جموں و کشمیر کا حالیہ بجٹ ایک ایسے مرحلے پر پیش کیا گیا ہے جب خطہ انتظامی استحکام کے دعوؤں، معاشی بحالی کی کوششوں اور ترقیاتی منصوبہ بندی کے ایک نئے دور میں داخل ہونے کی بات کر رہا ہے۔ بجٹ، بظاہر، حکومتی ترجیحات اور پالیسی سمت کی عکاسی کرتا ہے، تاہم اسے حتمی کامیابی یا ناکامی کے پیمانے پر پرکھنے سے پہلے اس کے عملی پہلوؤں پر غور ضروری ہے۔یہ بجٹ غیر معمولی اعلانات یا بڑے دعوؤں سے گریز کرتا دکھائی دیتا ہے، جو ایک حد تک مثبت اشارہ ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ آیا محتاط انداز اختیار کرنا زمینی مسائل کے حجم اور عوامی توقعات سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔ جموں و کشمیر کو درپیش معاشی اور سماجی چیلنجز محض تدریجی اقدامات سے کس حد تک حل ہو سکتے ہیں، یہ آنے والا وقت ہی واضح کرے گا۔
بجٹ میں مالی نظم و ضبط پر خاص زور دیا گیا ہے۔ اخراجات میں احتیاط، وسائل کے بہتر استعمال اور آمدنی بڑھانے کی کوششیں اصولی طور پر درست سمت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ تاہم یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سخت مالی نظم و ضبط بعض اوقات ترقیاتی رفتار کو محدود کر دیتا ہے، خاص طور پر ایسے خطے میں جہاں بنیادی سہولیات کی کمی اب بھی ایک حقیقت ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کے لئے گنجائش برقرار رکھنے کی بات کی گئی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آیا مختص وسائل زمینی ضروریات کے مطابق کافی ہیں یا نہیں۔ ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ کئی منصوبے یا تو تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں یا پھر مکمل طور پر اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پاتے۔ ایسے میں محض اعلانات کافی نہیں بلکہ عمل درآمد کی حکمت عملی زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔
نوجوانوں کا روزگار جموں و کشمیر کا ایک دیرینہ اور حساس مسئلہ ہے۔ بجٹ میں ہنرمندی، خود روزگاری اور نجی شعبے کے کردار پر زور دیا گیا ہے، جو نظری طور پر ایک درست سوچ ہے۔ تاہم عملی سطح پر یہ اقدامات کس حد تک روزگار کے ٹھوس مواقع پیدا کر پائیں گے، اس پر شکوک اپنی جگہ موجود ہیں۔سٹارٹ اپس اور خود روزگاری کی حوصلہ افزائی اس وقت مؤثر ثابت ہو سکتی ہے جب اس کے ساتھ سازگار ماحول، مالی سہولتیں اور مارکیٹ تک رسائی بھی فراہم کی جائے۔ بصورت دیگر، یہ خدشہ برقرار رہتا ہے کہ روزگار کے مسئلے کا بوجھ ایک بار پھر نوجوانوں پر ہی ڈال دیا جائے۔
تعلیم اور صحت کو بجٹ میں ترجیحی شعبوں میں شامل کیا جانا ایک مثبت امر ہے، لیکن ان شعبوں میں اصل مسئلہ محض فنڈس کی فراہمی نہیں بلکہ تسلسل اور معیار کا ہے۔ تعلیمی اداروں کی بہتری، ڈیجیٹل سہولیات اور تدریسی اصلاحات اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتیں جب تک زمینی سطح پر تعلیمی خلل، اساتذہ کی کمی اور معیارِ تعلیم جیسے مسائل حل نہ کیے جائیں۔
اسی طرح صحت کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی توسیع خوش آئند ہے، مگر دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں طبی عملے کی کمی، سہولیات کی عدم دستیابی اور علاج کے بڑھتے اخراجات جیسے مسائل بدستور توجہ کے متقاضی ہیں۔ بجٹ میں ان مسائل کا ذکر تو ملتا ہے، مگر ان کے عملی حل کی وضاحت محدود نظر آتی ہے۔
زراعت اور باغبانی پر توجہ دینا جموں و کشمیر کی معاشی حقیقتوں کے مطابق ہے۔ کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور جدید تکنیکوں کے فروغ کی بات بجٹ میں کی گئی ہے، تاہم کسان طبقہ اس وقت صرف پالیسی اعلانات نہیں بلکہ فوری اور مؤثر اقدامات کا منتظر ہے۔اسی طرح باغبانی، خصوصاً سیب کی صنعت، کئی ساختی مسائل سے دوچار ہے، جن میں مارکیٹنگ، نقل و حمل اور قیمتوں کا عدم استحکام شامل ہے۔ بجٹ ان مسائل کو جزوی طور پر تسلیم کرتا ہے، لیکن ان کے حل کےلئے جامع حکمت عملی کا فقدان محسوس ہوتا ہے۔
خواتین اور کمزور طبقات کے لئے سماجی بہبود کی سکیمیں بجٹ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ تاہم ماضی کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ان سکیموں کا فائدہ اکثر محدود طبقے تک ہی پہنچ پاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان پروگراموں کے نفاذ میں شفافیت اور نگرانی کے مؤثر نظام کو یقینی بنایا جائے۔
جموں و کشمیر کے حالات میں بجٹ کی کامیابی کا دارومدار بڑی حد تک اعتماد کی بحالی پر ہے۔ بہتر طرزِ حکمرانی، شفافیت اور جواب دہی پر زور اپنی جگہ اہم ہے، مگر عوام ان نعروں کو عملی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور وسائل کے منصفانہ استعمال کے بغیر اعتماد بحال ہونا مشکل ہے۔مجموعی طور پر حالیہ بجٹ کو نہ مکمل طور پر غیر معمولی قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے محض رسمی کارروائی کہہ کر نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک محتاط، نسبتاً متوازن دستاویز ہے جو درست سمت کی نشاندہی ضرور کرتی ہے، مگر کئی سوالات بھی چھوڑ جاتی ہے۔
اب فیصلہ کن مرحلہ اس بجٹ کے نفاذ کا ہے۔ اگر حکومتی وعدے عملی شکل اختیار کرتے ہیں اور منصوبے زمینی سطح پر نظر آتے ہیں تو یہ بجٹ جموں و کشمیر کیلئے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر، یہ بھی ماضی کی کئی دستاویزات کی طرح امید اور حقیقت کے درمیان معلق رہ جانے کا خدشہ رکھتا ہے۔