کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے جو مختلف تعلیمی زونز بشمول کپواڑہ، ہندواڑہ، لنگیٹ، کرالپورہ، ٹنگڈار، ٹریہگام، راجوار، ولگام، ماور، درگمولہ، سوگام اور خمریال میں پھیلا ہوا ہے۔نئے نجی اسکول ضلع کے مختلف علاقوں میں قائم کیے گئے ہیں، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں والدین سرکاری اداروں کے متبادل کی تلاش میں ہیں۔ حالیہ برسوں کے دوران کئی تعلیمی زونز میں متعدد نئے اسکول رجسٹر ہوئے ہیں۔تعلیمی ماہرین نے ضلع میں نجی تعلیمی اداروں کی تیزی سے بڑھتی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب گزشتہ چند برسوں کے دوران کئی سرکاری اسکول ضم کیے گئے۔ ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا،’’نجی اسکولوں کی تیزی سے بڑھتی تعداد سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے اندراج میں کمی کا بھی سبب بن رہی ہے۔ سرکاری اسکول پہلے ہی بنیادی ڈھانچے اور دیگر سہولیات کی کمی کے باعث داخلوں کے معاملے میں طلبہ کی کم دلچسپی کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ نجی اسکولوں کی تعداد میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خاندانوں کی تعلیمی ترجیحات تبدیل ہو رہی ہیں اور شہری علاقوں کے بیشتر والدین نجی اسکولوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع کپواڑہ میں اس وقت 1692 تعلیمی ادارے موجود ہیں، جن میں 1376 سرکاری اور 316 نجی اسکول شامل ہیں۔دستاویزات کے مطابق 2019 سے 2024 کے دوران محکمہ تعلیم سے 193 اساتذہ ریٹائر ہوئے، جبکہ اس عرصے میں نئے اساتذہ کی کوئی بھرتی عمل میں نہیں لائی گئی۔ دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2019 سے 2024 کے درمیان 14 اساتذہ کو محکمہ سے برطرف کیا گیا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کپواڑہ کے اسکولوں میں طالب علم و استاد تناسب (PTR) 1:16 ہے، جبکہ ضلع کے کئی اسکول اب بھی کرائے کی عمارتوں میں چل رہے ہیں۔اس سے قبل وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے کہا تھا کہ حکومت مرحلہ وار طریقے سے کرائے کی عمارتوں میں قائم اسکولوں کو مستقل عمارتوں میں منتقل کرے گی اور خالی تدریسی آسامیوں کو بھی پْر کیا جائے گا۔