سرینگر //کشمیر کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں آکسیجن کی سپلائی کو یقینی بنانے کیلئے 37آکسیجن پلانٹوں میں 20کی تنصیب مکمل ہوچکی ہے لیکن ان آکسیجن پلانٹوں کو چلانے کیلئے درکار تربیت یافتہ آپریٹروں کی عدم موجودگی میں میکنیکل انجینئرنگ ڈیپاٹمنٹ نے تربیت یافتہ عملہ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ’روڑ رولر‘ اور ٹریکٹر چلانے والے ڈرائیوروں’ ملازمین‘ کے علاوہ آئی ٹی آئی آٹو موبائیل میکنکوں( موٹر میکنک) کو تعینات کردیا ہے۔بنیادی طور پر ’گیس پائپ لائن آپریٹر‘ ہی آکسیجن پلانٹ کو چلا سکتا ہے، جس کے لئے ایک سال کا ڈپلومہ ہونا لازمی ہے۔مذکورہ تربیت عافتہ عملے نے یا توآکسیجن پلانٹ چلانے کیلئے کمیکل انجینئرنگ میںگریجویشن کی ہویا ایئر پروڈکٹس انجینئرنگ میں ایک سال کا ڈپلومہ لازمی ہے۔ میڈیکل آکسیجن پلانٹ چلانے والے آپریٹروں کو آکسیجن کا پریشر، گیس کی روانی ، کمپرسر اور دیگر ضروری معاملات سے آگاہی ہو نا ضروری ہے اور پلانٹ میں معمولی نوعیت کی خرابی پیدا ہونے پر وہ خود بھی مرمت کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔ آکسیجن پلانٹ چلانے والے ایک سبکدوش آپریٹر عبدالرشید نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ تربیت یافتہ آپریٹر کے بغیر میڈکل آکسیجن پلانٹ کو چلانا کظر ناک ہے کیونکہ معمولی سی چوک سی پلانٹ میں ایسی خرابی پیدا ہوسکتی ہے جس میں لوگوں روپے لگیں گے اور آپریشن معطل ہوسکتا ہے۔ محکمہ میکنیکل انجینئرنگ کا کہنا ہے کہ وہ درپیش مسائل حل کرنے میں لگے ہیں۔ صدر اسپتال، سی ڈی اسپتال، جی بی پنتھ، رعناواری،کشمیر ویلی نرسنگ ہوم اور دیگر ضلع اور سب ضلاع اسپتالوں میں آکسیجن پلانٹ چلانے والے ملازمین نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا’’میکنیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ سے ہمیں حالیہ دنوں ہی آکسیجن پلانٹوں کو چلانے کیلئے بغیر کسی تربیت کے تعینات کیا گیا ہے‘‘۔ملازمین نے بتایا ’’ سرینگر کے مختلف اسپتالوں میں چند تربیت یافتہ ملازمین موجود تھے لیکن انہیں تبدیل کرکے مختلف ضلع اسپتالوں میں تعینات کیا گیا ‘‘۔ملازمین نے بتایا’’ اسپتالوں کو آکسیجن فراہم کرتے ہوئے کئی چیزوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے جن میں آکسیجن پریشر کو برقرار رکھناانتہائی ضروری ہوتا ہے۔ ملازمین نے بتایا ’’ انہیں محکمہ مکینکل انجینئرنگ نے بغیر کسی تربیت کے مختلف اسپتالوں میں تعینات کردیا ہے لیکن ابھی تربیت کا کوئی بھی انتظام نہیں کیا گیا ہے‘‘۔ ایگزیکیٹو انجینئر مکنیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ مبشر نذیر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ عالمی وباء کے دوران ہماری ترجیح آکسیجن پلانٹوں کی تنصیب اور ان پلانٹوں کو شروع کرکے آکسیجن فراہم کرنا تھا ‘‘۔انہوں نے کہا ’’ آکسیجن پلانٹ فراہم کرنے والی کمپنی نے ہمیں 8ملازمین فراہم کئے جو آکسیجن پلانٹوں کی دیکھ ریکھ اور تنصیب میں جڑے ہوئے ہیں‘‘۔عالمی وباء کے دوران ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ ہم ملازمین کو تربیت فراہم کرکے آکسیجن پلانٹوں میں تعینات کرے ، اسلئے ہم نے محکمہ میکنیکل انجینئرنگ میں روڑ رولر اور ٹریکٹر چلانے والے چند ملازمین کو آکسیجن پلانٹوں پر تعینات کردیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ٹریکٹروں اور روڑ رولروں میں ان کو Compresserچلانا ہوتا ہے اور آکسیجن پلانٹوں میں بھی Compresserہی چلانا ہے۔ ایگزیکیٹو انجینئر کا کہنا تھا کہ ہماری پہلی ترجیح آکسیجن پلانٹوں کی ترجیح تھی تاہم ان سے چند کوتاہیاں ہوئی ہیں اور ان کو بہت جلد دور کیا جاریا ہے‘‘۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ مکینکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ اورسرکار کے درمیان کنٹریکٹ میں یہ بات پہلے سے ہی طے ہے کہ 3سال تک آکسیجن پلانٹوں کی دیکھ ریکھ کا کام کرنا ہوگا۔