دنیا کی تاریخ میں ہندوستان کی تحریک آزادی کی روداد ایک نئے اور شاندار باب کا اضافہ کرتی ہے جو دوسرے ملکوں کی آزادی کے حصول کے لئے کی جانے والی جد و جہد سے بالکل مختلف ہے۔ اس تحریک کے مختلف زمانوں میں مختلف رہنما میدان میں آتے رہے اور اپنا اپنا کردار ادا کر کے رخصت ہوتے رہے ۔رہنماؤں کی اس طویل فہرست میں محی الدین احمد فیروز بخت مولانا ابوالکلام آزاد کا نام سر فہرست ہے جنہوں نے مکہ جیسے محترم شہر میں11؍نومبر1888 کو اپنی آنکھ کھولی اور چھوٹی ہی عمر میں علم و دانش کی وہ تمام منزلیں طے کر لیں جن تک پہنچنے کے لئے عام لوگوں کو عمریں درکار ہوتی ہیں ،ان کی بہن نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ ’’مولانا آزاد نے بچپن نہیں دیکھا‘‘چھ ،سات برس کی عمر سے ہی معلوم ہوتا تھا کہ ننھے کاندھوں پر ایک سر ہے جس میں ایک بڑا اونچا دماغ ہے ۔ امام الہند مولانا ابولکلام آزاداُن چند تاریخ ساز ہستیوں میں سے ہیں جن سے بیسویں صدی کی شناخت ہوتی ہے ۔مرحوم کی شخصیت اتنی ہمہ گیر اور پہلو دار تھی اور انہیں اتنے علوم پر دسترس حاصل تھی کہ اس معاملے میں ان کے معاصرین میں ان کا ہمسر مشکل سے ہی ملے گا ۔مولانا عالم دین ،مفسر قرآن اور صحافت کا روشن مینار تھے ۔وہ ہندوستانی سیاست کے عظیم رہنما ،مفکر،مدبر، دانشور،ماہر تعلیم ،انشا پرداز ،صاحب طرز ادیب ،انساں دوست،قوم پرست اور محب وطن تھے۔
مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی کے خیال میں ’مولانا آزاد ہندوستانی سیاست اور ہماری قدیم تہذیب و ثقافت کا ایک ستون تھے ۔ان کا حافظہ ،ان کی غیر معمولی ذہانت ،ان کی حاضر دماغی اور بیدار مغزی ،ان کی ادبیت اور ان کی انشاء پردازی جو کسی وقت اور کسی جگہ ان کا ساتھ نہیں چھوڑتی ،ان کے اپنے مطالعہ اور معلومات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی عجیب و غریب صلاحیت ،ان کی سیاسی بصیرت اور دوربینی ،ان کے اپنے خیالات میں پختگی اور اپنے مسلک پر ثابت قدمی و استقامت اور لوگوں کی مدح و تنقید سے بے پرواہی ،ان کی خود داری اور عزت نفس ہر شبہ سے بالا تر اور ہر اختلاف سے بے نیاز تھی‘۔(پرانے چراغ)، اسی طرح بلبل ہند سروجنی نائیڈو نے بھی ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے کتنی اچھی بات کہی تھی کہ مولانا کی عمر ان کی ولادت کے وقت ہی پچاس برس کی تھی ۔
مولانا ابوالکلام کو تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد ہی اپنے والد سے شدید فکری اختلاف پیدا ہو گیا تھا ،جو ان کے والد کے عتاب کا باعث بنا اور اسی کے نتیجہ میں انہوں نے کلکتہ چھوڑ دیا ۔بمبئی میں اتفاق سے ان کی ملاقات مولانا شبلی سے ہو گئی ۔مولانا پہلی ہی ملاقات میں ان کی غیر معمولی ذہانت اور دیگر خوبیوں سے متاثر ہو گئے اور ان کو اپنی تربیت میں لے لیا اور ندوہ میں اپنے ساتھ کچھ دنوں قیام کی ترغیب دی ،جس کے لئے وہ راضی ہو گئے او رفوراً ہی ندوہ آگئے ۔لکھنے پڑھنے کی صلاحیت ان میں پہلے سے تھی ۔رفتہ رفتہ مولانا کو ان کی صلاحیت پر اتنا اعتماد ہو گیا کہ ان کو رسالہ الندوہ کی مجلس ادارت میں شریک کر لیا اور ان کو اس کا سب ایڈیٹر بنا دیاجو ان کے لئے بہت غیر معمولی بات تھی ۔
مولانا آزاد کے علمی اور ادبی اکتساب کی طویل فہرست میں جس فن کا سر سری طور پر ذکر کیا جاتا ہے وہ ان کی شاعری ہے ۔بظاہر اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ خود مولانا نے بھی شاعری کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اپنے لڑکپن ہی میں اس شوق سے سر سری گذر گئے ۔کم عمری کے ابتدائی کلام کے مطالعہ سے اتنا ضرور واضح ہو جاتا ہے کہ ان کی طبیعت کو شاعری سے فطری مناسبت تھی اور یہ ذوق بھی ودیعت خداوندی تھا ۔شمس العلماء مولانا الطاف حسین حالی نے یاد گار غالب میں لکھا ہے کہ ’’ہندوستان میں تین عظیم ہستیاں گذری ہیں ۔امیر خسرو،فیضی اور اسد اللہ خاں غالب‘‘۔مولانا حالی ہمارے عہد میں ہوتے تو ان عظیم ہستیوں میں محی الدین احمد ابوالکلام آزاد کا نام ضرور شامل کرتے ۔مولانا آزاد کی جامع الکمالات شخصیت علوم و فنون کے اتنے روشن پہلوؤں سے عبارت ہے کہ بقول سلمان شاہجہانپوری:’’مولانا ابوالکلام آزاد کا نام زباں پر آتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ کسی ایک شخص کا تذکرہ نہیں ہو رہا ہے بلکہ بیک وقت کئی اشخاص زیر بحث ہیں اور ان میں سے ہر شخص اپنے فن میں یکتائے روزگار اور شہنشاہ علم و فن ہے ‘‘۔
مولانا کے دور وزارت میں متعدد ایسے ادارے قائم ہوئے جو آج ہمارے تعلیمی نظام کی کامیابی اور وقار کی ضمانت ہیں ۔ادارہ سازی کی روایت قائم کرنا خاصا دشوار عمل ہے مگر مولانا کی مجتہدانہ شان وزارت تعلیم کے زیر اہتمام ان اداروں کے قیام میں جلوہ فگن ہے ۔یوجی سی ،یونیورسٹی ایجوکیشن کمیشن،،سکنڈری ایجوکیشن کمیشن،آل انڈیا کونسل برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن،انڈین کونسل برائے ایگریکلچر اینڈ ریسرچ ،انڈین کونسل برائے کلچرل ریلیشنز ،انڈین کونسل برائے سائنس ریسرچ،انڈین کونسل برائے انٹرنیشنل ریسرچ،انڈین کونسل برائے ہسٹوریکل ریسرچ۔ تعلیم کے پہلو بہ پہلو وہ فنون لطیفہ اور ثقافتی سرگرمیوں کے بھی سرپرست رہے اور ان ثقافتی اداروں کی بنیاد ڈالی۔ساہتیہ اکادمی ،سنگیت ناٹک اکادمی اور للت کلا اکادمی۔بحیثیت وزیر تعلیم مولانا نے متعدد مواقع پر فکر انگیز ،بلیغ خطبات دئیے ۔یہ خطبات ان کے تعلیمی افکا ر کے نقد و نظر کے اہم ماخذ ہیں ۔مولانا نے اپنی ابتدائی صحافتی زندگی کا آغاز ’الہلال‘کے اجرا کے بہت قبل جب ان کی عمر محض گیارہ سال کی تھی کر دیا تھا۔1899کے اواخر سے لے کر 13جوالائی 1912تک کا پورا وقفہ صحافتی زندگی اور ذمہ داریوں کی مشق کا زمانہ تھا اور اس تمام مدت میں انہوں نے اپنے فکرو فن کو مختلف رسائل و اخبارات سے منسلک رہ کر مشق بہم پہنچائی تھی اور اسی ساری مشق و محنت ،فکر و نظر کا یہ نتیجہ تھا کہ ’الہلال‘بہت ہی تھوڑی مدت میں دعوت دینیہ اسلامیہ کے احیا اور درس قرآن و سنت کی تجدید کا نہ صرف ترجمان بلکہ اسی کے ساتھ ساتھ اعتصام بحبل اللہ المتین اور وحدت کلمۂ امت مرحومہ کا لسان اور واعظ بن گیا ۔
1947کے تہلکے میں تقسیمِ ہند اور فسادات کے وقت اگر مولانا آزاد کی شخصیت نہیں ہوتی تو ملک میں مسلمانوں کے مستقبل کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا اور اس طرح خود ملک کا مستقبل مشکوک ہو جاتا ۔آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کے ان بڑے بڑے علمی ،تعلیمی اور تہذیبی اداروں کا تحفظ مولانا آزاد کی کوششوں سے ہوا جنہوں نے جدید ہندوستان کی تاریخ بنائی ہے ۔مولانا نے ایک بہت ہی پر خطر ماحول میں مسلمانوں کی سیاست اور اجتماعی زندگی کی شیرازہ بندی اس مدبرانہ انداز سے کی کہ ملت اسلامیہ کا وہ انتشار دور ہو گیا جس میں مبتلا ہو کر وہ اپنے وجود سے مایوس ہونے لگی تھی ۔تقسیم ہند کے وقت مسلم سیاست پراگندہ عناصر کو مولانا کے عزم و تدبر نے ایک قومی دائرے میں منظم کر کے انہیں ضائع ہونے سے بچا لیا اور با اختیار طریقے پر کا م کرنے کا موقع دیا۔مولانا کے اس جرأت مندانہ اقدام نے برطانوی ہند کی مسلم سیاست کی پیشانی پر لگے ہوئے فرقہ پرستی کے داغ کو ایک حد تک مٹا دیا اور اس سیاست کا شکار مسلم عوام کے جینے کا حوصلہ دیا ۔یہ مولانا کی گہری سیاسی بصیرت کے ساتھ ساتھ ان کے اعلی ظرف اور زندہ ضمیر کا سب سے بڑا ثبوت تھا ۔ہندوستانی قوم کے ایک طبقے کی حیثیت سے ملت اسلامیہ کے افراد کی با عزت زندگی کا سامان کرنے کے لئے مولانا آزاد نے ان ساری گالیوں کو فراموش کر دیا جو انہیں مسلم لیگ کے محاذ سے دی گئیں تھیں اور اپنے ستانے والوں کو اس طرح گلے لگا لیا کہ قوم پرستی کی فتوحات کے نشے میں سر شار اصحاب اقتدار بھی ان لوگوں سے انتقام نہیں لے سکے جنہیں وہ فرقہ پرست کہہ کر تقسیم ہند کا ذمے دار قرار دیتے تھے۔
مولانا ابولکلام آزاد بیسویں صدی کے اوائل میں غلام ہندوستان کے اندر اسلام کے احیا،مسلمانوں کی اصلاح،ملت کی تجدید اور ملک کی آزادی و ترقی کا پیغام لے کر اٹھے ۔وہ دراصل پورے مشرق کی نشاۃ ثانیہ اور اس کے ذریعے عصر حاضر میں انسانیت کی نئی تعبیر و تعمیر کے علم بردار تھے ۔اپنے بلند مقاصد کے حصول کے لئے انہوں نے صحافت و خطابت اور تصنیف و تالیف سے سیاسی اقدام و عمل تک کے وسیلے اور طریقے اختیار کئے ۔انہوں نے ایک ہندوستان گیر تحریک اٹھائی ،ایک آفاقی تعلیم دی اور عملی تنظیم کی بھی کوشش کی ۔ان کی جد و جہد کا محاذ جمعیۃ العلماء سے کانگریس تک کا تھا ۔ان محاذوں اور دیگر سطحوں سے انہوں نے وقت کے مختلف اہم موضوعات پر متنوع بیانات دیئے جن کا معتدبہ حصہ محفوظ ہے۔مولانا کے اقدامات کی روداد بھی بڑی حد تک موجود ہے ۔اول تو مولانا کی مختلف حیثیتیں ہیں ،وہ عالم دین ہیں ،صحافی ہیں ،ادیب ہیں ،شاعر ہیں،مفسر ہیں ،خطیب ہیں،ملی رہنما ہیں ،قومی سیاست ہیں ،جنگ آزادی کے ہیرو ہیں ،راہ حق کے مجاہد ہیں،برطانوی سامراج کے قیدی ہیں ،جمہوری ہندوستان کے وزیر ہیں ،دوسرے مولانا کی سرگرمیوں کے مختلف مراحل ہیں ،وہ ایک وقت میں امام الہند بھی کہلائے ،جب کہ اس کے بعد وہ آل انڈیا کانگریس جیسی سیاسی تنظیم کے بار بار صدر ہوئے اور آزادی سے قریب ترین زمانے میں طویل مدت کے لئے صدر رہے۔سوالات اٹھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مولانا آزاد فرقہ پرست تھے یا قوم پرست ،اسلام پسند تھے یا فقط جمہوریت پسند ،محض تخیل پرست تھے یا مرد میدان ،محدود نظر تھے یا آفاقی؟حد یہ ہے کہ مولانا کی سیاسی جد و جہد کے ساتھ ساتھ ان کے دینی اجتہادات کے متعلق بھی کچھ شبہات ظاہر کئے گئے ہیں ۔مولانا کی سوانح و سیرت پر بھی تنقیدیں ہوئی ہیں۔یہ سب کچھ یقینا مولانا آزاد کی عظمت کی دلیل ہے ۔وہ ایک وسیع ذہن ،متحرک کردار اور ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے ۔ان کی دلچسپیاں اور سرگرمیاں متنوع تھیں ۔ان کے نقطۂ نظر کی متعدد جہتیں تھیں ،ان کے کاموں کے مختلف پہلو تھے ۔بے شمار ایسے لوگوں سے ان کے تعلقات رہے جن کی طبیعتیں الگ الگ تھیں ،لا تعداد ایسے لوگوں نے ان کے اثرات قبول کئے جن کے مزاج جداگانہ تھے ۔ہر قسم کی باتوں اور ہر طرح کے لوگوں کے لئے مولانا کے ذہن میں بہت سے خانے بنے ہوئے تھے اور ان کے کردار میں گنجائشیں موجود تھیں ۔جن افراد سے مولانا کو اپنے مختلف ادوار و احوال میں سابقہ پڑا ان میں اہل قلم بھی ہیں ۔ہر اہل قلم نے مولانا کی شخصیت یا اس کے کسی گوشے کا مطالعہ اپنے انداز سے کیا ہے ۔
آپ کی یوم پیدائش ۱۱؍نومبر کو قومی سطح پر یوم تعلیم کے طور پر پورے ملک بھر میں نہایت عقیدت سے منایا جاتا ہے،آپ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے ہندوستان میں مختلف تعلیمی ادارے ان کے نام سے منسوب کئے گئے ہیں جو ملک کے گوشے گوشے میں علم و ادب کی روشنی پھیلا کر ملک سے ناخواندگی کو دور کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں ،ان میں خصوصی طور پر مندرجہ ذیل اداروں کا نام لیا جا سکتا ہے جیسے مولانا آزاد نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنا لوجی بھوپال( MANIT)، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد(MANUU)،مولانا آزاد میڈیکل کالج نئی دلی،مولانا آزاد انسٹی ٹیوٹ آف ڈینٹل سائنسز نئی دلی،مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن نئی دلی ،مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
(مضمون نگارمولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآبادمیں ایم سی اے کے طالب علم ہیں)