یو این ایس
سرینگر// ضلع بانڈی پورہ کے علاقے سمبل میں دریائے دریائے جہلم پر زیر تعمیر 99 میٹر طویل فٹ برج 13 برس گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہو سکا، جس کے باعث مقامی لوگوں کو روزمرہ آمدورفت کے لیے کشتیوں کا سہارا لینے یا طویل متبادل راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق سوناواری کے علاقے میں اس فٹ برج کی تعمیر تقریباً ایک دہائی سے زائد قبل شروع کی گئی تھی تاہم منصوبہ اب تک التوا کا شکار ہے جس کے نتیجے میں طلبہ، مریضوں اور عام مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی رہائشی نذیر احمدنے بتایا کہ گزشتہ 13 برسوں سے پل کی حالت جوں کی توں ہے۔ ان کے مطابق مختلف ٹھیکیدار وقتاً فوقتاً آتے ہیں، کچھ کام کرتے ہیں اور پھر منصوبہ ادھورا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں جس سے عوام کی مشکلات کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے یہاں لکڑی کا ایک پرانا پل موجود تھا جو دونوں کناروں کو آپس میں جوڑتا تھا، تاہم نئے پل کی تعمیر کے لیے اسے ہٹا دیا گیا اور اس کے بعد سے لوگوں کو دریا عبور کرنے کے لیے کشتیوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جب دریا میں پانی کی سطح بڑھ جاتی ہے تو کشتی کے ذریعے سفر کرنا مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ پل علاقے کے لیے نہایت اہم ہے اور حکومت کو جلد از جلد اس کی تعمیر مکمل کرنی چاہیے۔دریا کے آر پار کشتی چلانے والے غلام نبی نے بتایا کہ پل کی تعمیر کا کام تقریباً 2014 میں شروع ہوا تھا لیکن اس کے بعد سے پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے مطابق پرانا پل ہٹانے کے بعد لوگوں کو بڑی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی باشندوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہااور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور پل کی تعمیر جلد مکمل کروائیں۔دوسری جانب محکمہ تعمیرات عامہ سمبل کے حکام نے تاخیر کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ڈویڑن کے ایگزیکٹو انجینئر تنویر احمد کے مطابق یہ منصوبہ ابتدائی طور پر 2013 کے آس پاس شروع کیا گیا تھا تاہم 2014 کے سیلاب اور بعض تکنیکی مسائل کے باعث کام رک گیا۔انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے لیے نظرثانی شدہ ڈیٹیلڈ پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) تیار کر کے اعلیٰ حکام کو منظوری کے لیے بھیج دی گئی ہے اور امید ہے کہ منظوری ملنے کے بعد پل کی تعمیر کا کام جلد دوبارہ شروع کیا جائے گا۔