اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاشورہ کے دن کی بہت اہمیت ہے۔ عاشورہ کے دن اﷲ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور جنت میں داخل کیا ۔ اِسی دن اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اﷲ عنہا کو زمین پر اُتارا۔ عاشورہ کے دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کوہ جودی پہاڑ پر ٹھہری اور آپ علیہ السلام اور ایمان والے کئی مہینوں بعد کشتی سے زمین پر اُترے۔ عاشورہ کے دن بنی اسرائیل نے دریا پار کیا اور اُن کو فرعون سے نجات ملی۔اِن واقعات کے علاوہ بھی بہت سے اہم واقعات یوم عاشورہ میں پیش آئے۔ ابھی تک انسانی تاریخ کا سب سے اہم اور دردناک واقعہ اِسی دن پیش آیا ہے اور وہ ’’واقعہ کربلا‘‘ ہے ۔ اِس واقعہ میں سیدالانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کو عاشورہ کے دن چُن چُن کر بے دردی سے شہید کیا گیا ہے ۔اِس دردناک واقعہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے نواسے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے اہل کو اور آپ رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا گیا۔عاشورہ کے دن حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ بھوکے پیاسے شہید ہوئے۔
’’یوم عاشورہ‘‘ اﷲ کے نزدیک پہلے بھی اہم تھا اور ابھی اہم ہے اور اﷲ تعالیٰ عاشورہ کے دن ہماری زمین پر ہونے والا ’’سب سے عظیم واقعہ‘‘ برپا کریں گے۔ یہ ’’سب سے عظیم واقعہ‘‘ قیامت برپا ہونا ہے جس کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں متعدد جگہوں پر ذکر فرمایا ہے۔ اِس عظیم واقعہ کی ہولناکیاں اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جگہ جگہ بیان فرمائی ہیں۔ اُن ہولناکیوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کے دن ہماری زمین چیتھڑوں میں تبدیل ہوجائے گی ۔ اﷲ تعالیٰ کے فرامین کے مطابق قیامت کے دن تمام پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اُڑیں گے۔ ہماری پوری زمین پر ہر طرف پہاڑ دھنسے ہوئے ہیں جن کے اوپر مٹی کی تہہ جمی ہوئی ہے۔ جب پہاڑ ہی نہیں بچیں گے تو ہماری زمین کی اوپری سطح ہی نہیں رہے گی۔ یہ بہت ہی عظیم واقعہ ہوگا اور زمین پر زندگی کے خاتمے کا دن ہوگا۔اِس عظیم واقعہ کو برپا کرنے کے لئے بھی اﷲ تعالیٰ نے ’’یوم عاشورہ‘‘ کا انتخاب کیا ہے۔ہماری زندگی میں عاشورہ کا دن بھی عام دنوں کی طرح آتا ہے اور چلا جاتا ہے اور ہم دنیا میں مگن رہتے ہیں۔