زاہد بشیر
گول//جہاں پہلے سیمنٹ کا کام نومبر میں ہی بند کر دیا جاتا تھا کیونکہ سردیوں میں سیمنٹ کا کام بہتر نہیں ہوتا ہے اور اس کی مضبوطی پر شک رہتا تھا لیکن آج کل سیمنٹ کے کام کونہ صرف سردیوں میں کیا جاتا ہے بلکہ آج پانی کے بدلے برف کا استعمال کیا گیا ۔ گول کے بھیمداسہ گوئی علاقے سے مقامی لوگوں نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹھیکیدار اور محکمہ کام کو جلدی کرنے اور خزانہ عامرہ سے زیادہ سے زیادہ اور جلدی رقم نکالنے کے لئے کچھ بھی کر تے ہیں جس وجہ سے عام لوگوں کا نقصان ہوتا ہے ۔ علاقہ بھیمداسہ اور گوئی کے کئی مقامات پر بجلی کے کھمبے لگانے کا کام چل رہا ہے لیکن کئی جگہوں پر دیکھا گیا کہ سیمنٹ میں پانی کا استعمال نہیں کیا گیا بلکہ برف سیمنٹ کے ساتھ مکس کیاگیا ۔ گلزار احمد نامی شہری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ قریباً70بجلی کے کھمبے لگانے ہیں اور اس کا کام بہت ہی زیادہ ناقص چل رہا ہے تھوڑا سا سیمنٹ باجری ملا کر باقی ساری مٹی ڈال دی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ تیس برسوں سے پہلے لائن چلی اب اگر یہ ایک مہینہ رکیں گے تو کیا فرق پڑتا تب تک موسم بھی ٹھیک ہو جائے گا ۔ گلزار احمد نے کہا کہ اگر کام ٹھیک نہیں ہو گا اور ناقص ہو گا اس کی تمام تر ذمہ داری محکمہ پر عائد ہو گی اور اس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جانی لازمی ہے ۔