سرینگر//سابق ججوں ،تعلیمی ماہرین ،قلمکاروں ،اداکاروں اور فنکاروں سمیت مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے 3500افراد نے اترپردیش سرکار کی طرف سے ویب نیوز پورٹل ’دی وائر‘ کے بانی ایڈیٹر سدراتھ وارادرجن کے خلاف ایف آئی آر کو واپس لینے کی مانگ کی ہے ۔اپنے ایک مشترکہ بیان میں انہوں نے اس کارروائی کو صحافت کی آزادی پر حملہ قرار دیا اور مرکزی اور ریاستی سرکار پر زور دیا ہے کہ وہ سدراتھ وارادرجن کے خلاف کیس کو فوری طور واپس لے ۔مشترکہ بیان پر سپریم کورٹ کے سابق جج مدن لال لوکھر ،مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے سابق ہائی کورٹ جج کے چندرو اور پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق جج انجانہ پرکاش کے علاوہ بحریہ کے سابق 2سربراہوں ایڈمرل رام داس اور ایڈمیرل وشنو بھگوات ،سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا کے دستخط ہیں ۔ بیان میںایک مذہبی تقریب اور کوویڈ19 پرحقیقت پر مبنی خبر شائع کرنے پر اترپردیش سرکار اور وپولیس کی طرف سے The Wire اور اس کے بانی ایڈیٹر کے خلاف مجرمانہ چارجز کے تحت کیس درج کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور اسے صحافتی آزادی پر حملہ قرار دیا گیا ۔انہوں نے اترپردیش سرکار پر زور دیا کہ جلد از جلد اس ایف آئی آر کو واپس لیا جائے اور تمام کاروائی کو روکے ۔اترپردیش پولیس نے سدراتھ وارادرجن کے خلاف ٹویٹ ’جس میںا نہوں نے لکھا تھاکہ جس دن دلی میں تبلیغی جماعت کا اجتماع ہوا ،آدیتیہ ناتھ نے بھی آیودھیامیں رام جنم بھومی کے مقام پر ایک مذہبی تقریب میں شرکت کی کورونا وائرس سے بچنے کیلئے ملک گیر لاک ڈائون ہے ‘‘۔