سیتا رمن کی بدعنوانی کے خلاف سخت رویہ اپنانے کی ہدایت
یو این آئی
ممبئی//مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے ہفتہ کے روز مالیاتی شعبے میں ضابطہ بندی کے تحت آنے والے اداروں سے اپیل کی کہ وہ سائبر سکیورٹی کے خطرات کے حوالے سے انتہائی محتاط رہیں۔ایک معروف مصنوعی ذہانت کمپنی کے نئے پلیٹ فارم کا نام لیے بغیر سیتارمن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے آلات سائبر حملوں کو زیادہ تیز اور موثر بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے آلات خودکار طریقے سے نظام کی کمزوریوں کو تلاش کر سکتے ہیں اور بدنیتی پر مبنی سورس کوڈ میں مداخلت جیسے طریقوں کے ذریعے شناخت سے بھی بچ سکتے ہیں۔ہندوستانی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ (سیبی) کے 38ویں یومِ تاسیس کے موقع پر سیتارمن نے کہا کہ کسی بھی شیئر بازار یا ڈیپازٹری پر ایک بھی سائبر حملہ اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتا ہے اور عام لوگوں کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی نئے اور جدید آلات کی آمد سے خودکار سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس سے سائبر سکیورٹی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔انہوں نے اعتماد اور دیانت داری کو بازار کی “غیر مرئی مگر سب سے اہم بنیادی ڈھانچہ” قرار دیتے ہوئے مارکیٹ ریگولیٹر سیبی (ایس ای بی آئی) کو بدعنوانی کے خلاف سخت رویہ اپنانے کی ہدایت دی۔وزیرِ خزانہ نے سیبی سے درخواست کی کہ وہ عالمی ریگولیٹری اداروں کے ساتھ باقاعدہ مشاورت کے نظام کو ادارہ جاتی شکل دے، ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ ہندوستانی ضوابط کو دوسرے ممالک کی نقل نہیں کرنی چاہیے۔ سیتارمن نے ہندوستان کی سیکیورٹیز مارکیٹ کی ترقیاتی سفر میں حاصل ہونے والی بڑی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سفر قابلِ ذکر رہا ہے اور آج ہندوستانی بازار ایک مضبوط، ٹیکنالوجی پر مبنی اور عالمی سطح پر مسابقتی نظام کے طور پر دنیا کے بہترین بازاروں میں شمار ہوتا ہے۔غیر ملکی سرمایہ کے بہاو کو لے کر پیدا ہوئی بے چینی کے درمیان انہوں نے کہا کہ ریگولیٹرز کے درمیان اس طرح کا مکالمہ عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھا سکتا ہے۔سیتارمن نے مالیاتی نظام میں تمام خدمات کے لیے مشترکہ “اپنے صارف کو جانیے” (کے وائی سی) نظام کی طرف بڑھنے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، “یہ تمام فریقین کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ کسی بھی شہری کو مختلف مالیاتی مصنوعات اور پلیٹ فارمز پر ایک ہی تصدیقی عمل کو بار بار نہ دہرانا پڑے۔وزیرِ خزانہ نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے تحفظ کو ایک “دفاعی عمل سے ترقیاتی عمل” میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے میونسپل کارپوریشن بانڈز کو فنڈ جمع کرنے کے ایک مو?ثر ذریعہ بنانے کے لیے سنجیدہ کوششوں پر بھی زور دیا۔