راجوری //راجوری ضلع میں حالیہ دنوں ہوائی راستے سے اسلحہ کی رسائی کے بعد سیکورٹی فورسز کیلئے دونوں سرحدی پہاڑی اضلاع میں ایک نیا چیلنج شروع ہو گیا ہے ۔راجوری ضلع کے تھنہ منڈی سب ڈویژن میں جمعہ کے روز برآمد ہوئے اسلحہ کے بعد سیکورٹی فورسز ایک مرتبہ پھر سے اس چیلنج کیساتھ نمٹنے کیلئے متحرک ہورہی ہیں تاہم سرحدسے کئی کلو میٹر دور ہوائی راستے سے اسلحے کی رسائی تشویش ناک ہے ۔سرکاری ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ تھنہ منڈی میں پیش آئے واقعہ کے بعد سیکورٹی فورسز کیلئے ایک نیا اور بڑا چیلنج پیدا ہو گیا ہے جبکہ علاقہ میں اسلحہ کی ہوائی رسائی تشویش ناک ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ہوائی راستہ سے اسلحہ پہنچایا جانا انٹر نیشنل باڈر کیساتھ ساتھ حدمتارکہ کے قریبی علاقوں میں ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے ۔انہوں نے بتایا تازہ واقعہ سے بعد اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ راجوری او ر پونچھ اضلاع میں مذکورہ طریقہ کار سے اسلحہ کی رسائی کی کوششیں جاری ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ تازہ واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں جبکہ اس سلسلہ میں تمام اطلاعات جمع کی جارہی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ ڈران و دیگر ہوائی خلاف ورزی کے سلسلہ میں کوئی اطلاعات راجوری میں موصول نہیں ہوئی تاہم اس کے باوجود دو ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں پہاڑی علاقوں سے فورسز نے اسلحہ برآمد کیا ہے ۔اس نوعیت کا پہلا واقعہ 19اور 20ستمبر کی درمیانی شب پیش آیا تھا جبکہ گزشتہ دونوں تھنہ منڈی سے بھی مذکورہ نوعیت کا واقعہ پیش آنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔اس کے علاوہ مینڈھر سب ڈویژن کی بالا کوٹ تحصیل میں 22نومبر کو ایک واقعہ پیش آیا تھا جبکہ راجوری میں پیش آئے پہلے واقعے کے سلسلہ میں تین ملی ٹینٹوں کو بھی گرفتار کیاگیا تھا ۔تھنہ منڈی واقعہ کے سلسلہ میں انتظامیہ نے جانکاری فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں ایک رسی کیساتھ ساتھ پیکنگ مٹریل بھی استعمال کیا گیا ہے ۔