سرینگر// وادی میں بورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے12ویں جماعت کے نتائج کا اعلان کردیا ہے جس میںکامیابی کی شرح80فیصد رہی۔سائنس مضامین میں 4طالبات کو مشترکہ پہلی پوزیشن حاصل ہوئی جبکہ آرٹس میں ایک طالبہ نے صد فیصد نمبرات حاصل کئے۔ نتائج میں لڑکوںکے مقابلے میں لڑکیوںنے بازی لیتے ہوئے نہ صرف سائنس بلکہ کامرس ،ہوم سائنس اورآرٹس میں بھی امتیازی پوزیشنوں پرقبضہ جمالیا۔پہلی10پوزیشنوں پر برجمان کل155طلاب میں سے 125طالبات ہیں ۔سائنس مضامین میں پہلی پوزیشن پر چار طالبات براجمان ہیں جبکہ کامرس ،ہوم سائنس اورآرٹس مضامین میں بھی پہلی پوزیشن پر طالبات نے ہی قبضہ جمالیا۔سال2020میں لئے گئے ان سالانہ امتحانات میں مجموعی طور پر 80 فیصد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔سائنس مضامین میں 100 فیصد نمبرات حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی ہائر سیکنڈری اسکول نوگام کی عامل سعید، اقبال میموریل انسٹی ٹیوٹ بمنہ کی حفصہ ملک، کشمیر ہاروڈ ہائر سیکنڈری اسکول نسیم باغ کی عشرت مظفر اور سلفیہ مسلم انسٹی ٹیوٹ پرے پورہ کی زینب قادری شامل ہیں۔ ان طالبات نے 500میں سے 500نمبرات حاصل کئے ہیں۔بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے اعدادو شمار کے مطابق بارہویں جماعت کے سالانہ امتحان میں مجموعی طور پر58ہزار397 امیدوارشامل ہوئے جن میں 46ہزار987 کامیاب قرار دیئے گئے ہیں۔اس طرح کامیابی کی شرح 80فیصد رہی ۔ لڑکیوںکی کامیابی کی شرح82.72 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ78.46 فیصد لڑکے کامیاب ہوئے ۔ امتحان میں مجموعی طور پر 30ہزار960لڑکے اور27 ہزار437 لڑکیاں شامل ہوئے ،جن میں بالترتیب24ہزار291اور22ہزار696کامیاب ہوئے ہیں ۔کل500میںسے498نمبرات حاصل کرکے سائنس مضامین میں 6طالبات اور3طلباء نے دوسری پوزیشن حاصل کی جبکہ497نمبرات حاصل کرنے والے 6طلبہ نے تیسری پوزیشن پائی ۔کامرس مضامین میں زینت فیاض آف گورنمنٹ گرلز ہائراسکینڈری نواکدل سری نگرنے493نمبرات حاصل کرکے پہلی یاامتیازی پوزیشن حاصل کی جبکہ اس اسٹریم میں 98فیصداور97.6فیصدنمبرات حاصل کرنے والے 2طلبہ نے دوسری اورتیسری پوزیشن پائی ۔ہوم سائنس مضامین میں صبیرہ ا رشید دُخترحافظ عبدالرشید آف گورنمنٹ گرلز ہائراسکینڈری کوٹھی باغ سری نگرنے 490نمبرات لیکر امتیازی پوزیشن پائی جبکہ بالترتیب483اور482نمبرات حاصل کرنے والے طلبہ نے دوسری اورتیسری پوزیشن حاصل کی ۔آرٹس مضامین میں گورنمنٹ ہائراسکینڈری بجبہاڑہ کی خوشبو نذیر نے100فیصدنمبرات لیکر امتیازی پوزیشن حاصل کی جبکہ اسی اسٹریم میں497نمبرات حاصل کرنے والے اُمیدوارنے دوسری اور495نمبرات حاصل کرنے والے تین طلبہ نے تیسری پوزیشن پائی ۔جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے ذریعہ جاری سالانہ امتحان کے نتائج کے مطابق کل 3207طلاب کوامتیازی مقام حاصل ہوا جبکہ 17666طلاب فسٹ ڈویژن،5670طلاب سیکنڈ ڈویژن اور443طلاب تھرڈ ڈویژن میں پاس یاکامیاب ہوئے ہیں ۔
امتحان کے دوران والدین فوت
پلوامہ کی لڑکی نے غم کو شکست دی
سید اعجاز
پلوامہ //12ویں جماعت کے امتحان میں امتیازی پوزیشن حاصل کرنے والی پلوامہ کی ایک ہونہار طالبہ کے والدین دوران امتحان ہی فوت ہوئے تاہم اس نے ہمت نہیں ہاری اور موت وحیات کو اپنے تعلیمی مقصد میں حائل نہیں ہونے دیا ۔ارچرسو پلوامہ کی انشاء ظہور نے بارہویں جماعت کے امتحان میں ڈسٹنکشن حاصل کی ہے ۔ انشاء ظہور کو جب بارہویں کا امتحان سرپر تھا تو اس نے اپنے ماں اور باپ کو دونوں کو کھودیا۔امتحان کی تیاری کے دوران ہی اسکی والدہ پر دل کا دورہ پڑا اور وہ سرینگر اسپتال میں دم توڑ بیٹھی۔ انشاء کا والد اس سے ایک ماہ قبل جنگجوئوں کی صف میں شامل ہوا تھا۔اسکی والدہ نے سوشل میڈیا کے زریعہ اس سے واپس آنے کی اپیل کی تھی لیکن وہ نہیں آیا اور اس وقت18دسمبر کو فورسز کیساتھ ایک جھڑپ میں جاں بحق ہوا تھا جب انشاء کا امتحان چل رہا تھا۔انشاء کا کہنا ہے کہ دوران امتحان وہ اپنے آس پڑوس کے گھروں میں امتحان کی تیاری کیلئے جاتی تھیں کیوں کہ اپنے گھر میں اسے کافی تنائو اور ڈر و خوف محسوس ہوتا تھا ۔ انشاء نے کہا کہ والدین کے فوت ہونے کے غم نے مجھے نڈھال کیا اور میں اس قابل نہیں تھی کہ امتحان میں شرکت کرسکوں کیوں کہ والدین کی جدائی کا غم دنیا میں کسی اور غم سے زیادہ نہیں ہوتا تاہم مجھے اپنے رشتہ داروں نے حوصلہ دیا اور میرے تنائو کو کم کرنے میں اہم رول اداکیا ۔ انشاء نے کہا کہ اب میں NEETامتحان کیلئے تیاری کروں گی اور امید ہے کہ اس میں کامیابی ملے گی ۔
پہلگام میں فوت ہوئے
مبشر کو 439نمبرات حاصل
بلال فرقانی
سرینگر//12جماعت کے نتائج سامنے آنے اور اپنے لخت جگر کی کامیابی کے باوجود بھی پائین شہر کے خانیار علاقے میں ایک کنبہ خون کے آنسوں بہا رہا تھا۔وادی بھر میں جہاں والدین نے اپنے بچوں پر بیحد مسرت کا اظہار کررہے تھے وہیں ایک والدہ اپنے بچے کی کامیابی کی خبر سن کر اسکی قبر پر گئی اور وہاں گلباری کی۔12ویں جماعت کے نتائج ظاہر ہوئے تو پیر کی صبح سے ہی سماجی میڈیا پر مبشر سجاد کا مارکس کارڈ گشت کرنے لگا جس نے500 میں سے439نمبرات حاصل کئے ہیں۔ ڈھائی ماہ قبل پہلگام میں پر اسرار طور پر جاں بحق ہوئے مبشرکے پہلے درجے میں کامیابی کی خبر سنتے ہی اس کے والدین کے آہ و فغان کی صدائیں بلند ہونے لگیں مبشر سجاد اپنے دوستوں کے ہمراہ دسمبر کے آخری ہفتے میں پہلگام کی سیر پر گیا تھا، جس دوران اس کی پراسرار موت واقع ہوئی۔اہل خانہ کے مطابق28دسمبر کو مبشر نے گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں آخری سانس لی۔ پیر کو اہل خانہ کے زخم بھی رسنے لگے جب رشتہ دار اور ہمسایہ و دوست مبشر سجاد کے گھر پہنچے اور انکی کامیابی پر مبارکبادی کے بجائے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔مبشر کے والد سجاد احمد ڈار نے بتایا کہ پیر صبح سے انکے گھر میں پھر سے ماتم ہے۔ انکا کہنا تھا’’ہمارا بیٹا آج ایک بار پھر مر گیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ یہ دن پورے کنبے کیلئے خوشی کا ہوتا اگر ہمار ابیٹا ہمارے بیچ موجود ہوتا‘‘۔انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی موت کے بعد ، اہل خانہ پولیس کے ذریعہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تحقیقات کا انتظار کر رہے ہیں۔سجاد نے بتایا کہ پولیس نے ایف آئی آر نمبر 2/2021کے تحت دفعہ 304 آئی پی سی 8 / 21،20،27 کے تحت مقدمہ درج کیا جبکہ این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت ایک علیحدہ کیس بھی درج کیا گیا ہے۔