جموں//وزیر تعلیم سید محمد الطاف بخاری نے کہاہے کہ خطہ پیر پنچال یا خطہ چناب میں کلسٹریونیورسٹی قائم کرنے اور راجوری میں کسی نئے کالج کے قیام کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ۔قانون ساز اسمبلی میں چودھری قمر حسین کی طر ف سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بخاری نے کہا کہ حکومت نے ریاست کے ان علاقوں میں جہاں ابھی ڈگری کالج موجود نہیں ہے، کے لئے 17نئے ڈگری کالج قائم کرنے کو منظور ی دی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ان کالجوں کے مقامات کی تفاصیل محکمہ تعلیم کی طرف سے وضع کی جارہی ہیں ۔وزیر نے کہا کہ اس وقت راجوری ضلع میں 6گورنمنٹ ڈگری کالج کام کر رہے ہیں اور وہاں ایک نیا ڈگری کالج قائم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ۔انہوں نے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پیر پنچال اور چناب خطوں میں کلسٹر یونیورسٹی قائم کرنے کا بھی اس وقت کوئی منصوبہ نہیں ہے۔انہوںنے بتایاکہ کلسٹر یونیورسٹی وزارت برائے انسانی وسائل حکومت ہند کی طرف سے منظور ہوتی ہے اوراس کیلئے پندرہ کلو میٹر کے احاطے میں تین سے پانچ کالج ہونے ضروری ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت اس وقت پہلے سے موجود کلسٹر یونیورسٹیوں جموں اور سرینگر پر توجہ دے رہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ گورنمنٹ ڈگری کالج راجوری کوموجود کلسٹر یونیورسٹیوںمیں شامل نہیں کیاجاسکتا ۔جموں یونیورسٹی میں عربی اور فارسی کے شعبے قائم کرنے پر وزیر موصوف نے بتایاکہ یونیورسٹی کیمپس اور آف سائٹ کیمپسز میں یہ شعبے قائم کئے جائیںگے اور اس حوالے سے تدریسی و غیر تدریسی عملہ کی اسامیاں معرض وجود میں لانے کا معاملہ اٹھایاگیاہے۔انہوںنے کہاکہ اسامیاں معرض وجود میں آنے اور ضرورت بنیادی ڈھانچے کی دستیابی ہونے کے ساتھ ہی نئے شعبے قائم کرلئے جائیںگے ۔
بالاکوٹ میں کالج کے قیام کی مانگ
جا وید اقبال
مینڈھر//سر حدی تحصیل بالاکوٹ کے لوگوںنے علاقے میں ڈگری کالج کے قیام کی مانگ کی ہے ۔ مقامی لوگوں کاکہناہے کہ یہاں کے طلباء کو اعلیٰ تعلیم کیلئے یاتو مینڈھر یاپھرپونچھ جاناپڑتاہے اور انہیں مقامی سطح پر یہ سہولت دی جانی چاہئے ۔ ان کاکہناتھاکہ اس حوالے سے ایوان میں بھی معاملہ اٹھایاگیالیکن متعلقہ وزیر نے جواب دیاکہ ضلع پونچھ میں پہلے ہی تین کالج موجود ہیں اس لئے ضلع میں کوئی نیا ڈگری کالج قائم کر نے کی ضرورت نہیں ۔انہوںنے کہاکہ بالاکوٹ ایک سرحدی علاقہ ہے جہاں کالج کاقیام اشد ضروری ہے لیکن افسوسناک بات ہے کہ مقامی نمائندوںنے بھی اس پر کبھی توجہ نہیں دی ۔انہوںنے کہاکہ اس سرحدی علاقے کے لوگوں کے بیشتر دن ہندوپاک افواج کے درمیان پائی جارہی کشیدگی میںہی بیت جاتے ہیں اور طلباء کو تعلیم حاصل کرنے میں مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے لیکن حکومت بھی انہیں سہولیات فراہم نہیں کررہی۔سابق سرپنچ ماسٹر عنایت اللہ خان، محمد عارف خان، شادم خان وغیرہ نے کہاکہ بالاکوٹ میں زیا دہ تر غر یب لو گ رہتے ہیں جو اپنے بچو ں کو دور دراز بھیج کر تعلیم نہیں دلواسکتے اور یہی وجہ ہے کہ بیشتر طلباء اپنی تعلیم چھوڑ دینے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ترک تعلیم سے یہاں بیروزگاری بڑھ رہی ہے اور غریب بچے اعلیٰ تعلیم سے محروم ہورہے ہیں ۔ ان کاکہناتھاکہ اس وقت تک سرحدی علا قہ میں بچیو ں کیلئے کوئی ہائراسکینڈری سکول بھی قائم نہیں کیاگیا جس سے یہ صاف ظاہر ہوتاہے کہ حکومت اس علاقے کے لوگوں کو نظرانداز کررہی ہے اور اسے ان کے مسائل پر کوئی فکر نہیں ۔